لانگ مارچ: کون کون سے PTIرہنما گرفت میں آنے والے ہیں؟

خیبر پختونخوا کی سیاست ایک ایسے نازک اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں آنے والے چند دن نہ صرف پاکستان تحریک انصاف بلکہ صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان بڑھتی کشیدگی کا رخ بھی متعین کر سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق صوبے میں سیاسی تناؤ کے پیش نظر پی ٹی آئی کی بعض اہم شخصیات کو گھروں میں نظر بند رکھنے، 1000 سے زائد افراد کو گرفتار کرنے اور مختلف اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ممکنہ احتجاج اور امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے نئی ہدایات جاری کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ 48 سے 72 گھنٹے خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے انتہائی اہم ہو سکتے ہیں۔ انتظامیہ اور پولیس افسران کو کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ہدایات دی گئی ہیں، جبکہ آئندہ 3 سے 4 روز کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وسیع اختیارات دینے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم ان اقدامات کے حوالے سے حتمی سرکاری تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان افراد کے خلاف بھی کارروائی کا امکان ہے جن کے خلاف پہلے سے مقدمات یا ایف آئی آرز درج ہیں۔ بعض اہم سیاسی شخصیات کو گھروں میں نظر بند رکھنے یا گرفتار کرنے کے امکانات کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے، تاہم ان شخصیات کے نام فی الحال ظاہر نہیں کیے گئے۔ اگر یہ اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں۔

اسی دوران صوبے کے تمام اضلاع میں دفعہ 144 کے ممکنہ نفاذ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد عام طور پر بڑے اجتماعات، احتجاجی سرگرمیوں اور ممکنہ طور پر امن و امان کو متاثر کرنے والی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہوتا ہے، تاہم کسی بھی پابندی کی قانونی حیثیت اور دائرہ کار کا انحصار متعلقہ انتظامی احکامات پر ہوگا۔

خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی کی ایک بڑی وجہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 14 اکتوبر کو لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان بھی ہے۔ پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ اب احتجاجی تیاریوں کے آثار بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ اسی سلسلے میں احتجاج کے لیے تیار کیا گیا خصوصی کنٹینر تاریخی بازار باڑہ سے اچانک منظر عام پر آیا اور رنگ روڈ انڈر پاس پہنچا، جہاں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں نے اس کا استقبال کیا۔

ذرائع کے مطابق یہ کنٹینر شلوبر کے علاقے میں تیار کیا گیا تھا اور بعد ازاں اسے باڑہ بازار کے راستے رنگ روڈ انڈر پاس منتقل کیا گیا۔ کنٹینر پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تصویر اور ان کی رہائی کے مطالبے پر مبنی نعرے درج کیے گئے ہیں۔ کنٹینر کی آمد کے موقع پر کارکنوں کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے حق میں نعرے بازی بھی کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی اپنی احتجاجی مہم کے لیے عملی تیاریوں میں مصروف ہے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے 14 اکتوبر کے لانگ مارچ کی منظوری دے دی ہے۔ چیئرمین بیرسٹر گوہر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے سے وفاقی حکومت کے ممکنہ اقدامات اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی جنوبی اضلاع سے لانگ مارچ کے قافلے کی قیادت کریں گے۔ یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے قبل مارچ پشاور سے شروع کرنے کی بات کی گئی تھی، تاہم اب جنوبی خیبر پختونخوا سے آغاز کی تجویز کو حتمی شکل دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کے مطابق پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے لانگ مارچ کو حکومت مخالف سیاسی سرگرمیوں کے تسلسل کے طور پر آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مارچ کئی ہفتوں کی سیاسی سرگرمیوں کے بعد اسلام آباد کی جانب بڑھے گا۔ تاہم دارالحکومت میں مارچ کے حتمی پڑاؤ کے مقام کے بارے میں فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

اس تمام صورتحال میں ایک اور اہم پہلو خیبر پختونخوا حکومت کے مستقبل سے متعلق قیاس آرائیاں ہیں۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج جیسے اقدامات سے گریز کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق اگر ایسا کوئی وفاقی اقدام کیا جاتا ہے تو گورنر ہاؤس کے باہر دھرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جبکہ ممکنہ حکومتی اقدام کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم تشکیل دینے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

یوں خیبر پختونخوا میں صورتحال صرف ایک احتجاج یا لانگ مارچ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں صوبائی حکومت کے مستقبل، وفاق اور صوبے کے اختیارات، امن و امان، سیاسی سرگرمیوں، گرفتاریوں اور ممکنہ انتظامی اقدامات جیسے کئی اہم معاملات ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔ اگر ایک طرف حکومت امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انتظامی اقدامات کرتی ہے تو دوسری طرف پی ٹی آئی انہیں اپنی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش قرار دے سکتی ہے۔ یہی اختلاف آنے والے دنوں میں سیاسی کشیدگی کا مرکزی محور بن سکتا ہے۔

اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا حکومت احتجاج سے قبل ممکنہ گرفتاریوں اور پابندیوں کے ذریعے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرے گی یا سیاسی مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کا راستہ اختیار کیا جائے گا؟ کیا پی ٹی آئی 14 اکتوبر کا لانگ مارچ اسی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھائے گی اور اگر وفاق اور صوبے کے درمیان اختلاف مزید بڑھا تو اس کے سیاسی اور انتظامی اثرات کیا ہوں گے؟ ان سوالات کے جوابات آنے والے دنوں میں سامنے آ سکتے ہیں۔

فی الحال خیبر پختونخوا کی سیاست غیر معمولی دباؤ میں ہے۔ ایک جانب ممکنہ گرفتاریوں، نظر بندیوں اور دفعہ 144 کی اطلاعات ہیں، دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کی تیاری اور احتجاجی کنٹینر کا منظر عام پر آنا سیاسی سرگرمیوں میں تیزی کی نشاندہی کرتا ہے۔ آنے والے 48 سے 72 گھنٹے اس لیے اہم ہیں کہ ان میں کیے جانے والے انتظامی اور سیاسی فیصلے نہ صرف 14 اکتوبر کے احتجاج کی نوعیت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں بلکہ وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان جاری کشمکش کے اگلے مرحلے کا تعین بھی کر سکتے ہیں۔

Back to top button