پی ٹی آئی اور حکومت کی 7خفیہ ملاقاتیں، اصل سہولتکار کون تھا؟

پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی بظاہر اپنے عروج پر دکھائی دے رہی ہے، جلسوں، احتجاجی اعلانات اور سخت بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے، لیکن اسی دوران پس پردہ سیاسی رابطوں اور ملاقاتوں کی ایک الگ کہانی بھی سامنے آ رہی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہونے والے رابطوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایک طرف عوامی سطح پر فریقین ایک دوسرے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں تو دوسری طرف سیاسی تعطل ختم کرنے کے لیے غیر اعلانیہ رابطے بھی جاری رہے ہیں۔
تازہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران تحریک انصاف کے رہنماؤں اور حکومتی حلقوں کے درمیان 7 پس پردہ ملاقاتیں ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق ان میں سے 3 ملاقاتیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی رہائش گاہ پر، 3 چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے گھر جبکہ ایک ملاقات سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس کی رہائش گاہ پر ہوئی۔ تاہم ان ملاقاتوں میں شریک تمام افراد اور ایک اہم شخصیت کی شناخت باضابطہ طور پر سامنے نہیں لائی گئی۔
ان رابطوں کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ محض سیاسی ملاقاتیں نہیں تھیں بلکہ ان میں مبینہ طور پر اسلام آباد مارچ، سیاسی گنجائش پیدا کرنے، احتجاجی کشیدگی کم کرنے، عمران خان سے ملاقات، وکلا تک رسائی اور طبی سہولتوں سمیت مختلف معاملات زیر بحث آئے۔ سینئر صحافی انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 4 سے 5 ہفتوں کے دوران حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان نصف درجن سے زائد پس پردہ ملاقاتیں ہوئیں، تاہم ان رابطوں کے باوجود مارچ کے معاملے پر بنیادی اختلاف ختم نہیں ہوسکا۔
ان رابطوں کی ایک اہم تصدیق خود پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی جانب سے بھی سامنے آ چکی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے محسن نقوی سے رابطوں سے انکار نہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ ستمبر میں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے بھی محسن نقوی سے ملاقات کی تصدیق کی تھی اور بتایا تھا کہ ملاقات میں عمران خان کے معاملات اور لانگ مارچ سے متعلق امور پر گفتگو ہوئی۔
اس پس منظر میں محسن نقوی کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقاتیں خاص اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ وزارت داخلہ کے دائرہ کار میں امن و امان اور احتجاجی صورتحال سے متعلق اہم معاملات آتے ہیں۔ ستمبر میں راجا ناصر عباس اور محسن نقوی کی ملاقات کی تصدیق بھی ہوئی تھی جس میں لانگ مارچ اور عمران خان سے متعلق معاملات زیر بحث آنے کی اطلاع دی گئی تھی۔
دوسری جانب بیرسٹر گوہر کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقاتیں اس لحاظ سے اہم سمجھی جا سکتی ہیں کہ وہ تحریک انصاف کی موجودہ سیاسی قیادت میں مرکزی رابطہ کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے گزشتہ ہفتوں میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں اور سیاسی حکمت عملی پر مشاورت کی۔ 23 ستمبر کو بیرسٹر گوہر کی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس سے ملاقات بھی ریکارڈ پر ہے جس میں لانگ مارچ اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر مشاورت ہوئی تھی۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان رابطوں کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ دونوں طرف سے مکمل طور پر مذاکرات کے دروازے بند کرنے کے باوجود رابطہ برقرار رکھنے کی باتیں سامنے آتی رہی ہیں۔ 21 ستمبر کو بیرسٹر گوہر نے بھی کہا تھا کہ حکومت سے رابطے ختم نہیں کیے گئے، جبکہ 30 ستمبر کو ان کی اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات متوقع تھی تاکہ سیاسی صورتحال اور پارلیمانی معاملات پر بات ہوسکے۔
یکم اکتوبر کو صورتحال مزید واضح ہوئی جب بیرسٹر گوہر نے تصدیق کی کہ حکومت کی جانب سے ملاقات کا پیغام موصول ہوا اور اپوزیشن کے فیصلے کے بعد حکومتی ٹیم سے ملاقات کی دعوت قبول کرلی گئی۔ ان کے مطابق حکومت اور اپوزیشن وفود کی ملاقات اسپیکر قومی اسمبلی کے دفتر میں ہونا تھی۔ اسی دوران وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کی پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر سے ٹیلیفونک گفتگو کی بھی اطلاع سامنے آئی، جس میں معاملات کو سیاسی طور پر حل کرنے پر زور دیا گیا۔
اصل اختلاف تاہم مارچ کے معاملے پر برقرار دکھائی دیتا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق پس پردہ رابطوں میں بنیادی سوال یہ رہا کہ تحریک انصاف اسلام آباد کی مجوزہ احتجاجی مہم کو صرف مؤخر کرے گی یا اسے مکمل طور پر منسوخ کرے گی۔ یہی نکتہ مذاکرات کو کسی واضح نتیجے تک پہنچنے میں رکاوٹ بنتا رہا۔
اس پورے معاملے میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان اتنے رابطے موجود تھے تو پھر عوامی سطح پر سخت بیانات اور احتجاجی سیاست کیوں جاری رہی؟ اس کا جواب سیاسی مذاکرات کی نوعیت میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ سیاسی فریق اکثر عوامی مؤقف برقرار رکھتے ہوئے پس پردہ رابطوں کے ذریعے اپنے لیے مذاکرات کی گنجائش تلاش کرتے ہیں، لیکن جب دونوں جانب کی بنیادی شرائط مختلف ہوں تو ملاقاتیں ہونے کے باوجود فوری سیاسی سمجھوتا ممکن نہیں ہوتا۔
یوں سامنے آنے والی اطلاعات سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے تھے۔ تاہم 7 ملاقاتوں کی تفصیلی روداد، ان میں شریک تمام افراد اور ان کے حتمی فیصلوں کی مکمل سرکاری تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔ دستیاب معلومات سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ محاذ آرائی کے ساتھ ساتھ سیاسی رابطوں کا ایک متوازی عمل بھی جاری رہا، جس کا مرکز احتجاج، عمران خان سے متعلق معاملات، سیاسی گنجائش اور مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل پر اختلافات کو کم کرنا تھا۔ آئندہ دنوں میں یہ رابطے باقاعدہ مذاکرات میں تبدیل ہوتے ہیں یا سیاسی کشیدگی اپنی موجودہ شکل میں برقرار رہتی ہے، اس کا انحصار بالخصوص احتجاج اور مذاکرات سے متعلق دونوں فریقوں کے مؤقف پر ہوگا۔
