تحریک انصاف کو کیا کرنا چاہیے ؟

تحریر: عامر خاکوانی
بشکریہ: وی نیوز
4 اکتوبر قریب آ رہا ہے اور پشاور سے اسلام آباد تک ہر طرف ایک ہی سوال ہے کہ اس بار کیا ہوگا؟ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پریس کانفرنس میں کہہ چکے کہ ٹاس ہم نے جیتا ہے، لانگ مارچ تاریخ کا سب سے بڑا ہوگا اور مطالبات منوائے بغیر واپسی نہیں ہوگی، دوسری طرف وفاقی وزرا گورنر راج اور ایمرجنسی کی باتیں کر رہے ہیں۔
یہ ماحول دیکھ کر مجھے خدشہ ہے کہ دونوں فریق ایک ایسی گلی میں داخل ہو رہے ہیں جس سے واپسی کا راستہ نہیں، خاکسار تحریک انصاف کا ترجمان نہیں، مگر اس جماعت کے لاکھوں ووٹرز اور کارکنوں کے جذبات کو سمجھتا ہے، ان کا لیڈر برسوں سے جیل میں ہے، انہیں لگتا ہے کہ ان کا مینڈیٹ چھینا گیا، ان کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں۔
یہ سب اپنی جگہ، سوال مگر یہ ہے کہ کیا ایک اور لانگ مارچ ان زخموں پر مرہم رکھے گا یا نئے زخم لگا دے گا؟ البتہ یہاں مکمل بات یہ ہوگی کہ پُرامن احتجاج جمہوری حق ہے، ہر جمہوری حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حق کا احترام کرے، تاہم پرامن سیاسی احتجاج ہو اور چڑھائی کا تاثر نہیں ملنا چاہیے۔
تحریک انصاف کو لانگ مارچ اور دھرنوں کا خاصا تجربہ ہے، 2014 کا 126 روز کا دھرنا یاد کریں، پھر مئی 2022 کا آزادی مارچ جو ایک ہی رات میں سمیٹنا پڑا، سب سے تکلیف دہ اور پریشان کن نومبر 2024 کا ڈی چوک والا مارچ جس کا انجام سب کے سامنے ہے۔
کارکن تھکے ہارے، زخمی اور مایوس واپس گئے، بہت سے گرفتار ہوئے، کئی خاندان آج تک مقدموں میں الجھے ہیں، ان میں سے کسی مارچ نے بنیادی مطالبہ منوایا؟ ایمانداری سے جواب دیں تو نہیں۔
اب اسی 27 ستمبر والی کال کو بھی دیکھ لیں، اعلان ہوا، تیاریاں ہوئیں، حکومت نے موٹروے اور جی ٹی روڈ بند کر دیے، چھاپے اور گرفتاریاں بھی شروع ہوگئیں اور پھر مارچ ملتوی ہوگیا، وزیراعلیٰ اسے سیاسی حربہ کہتے ہیں، ہو سکتا ہے ہو۔
واقفان حال مگر جانتے ہیں کہ مارچ کی تیاریاں مکمل نہیں تھیں، فنڈز اکٹھے نہیں ہوئے، کارکن موبلائز نہیں تھے ، پارٹی کے اندر کئی رہنماؤں نے اس کال پر تحفظات ظاہر کیے تھے، یہ تحفظات بے وجہ نہیں تھے۔
اصل خطرہ کیا ہے؟میں سمجھتا ہوں تحریک انصاف کے پاس اس وقت سب سے قیمتی اثاثہ خیبر پختونخوا کی حکومت ہے، یہ واحد جگہ ہے جہاں اس کے پاس اقتدار، وسائل اور ایک قانونی پلیٹ فارم موجود ہے۔ یہیں سے کارکنوں کو سہارا ملتا ہے، یہیں سے پارٹی کی آواز سرکاری سطح پر سنی جاتی ہے۔
اگر صوبائی حکومت کی مشینری لانگ مارچ میں جھونکی گئی اور اسلام آباد پر چڑھائی کا تاثر بنا تو وہ موقع مل جائے گا جس کی تلاش میں کچھ لوگ پہلے سے بیٹھے ہیں۔
یہ کوئی ہوائی خدشہ نہیں، ہماری تاریخ میں صوبائی حکومتیں اس سے کم پر گھر بھیجی جا چکی ہیں، 1973 میں بھٹو صاحب نے بلوچستان میں سردار عطا اللہ مینگل کی حکومت برطرف کی اور گورنر راج لگا دیا، احتجاجاً مفتی محمود نے سرحد کی حکومت سے استعفا دیدیا تھا، نتیجہ کیا نکلا؟ نیپ اور جمعیت دونوں اقتدار سے باہر ہو گئے اور بلوچستان کئی برس فوجی آپریشن کی آگ میں جلتا رہا، 2009 میں پنجاب میں شہباز شریف حکومت پر گورنر راج لگا، 2013 میں بلوچستان میں رئیسانی حکومت کو فارغ کیا گیا، ہر بار کہا گیا کہ یہ نہیں ہو سکتا، اور ہر بار ہو گیا۔
اب ذرا تصور کریں کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی لگ جاتی ہے یا گورنر راج نافذ ہوتا ہے, تحریک انصاف استعفے دے کر باہر آ جاتی ہے، پھر کیا؟ عدالتوں سے فوری ریلیف کی امید رکھنے والے ذرا موجودہ عدالتی ماحول دیکھ لیں۔
صوبے میں دہشتگردی کی لہر پہلے سے ہے، وفاق کے پاس ایمرجنسی کا ایک تیار جواز موجود ہے، ایسے میں صوبائی حکومت گنوانا جوا نہیں، خودکشی ہوگی۔
غنیمت ہے کہ پیپلز پارٹی کے ناصر حسین شاہ کہہ چکے کہ ان کی جماعت محض لانگ مارچ کی بنیاد پر گورنر راج کی حمایت نہیں کرے گی، بعض تجزیہ کار بھی کہتے ہیں کہ گورنر راج کا خطرہ قدرے ٹل گیا ہے مگر ختم نہیں ہوا، تحریک انصاف کو اس ٹریپ سے ہر حال میں بچنا چاہیے ۔
یہاں ایک بات تحریک انصاف کے کارکنوں اور سوشل میڈیا پر سرگرم حامیوں سے بھی کرنی ہے، پچھلے تین چار برسوں میں اس جماعت کے بہت سے رہنماؤں نے وہ کچھ برداشت کیا جو عام آدمی سوچ بھی نہیں سکتا۔
جیلیں کاٹیں، پیشیاں بھگتیں، گھروں پر چھاپے برداشت کیے، کاروبار تباہ کروائے، خاندان رلتے رہے، کئی دباؤ میں ٹوٹ کر چلے گئے، مگر جو ٹکے رہے ان کی قربانیاں کسی سے کم نہیں۔
اب اگر ان میں سے کوئی رہنما اپنی سمجھ بوجھ اور تجربے سے یہ کہتا ہے کہ ابھی ٹکراؤ کا وقت نہیں، کچھ ٹھہر جائیں، تو اس پر فوراً غداری اور کمپرومائزڈ ہونے کا ٹھپہ لگا دیا جاتا ہے، ٹرینڈ چل جاتے ہیں، گالیاں پڑتی ہیں، اس کی پوری جدوجہد ایک ٹویٹ میں ملیا میٹ کر دی جاتی ہے۔ بھائی لوگو، یہ زیادتی ہے، جس نے جیل کی کوٹھری میں راتیں گزاری ہوں، اس کی وفاداری پر شک کرنے کا حق کم از کم ان لوگوں کو نہیں، جو آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر کی بورڈ پر انقلاب لا رہے ہیں۔
خاص کر وہ وی لاگرز جو بیرون ملک بیٹھے ہیں، لندن، امریکا یا کسی دوسرے یورپی ملک سے ہر روز پاکستان کے نوجوانوں کو سڑکوں پر نکلنے، ڈٹ جانے اور آخری حد تک جانے کی تلقین کی جاتی ہے۔
سوال مگر یہ ہے کہ جب گولی چلتی ہے، لاٹھی پڑتی ہے، ایف آئی آر کٹتی ہے تو وہ رگڑا کسے لگتا ہے، عام کارکن کو ، جبکہ وی لاگر تو فوری اگلی ویڈیو بنا لیتا ہے۔
میری عاجزانہ گزارش ہے کہ جو صاحبان اتنی سخت اور جارحانہ سیاست کے قائل ہیں وہ پہلے خود پاکستان آئیں، اس جدوجہد میں عملی طور پر شامل ہوں، پھر جو چاہیں مشورہ دیں، تب ان کی بات میں وزن بھی ہوگا، کارکن کسی سیاسی تھیٹر کے کردار نہیں ہوتے ، وہ بے چارے جیتے جاگتے انسان ہیں۔
ایک اور پہلو بھی ہے جس پر کم بات ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام نے تحریک انصاف کو تیسری بار مینڈیٹ دیا، یہ کوئی معمولی بات نہیں، پاکستان کی تاریخ میں کم ہی کسی جماعت کو کسی صوبے میں یوں لگاتار اعتماد ملا ہوگا۔ اس مینڈیٹ کا تقاضا کیا ہے؟ یہی کہ صوبے کے اسپتال، اسکول، سڑکیں، امن و امان اور روزگار پر توجہ دی جائے۔
آج صورتحال یہ ہے کہ صوبہ دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے، بنوں، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان اور قبائلی اضلاع سے روز بری خبریں آتی ہیں، مگر وزیراعلیٰ کی ساری توانائی لانگ مارچ کی تاریخیں دینے اور ملتوی کرنے میں صرف ہو رہی ہے۔
وزیراعلیٰ خود کہتے ہیں کہ صوبے کے ہزاروں لوگوں نے امن کے لیے جانیں دیں، بالکل درست، تو پھر ان قربانیوں کا تقاضا یہ بھی ہے کہ صوبے کا سربراہ پشاور میں بیٹھ کر گورننس کرے، کنٹینر پر نہیں، عوام نے حکومت چلانے کا مینڈیٹ دیا ہے، احتجاج کی منصوبہ بندی صوبے کی روزمرہ ضرورتوں پر غالب نہیں آنی چاہیے۔
میں سمجھتا ہوں اچھی گورننس خود ایک طاقتور سیاسی ہتھیار ہے، اگر خیبر پختونخوا میں ایسا کام ہو کہ باقی ملک کے لوگ رشک کریں تو یہ کسی بھی لانگ مارچ سے بڑا پیغام ہوگا، 2013 کے بعد پی ٹی آئی کی پہلی صوبائی حکومت نے پولیس، تعلیم اور صحت کے شعبے میں جو کام کیا، اسی نے 2018 میں تحریک انصاف کو وفاق تک پہنچانے میں مدد دی تھی, وہ نسخہ آج بھی کارآمد ہے۔
اب آخری اور شاید سب سے اہم نکتہ ، جسے ٹھنڈے دل ودماغ سے سمجھنےکی ضرورت ہے، پاکستان میں اپوزیشن کی سیاست کامیاب کیسے ہوتی ہے؟ تاریخ کا جواب بالکل واضح ہے: اتحاد سے۔ 1977 میں بھٹو جیسے طاقتور حکمران کے خلاف 9 جماعتوں کا پاکستان قومی اتحاد بنا، ضیا دور میں ایم آر ڈی نے جمہوری جدوجہد کو زندہ رکھا۔
مشرف دور میں اے آر ڈی بنی، جس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن جیسی روایتی حریف جماعتیں ساتھ بیٹھیں، اسی سے میثاق جمہوریت نکلا اور پھر سب سے تازہ مثال پی ڈی ایم کی ہے، مشترکہ سیاسی قوت حکمرانوں کے لیے بڑا چیلنج بنتی ہے۔
دوسری طرف تحریک انصاف نے پچھلے 4 برس تقریباً سولو فلائٹ کی، اکیلے احتجاج کیے، اکیلے مارچ کیے، اکیلے ڈنڈے کھائے، حاصل کیا ہوا؟ کچھ بھی نہیں، ایک اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان بنایا بھی تو اسے اس طرح موثر نہیں کیا جا سکا۔
حکومت کو بخوبی علم ہے کہ ایک تنہا جماعت کو کیسے سنبھالنا ہے، تاہم جب مولانا فضل الرحمن، جماعت اسلامی، محمود خان اچکزئی، بلوچ اور سندھی قوم پرست اور دوسری حکومت مخالف قوتیں ایک پلیٹ فارم پر ہوں تو کہانی بدل جاتی ہے، پھر مطالبات کو محض ایک جماعت کی ضد کہہ کر نہیں ٹالا جا سکتا۔
میرا مشورہ ہے کہ تحریک انصاف اپنی واحد صوبائی حکومت داؤ پر لگانے کے بجائے اپوزیشن کو مزید جوڑنے پر اپنی توانائیاں صرف کرے، ضرورت پڑے تو بعض معاملات میں اپنا مؤقف نرم کرے اور اتحادیوں کی رائے کو اہمیت دے۔
بڑی جماعت ہونے کا تقاضا بھی یہی ہے کہ دوسروں کو ساتھ لے کر چلا جائے، موجودہ اتحاد میں اعتماد، مشاورت اور مشترکہ فیصلوں کی روایت مضبوط ہوگی تو تحریک انصاف کے مطالبات کو بھی زیادہ سیاسی وزن ملے گا۔
4 اکتوبر میں ابھی 2 دن ہیں، یہ 2 دن بہت قیمتی ہیں، یکم اکتوبر کو صدر اور وزیراعظم کی ملاقات کے بعد وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ مذاکراتی کمیٹی بن چکی ہے، سہیل آفریدی خود بھی مذاکرات کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔
اب اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے، عمران خان سے ملاقاتوں، مناسب طبی دیکھ بھال اور قانونی رسائی جیسے فوری معاملات پر ٹھوس پیشرفت کی کوشش ہو۔
مارچ کو ایک بار پھر مؤخر کرنا پڑے تو کر دیں، اسے شکست نہ سمجھیں، کارکنوں کو بتائیں کہ ان کی جانیں قیمتی ہیں، انہیں ایک اور ڈی چوک میں نہیں جھونکا جائے گا، وفاقی حکومت سے بھی یہی کہنا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کی دھمکیاں آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہیں، ایک منتخب صوبائی حکومت کو گھر بھیجنا کسی مسئلے کا حل نہیں۔
سیاست میں کبھی کبھار رک جانا، ٹھہر جانا اور دوبارہ صف بندی کرنا بھی جدوجہد کا حصہ ہوتا ہے، اللہ کرے کہ ہمارے سیاسی قائدین کو یہ بات سمجھ آ جائے اور خیبر پختونخوا کے عوام، جو پہلے ہی بہت دکھ جھیل چکے ہیں، کسی نئے سیاسی بحران کی نذر نہ ہوں، آمین!
