خیبر پختونخوا: مساجد فنڈز میں کرپشن کی انوکھی داستان سامنے آ گئی

خیبر پختونخوا میں 2490 مساجد کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبے نے صرف سولرائزیشن کے عمل ہی نہیں بلکہ ٹینڈر کے طریقہ کار، کمپنیوں کی اہلیت، بولیوں اور منصوبے کی لاگت کے حوالے سے بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق منصوبے کا ٹینڈر عمل 2023 کے آخر میں شروع ہوا، ابتدائی طور پر 12 کمپنیوں نے حصہ لیا، جن میں سے 4 کو پری کوالیفائی کیا گیا، لیکن بعد میں 2 ایسی کمپنیوں کو بھی مقابلے میں شامل کر لیا گیا جو ابتدائی مرحلے میں ناکام قرار پائی تھیں۔ مزید سوال اس وقت پیدا ہوئے جب 7 زونز پر مشتمل منصوبے میں کسی ایک کمپنی نے تمام زونز کے لیے بولی نہیں دی اور بعض زونز میں مقابلہ صرف 2 کمپنیوں تک محدود رہا۔
منصوبے کے تحت بندوبستی اضلاع کی 1440 اور ضم شدہ قبائلی اضلاع کی 1050 مساجد کو سولر سسٹم فراہم کیا جانا تھا۔ ٹینڈر کا باقاعدہ مرحلہ 2024 میں مکمل ہوا، تاہم اس کے لیے تیاری اور ٹینڈرنگ کا عمل 2023 کے آخر میں شروع کیا گیا تھا۔ ابتدائی پری کوالیفکیشن میں 12 فرمز نے درخواستیں جمع کرائیں اور 5 مارچ کو ہونے والی جانچ کے بعد صرف 4 کمپنیوں، سولر ٹیک، ٹی ایس کے، ایم کے پمپس اور رینیوایبل پاور کو کامیاب قرار دیا گیا۔
صورتحال اس وقت تبدیل ہوئی جب ضلع دیر سے تعلق رکھنے والی 2 کمپنیوں، اخونزادہ ایسوسی ایٹس اور پاک ریلائبل، نے پری کوالیفکیشن میں ناکامی کے خلاف گریوینس کمیٹی سے رجوع کیا۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق شکایت کے بعد دونوں کمپنیوں کو ٹینڈر کے عمل میں دوبارہ شامل کر لیا گیا اور ان شرائط میں نرمی کی گئی جن کی بنیاد پر وہ ابتدائی مرحلے میں ناکام ہوئی تھیں۔ اسی کے بعد دونوں کمپنیاں مختلف زونز کے حصول میں بھی کامیاب رہیں۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں منصوبے کے شفاف ٹینڈرنگ عمل پر بنیادی سوال اٹھتا ہے کہ اگر کسی کمپنی کو ابتدائی مرحلے میں مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے نااہل قرار دیا گیا تھا تو بعد میں کن وجوہات اور کس طریقہ کار کے تحت اس کے لیے شرائط میں تبدیلی کی گئی؟ دستیاب معلومات میں ان تبدیلیوں کو شکایات کے بعد ہونے والی کارروائی سے جوڑا گیا ہے، تاہم ان کے انتظامی جواز اور مکمل طریقہ کار کی وضاحت اس معاملے کی شفافیت کے لیے اہم ہے۔
منصوبے کی لاگت بھی اس معاملے کا ایک اہم پہلو ہے۔ دستاویزات کے مطابق ٹینڈر کی تیاری 2023 کے آخر میں شروع ہوئی، لیکن انجینیئرنگ اسٹیمیٹ میں 2022 کے سولر نرخ استعمال کیے گئے۔ اس وقت سولر کی فی واٹ قیمت تقریباً 114 روپے بتائی گئی، جبکہ بعد کے عرصے میں یہ قیمت تقریباً 44.43 روپے فی واٹ تک آ گئی۔ اس کے باوجود پی سی ون اور انجینیئرنگ تخمینے میں ایک سولر یونٹ کی لاگت 993991 روپے مقرر کی گئی۔
منصوبے کا مجموعی ٹھیکہ 5 ارب 86 کروڑ روپے بتایا گیا ہے، تاہم فی یونٹ لاگت کے حوالے سے ایک اور سرکاری ادارے کے منصوبے سے تقابل بھی اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔ نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن، یعنی این آر ٹی سی، کے پاس بھی مساجد کی سولرائزیشن کا ایک بڑا منصوبہ ہے جس میں 7000 مساجد شامل ہیں۔ ان میں 2000 ضم شدہ اضلاع اور 5000 بندوبستی اضلاع کی مساجد شامل ہیں۔ اس منصوبے میں فی یونٹ لاگت 838200 روپے بنتی ہے۔
اس حساب سے خیبر پختونخوا کے موجودہ منصوبے کے انجینیئرنگ تخمینے، جو فی یونٹ تقریباً 994000 روپے بنتے ہیں، اور این آر ٹی سی کے فی یونٹ 838200 روپے کے درمیان تقریباً 156000 روپے کا فرق سامنے آتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق این آر ٹی سی نے بندوبستی اضلاع کی 2500 اور ضم شدہ اضلاع کی 500 مساجد کو پہلے ہی سولرائز بھی کیا ہے۔
پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن، یعنی پیڈو، کی مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن رپورٹ بھی اس معاملے میں اہم ہے۔ رپورٹ میں این آر ٹی سی کو منصوبہ دینے کی سفارش کی گئی تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ بتائی گئی کہ این آر ٹی سی پہلے ہی اسی نوعیت کے کام میں شامل تھا، ایک سرکاری ادارہ ہے اور اس کے نرخ بھی نسبتاً کم تھے۔
منصوبے کو 7 زونز میں تقسیم کرنے کے بعد سامنے آنے والا بولیوں کا پیٹرن بھی توجہ طلب ہے۔ 6 کمپنیاں میدان میں تھیں، لیکن کسی ایک کمپنی نے تمام 7 زونز میں حصہ نہیں لیا۔ ٹی ایس کے نے 3 زونز، سولر ٹیک نے 4، اخونزادہ نے 3، پاک ریلائبل نے 2، ایم کے نے 2 اور رینیوایبل پاور نے صرف 1 پیکج میں حصہ لیا۔ بعض زونز میں مقابلہ صرف 2 کمپنیوں کے درمیان رہا۔
پیکج 1 میں پشاور، نوشہرہ اور چارسدہ کی 355 مساجد شامل تھیں۔ اس میں صرف 2 کمپنیوں نے حصہ لیا۔ ٹی ایس کے نے تخمینہ قیمت سے 7.98 فیصد زیادہ بولی دے کر پیکج حاصل کیا، جبکہ ایم کے کی بولی 9.70 فیصد زیادہ تھی۔
پیکج 2 میں مردان، صوابی، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام، اپر کوہستان اور تورغر کی 376 مساجد شامل تھیں۔ رینیوایبل پاور نے تخمینہ قیمت سے 9.8 فیصد زیادہ بولی دے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ ٹی ایس کے کی بولی 9.95 فیصد زیادہ تھی۔ بعد میں تکنیکی بنیادوں پر رینیوایبل پاور مقابلے سے باہر ہوگئی اور یہ پیکج بھی ٹی ایس کے کو مل گیا۔
پیکج 3 میں ملاکنڈ ڈویژن کی 353 مساجد شامل تھیں جہاں پاک ریلائبل اور اخونزادہ آمنے سامنے تھیں۔ پاک ریلائبل نے تخمینہ قیمت سے 9.49 فیصد زیادہ بولی دے کر پیکج حاصل کیا جبکہ اخونزادہ کی بولی 10.50 فیصد زیادہ تھی۔
پیکج 4 میں ہری پور، بنوں، لکی مروت، کوہاٹ، ہنگو، کرک، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کی 356 مساجد شامل تھیں۔ ٹی ایس کے نے 9.20 فیصد زیادہ بولی دے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ ایم کے نے 9.87 فیصد اور سولر ٹیک نے 10 فیصد زیادہ بولی دی۔
ضم شدہ اضلاع کے 3 زونز میں بھی اسی نوعیت کا رجحان سامنے آیا۔ پیکج 5 میں باجوڑ اور مہمند کی 348 مساجد شامل تھیں۔ اخونزادہ نے تخمینہ قیمت سے 9 فیصد زیادہ بولی دے کر کامیابی حاصل کی جبکہ سولر ٹیک کی بولی 10 فیصد زیادہ تھی۔
پیکج 6 میں خیبر، کرم اور اورکزئی کی 354 مساجد شامل تھیں۔ سولر ٹیک نے 9.75 فیصد زیادہ بولی دے کر پیکج حاصل کیا جبکہ پاک ریلائبل کی بولی 12 فیصد زیادہ تھی۔ آخری پیکج، یعنی پیکج 7 میں شمالی و جنوبی وزیرستان اور سابقہ فرنٹیئر ریجنز کی 348 مساجد شامل تھیں۔ سولر ٹیک نے تخمینہ قیمت سے 10.99 فیصد زیادہ بولی دے کر کامیابی حاصل کی جبکہ اخونزادہ کی بولی 12.5 فیصد زیادہ تھی۔
ان 7 زونز کی کامیاب بولیوں کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو ایک اہم سوال سامنے آتا ہے۔ کامیاب بولیاں تخمینہ قیمت سے بالترتیب 7.98 فیصد، 9.8 فیصد، 9.49 فیصد، 9.20 فیصد، 9 فیصد، 9.75 فیصد اور 10.99 فیصد زیادہ رہیں۔ عام طور پر مسابقتی ٹینڈر میں کمپنیاں کم قیمت پر کام حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن اس منصوبے میں کسی بھی زون میں کامیاب بولی تخمینہ قیمت سے کم نہیں رہی۔
یہی صورتحال منصوبے کی مجموعی لاگت کے حوالے سے مزید سوال پیدا کرتی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق اگر این آر ٹی سی کو یہ کام دیا جاتا تو مجموعی لاگت 2 ارب 87118000 روپے بنتی، جبکہ موجودہ منصوبہ 2 ارب 648314000 روپے میں دیا گیا، جس سے 561196000 روپے کا فرق سامنے آتا ہے۔ تاہم ان اعداد و شمار کے مختلف اجزا اور منصوبوں کی نوعیت کا یکساں بنیاد پر تقابل بھی ضروری ہے تاکہ حتمی مالی نتیجہ اخذ کیا جاسکے۔
دوسری جانب این آر ٹی سی کے لیے ایک یونٹ کی لاگت 838200 روپے بتائی گئی ہے، جبکہ 2022 کے انجینیئرنگ تخمینے کے مطابق فی یونٹ لاگت 993991 روپے تھی۔ کامیاب بولیوں کے بعد موجودہ منصوبے میں فی یونٹ لاگت 1063580 روپے تک پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ یوں تخمینہ، متبادل سرکاری ادارے کے نرخ اور حتمی ٹھیکے کے درمیان نمایاں فرق سامنے آتا ہے۔
منصوبے میں تاخیر بھی ایک اہم معاملہ ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹینڈرنگ کا عمل 2023 کے آخر میں شروع ہوا اور منصوبہ کافی عرصے تک التوا کا شکار رہا۔ ایک مرحلے پر اسے منسوخ کرکے دوبارہ ٹینڈر کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی، تاہم یہ فیصلہ عملی شکل اختیار نہ کرسکا۔ تاخیر کے نتیجے میں سولر سمیت دیگر سامان اور تنصیب کی لاگت میں اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد کامران کے مطابق این آر ٹی سی 7000 سولر سسٹمز نصب کرنے کا ہدف مکمل نہیں کرسکا تھا، اسی وجہ سے منصوبے کو مختلف پیکجز میں تقسیم کیا گیا۔ ان کے مطابق سولر فی واٹ کی قیمت میں کمی ضرور آئی ہے، لیکن دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ مؤقف منصوبے کی مجموعی لاگت کا جائزہ لیتے وقت مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
معاہدے میں تاخیر سے متعلق ایک اور اہم شق بھی موجود ہے۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق مقررہ مدت میں کام مکمل نہ کرنے کی صورت میں این آر ٹی سی پر معاہدے کی مالیت کا 10 فیصد جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ اس حساب سے جرمانے کی رقم تقریباً 586000000 روپے بنتی ہے۔ تاہم جرمانہ عائد کرنے کے بجائے این آر ٹی سی کو مزید 500 مساجد کی سولرائزیشن کا کام دیے جانے کی بات سامنے آئی ہے، جس پر تقریباً 419100000 روپے خرچ آیا۔
اس پورے معاملے میں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ مساجد کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا منصوبہ کتنی رقم میں مکمل کیا گیا بلکہ یہ بھی ہے کہ پری کوالیفکیشن کے معیار، ناکام کمپنیوں کی دوبارہ شمولیت، زونز میں محدود مقابلے، تخمینہ قیمت سے زیادہ بولیوں، منصوبے میں تاخیر اور متبادل سرکاری ادارے کے کم نرخوں کو فیصلہ سازی میں کس حد تک مدنظر رکھا گیا۔ چونکہ معاملے میں متعدد انتظامی اور مالی سوالات موجود ہیں، اس لیے مکمل ٹینڈر ریکارڈ، گریوینس کمیٹی کے فیصلوں، بولیوں کی وجوہات اور معاہدوں کی شرائط کا شفاف جائزہ ہی اس منصوبے کی اصل لاگت اور طریقہ کار کے بارے میں واضح تصویر سامنے لا سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا کی ہزاروں مساجد کو شمسی توانائی فراہم کرنا بنیادی طور پر ایک عوامی فلاحی اور توانائی سے متعلق منصوبہ ہے، لیکن ایسے منصوبوں میں شفافیت اور مسابقتی عمل کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر کم قیمت پر کام کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ادارہ موجود ہو، جبکہ دوسری جانب نجی کمپنیوں کی کامیاب بولیاں تخمینہ قیمت سے مسلسل زیادہ ہوں، تو اس فرق کی وجوہات عوام کے سامنے آنا ضروری ہیں۔ بالآخر سوال یہ ہے کہ 2490 مساجد کی سولرائزیشن پر خرچ ہونے والی رقم کے مقابلے میں حکومت کو کتنی بجلی، کتنی بچت اور کتنے طویل مدتی فوائد حاصل ہوں گے، اور کیا اس منصوبے میں عوامی پیسے کے بہترین استعمال کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری تقاضے پورے کیے گئے؟
