وفاق نے ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ن) کے ارکان کو 26 ارب کے ترقیاتی فنڈز جاری کر دیے

وفاقی حکومت نے کراچی-حیدرآباد ترقیاتی پیکج کے تحت ایم کیو ایم پاکستان سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ارکان کے لیے 20 ارب روپے جاری کر دیے ہیں۔
ایم کیو ایم پاکستان کے ارکانِ قومی اسمبلی نے کراچی اور حیدرآباد کے مختلف علاقوں کی ترقیاتی سکیمیں پاکستان انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (PIDCL) کو جمع کرائی تھیں، جن کی جانچ پڑتال مکمل کر لی گئی ہے۔
یہ سکیمیں پہلے ہی سی ڈی ڈبلیو پی سے منظور ہو چکی ہیں اور اب ایکنک سے منظوری کے بعد ان کے ٹینڈر جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ مختص کردہ 20 ارب روپے میں سے 15 ارب کراچی اور 5 ارب روپے حیدرآباد کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ ان فنڈز سے فلائی اوورز، پانی و سیوریج کے نظام، سڑکوں کی تعمیر و مرمت سمیت عوامی فلاح کے دیگر منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔
PIDCL ذرائع نے نہ صرف فنڈز کی منتقلی کی تصدیق کی ہے بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے ارکان قومی اسمبلی کے لیے بھی وفاقی حکومت کی جانب سے 3 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سیپ (SEP) کی مد میں بھی 3 ارب روپے کا اضافی فنڈ منتقل کیا گیا ہے۔
یوں مجموعی طور پر 26 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سیپ کے تحت پہلے ہی کراچی میں ایم کیو ایم کے ہر رکن قومی اسمبلی کو 25 کروڑ روپے کا فنڈ دیا جا چکا ہے۔ کراچی میں ان اسکیموں کے تحت 400 میں سے تقریباً 100 منصوبوں کے ٹینڈر جاری اور ورک آرڈرز دیے جا چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ان فنڈز سے شہر میں نمایاں ترقیاتی سرگرمیاں شروع ہونے کی توقع ہے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل ارکان اسمبلی کے ترقیاتی منصوبے وزارتِ ہاؤسنگ کے تحت پاک پی ڈبلیو ڈی انجام دیتا تھا، تاہم اس نظام کے خاتمے کے بعد اب وزارت ہاؤسنگ نے PIDCL قائم کی ہے جو ان منصوبوں پر عمل درآمد کی ذمہ دار ہے۔
