پولیس کو ن لیگی رہنمائوں کو ہراساں کرنے سے روک دیا

لاہور ہائیکورٹ نے پولیس کو مسلم لیگ ن کے رہنمائوں کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔

عدالت عالیہ لاہور کے جسٹس صفدر سلیم شاہد نے رانا اسد ایڈووکیٹ کے توسط سے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں عطااللہ تارڑ، رانا مشہود اور ملک محمد احمد کی طرف سے دائر کی گئی درخواست پر چیمبر میں سماعت کی۔

لیگی رہنمائوں کی درخواست میں چیف سیکریٹری پنجاب، سیکریٹری وزارت داخلہ، آئی جی پنجاب اور سی سی پی او کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پولیس ہراساں کرنے کے لیے چھاپے مار رہی ہے، اگر مقدمات درج ہیں تو پولیس اس کا ریکارڈ فراہم کرے، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ پولیس کو مقدمات کا تمام ریکارڈ فراہم کرنے اور ہراساں نہ کرنے کا حکم دیا جائے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد پولیس کو (ن) لیگ کے رہنماؤں عطااللہ تارڑ، رانا مشہود اور محمد احمد خان کو ہراساں کرنے سے روک دیا ،عدالت نے آئی جی پنجاب سے عطااللہ تارڑ، رانا مشہود اور ملک محمد احمد خان کے خلاف درج مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا۔

افغانستان میں زلزلے سے تباہی، 130 افراد ہلاک

یاد رہے کہ گزشتہ روزلاہور پولیس نے رواں سال 25 مئی کو آزادی مارچ کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور کارکنان پر تشدد کے الزام میں 25 اسٹیشن ہاؤس افسران (ایس ایچ اوز) کو معطل کردیا۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے خلاف کارروائی صرف سول اور پولیس بیوروکریٹس تک محدود نہیں رہے گی بلکہ یہ دائرہ مسلم لیگ (ن) کے بعض سیاستدانوں تک بھی پھیلے گا۔

باخبر ذرائع نے کہا کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کی پنجاب حکومت سابق وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ کو گرفتار کرکے مسلم لیگ (ن) کو سرپرائز دے سکتی ہے۔

Back to top button