پاکستانی سیاستدانوں اور شوگر مافیا کا مکروہ گٹھ جوڑ بے نقاب

 

 

 

پاکستان میں طاقتور سیاسی خاندانوں اور بااثر اشرافیہ کی شوگر انڈسٹری پر گرفت دراصل اس نظام کی وہ بدترین حقیقت ہے جو براہِ راست عام صارفین کے استحصال اور قومی معیشت کی بربادی کا سبب بنتی ہے۔ ایس ای سی پی کی دستاویزات نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ پاکستان میں شوگر انڈسٹری صرف کاروبار نہیں بلکہ سیاسی طاقت کا گڑھ بن چکی ہے۔ شریف خاندان کی رمضان اور العربیہ شوگر ملز، چوہدری خاندان کی پنجاب شوگر ملز، مونس الٰہی اور مخدوم عمر شہریار کی آر وائی کے ملز، ذکا اشرف کی اشرف شوگر ملز، اور خواجہ عبدالغنی مجید کی ٹنڈوالہ یار شوگر ملز اس گٹھ جوڑ کی زندہ مثال ہیں جہاں عوام کے خون پسینے سے کمائی گئی رقم کو چند خاندان اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہی نہیں، فاطمہ شوگر ملز، اتحاد شوگر ملز، بلوچ شوگر ملز اور چوہدری شوگر ملز جیسے ادارے بھی انہی سیاسی خاندانوں کے معاشی قبضے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

 

مبصرین کے مطابق چینی کا بحران اور شوگر ملز مالکان کی دولت کے انبار اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کا معاشی و سیاسی ڈھانچہ ایک ایسی دیمک زدہ عمارت بن چکا ہے جہاں پالیسی ساز خود سب سے بڑے منافع خور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب قانون بنانے والے ہی استحصالی کارٹیل کا حصہ ہوں تو عام آدمی کو ریلیف ملنے کی توقع ایک خام خیالی کے سوا کیا ہو سکتی ہے؟ جب پالیسی ساز براہِ راست خود شوگر انڈسٹری میں کاروباری مفادات رکھتے ہوں تو عام آدمی کو ریلیف کیسے مل سکتا ہے؟

 

پاکستان میں طاقتور سیاسی خاندانوں اور بااثر شخصیات کے اصل چہرے ایک بار پھر بے نقاب ہو گئے ہیں۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی دستاویزات کے مطابق عوامی خدمت اور شفاف سیاست کے علمبردار کہلانے والے حقیقت میں شوگر مافیا کے بڑے حصے دار نکلے۔ ان کاغذات نے واضح کر دیا کہ چینی کے بحران سے فائدہ اٹھانے والے اور عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے والے کوئی عام صنعت کار نہیں بلکہ ملک کے سب سے طاقتور سیاسی خاندان اور ان کے قریبی ساتھی ہیں۔

 

دستاویزات کے مطابق شوگر ملوں میں شیئرز رکھنے والوں میں حمزہ شہباز شریف، سلمان حمزہ شریف، سالک حسین، مونس الٰہی، ذکاءاشرف، چوہدری شجاعت حسین، چوہدری پرویز الٰہی، میاں عامرمحمود اور خواجہ عبد الغنی مجید سمیت دیگر شامل ہیں۔ ایس ای سی پی کے مطابق  العربیہ شوگرملز میں حمزہ شہباز اور نصرت شہبازسمیت دیگر شیئر ہولڈرز ہیں، اسی طرح رمضان شوگرملز میں حمزہ شہباز شریف، سلمان حمزہ شریف، نصرت شہباز شیئر ہولڈر ہیں۔ اسی طرح پنجاب شوگر ملز کے شیئرز ہولڈرز میں چوہدری شجاعت حسین اور سالک حسین سمیت دیگر شامل ہیں۔جبکہ  آر وائی کے ملز میں مونس الہٰی اور مخدوم عمرشہریار سمیت دیگر شیئر ہولڈر ہیں، ٹنڈو اللہ یار شوگرملز میں خواجہ عبد الغنی مجید 100 فیصدشیئرز کے مالک ہیں۔

 

دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ اشرف شوگر ملز میں ذکا اشرف سمیت دیگر شیئر ہولڈر ہیں، رحیم یارخان شوگر انڈسٹری میں میاں عامر محمود سمیت دیگر کے شیئرز ہیں۔دستاویز کے مطابق مدینہ شوگرملز میں محمد رشید اور محمد مجتبٰی سمیت دیگر حصے دار ہیں، جبکہ فاطمہ شوگر ملزمیں عباس مختار، فیصل مختار اور فوادمختار سمیت دیگر افراد کے شیئرز ہیں۔ایس ای سی پی کی دستاویز کے مطابق اتحاد شوگر ملز میں مخدوم ہاشم جوان بخت، مخدوم عمر شہریار سمیت دیگرکے شیئرز ہیں، جبکہ بلوچ شوگر ملز میں دوست علی مزاری اور طارق علی مزاری شیئر ہولڈر ہیں۔چوہدری شوگر ملز میں عبد العزیز عباس شریف، عبد اللہ یوسف شریف، شریف ٹرسٹ سمیت دیگر کے شیئرز ہیں، اسی طرح چیمہ شوگر ملز میں چوہدری انور علی، سردارمحمد عارف نکئی اور محمد شفیع سمیت دیگر شیئر ہولڈر ہیں۔

 

خیال رہے کہ اس وقت مجموعی طور پر پاکستان میں 72 شوگر ملز کام کر رہی ہیں۔ ان میں سے 38 شوگر ملز پنجاب میں ہیں، سندھ میں 30 اور خیبر پختونخوا میں آٹھ شوگر ملز کام کر رہی ہیں۔ پاکستان میں ذیادہ تر شوگر ملز مالکان حکمران طبقے سے تعلق رکھتے ہیں لہذا ان پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ حکومتی پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان کے منافع کی قیمت عام صارفین کو ادا کرنی پڑتی ہے۔پاکستان میں شوگر ملز کے مالکان کون ہیں اس بارے میں بی بی سی نے تحقیقات کی ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ بڑی شوگر ملز کے مالکان کون لوگ ہیں۔

 

اس وقت حکمران شریف خاندان کے ملکیتی شریف گروپ کی دو شوگر ملز ہیں جن میں سے ایک رمضان شوگر ملز اور دوسری العربیہ شوگر مل ہے۔ شریف گروپ کی بنیاد میاں محمد شریف نے رکھی تھی جو سابق وزیر اعظم نواز شریف اور موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کے والد ہیں۔ اسی طرح کشمیر شوگر مل الشفیع گروپ کی ملکیت ہے جو شریف فیملی کے رشتہ دار ہیں۔ شریف برادران کے کزن میاں الیاس معراج کا ملکیتی حسیب وقاص گروپ تین شوگر ملز کا مالک ہے۔ اس کی ملکیت میں حسیب وقاص شوگر ملز، یوسف شوگر ملز اور عبداللہ شوگر ملز شامل ہیں۔

 

جمالدین والی شوگر ملز دراصل جے ڈی ڈبلیو گروپ کی ملکیت ہے جس کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے ایک رکن جہانگیر خان ترین ہیں۔ ان کی ملکیت میں تین شوگر ملز ہیں۔ ان میں دو پنجاب کے ضلع رحیم یار خان اور ایک سندھ کے ضلع گھوٹکی میں موجود ہے۔ اس گروپ کے بورڈ کے ڈائریکٹر اور چیئرمین مخدوم احمد محمود ہیں جو سابق گورنر پنجاب ہیں۔ اسی طرح ان کے بیٹے سید مصطفی محمود بھی ایک بورڈ کے ایک ڈائریکٹر ہیں جو رحیم یار خان سے پی پی پی کے ٹکٹ پر ایم این اے ہیں۔

 

رحیم یار خان گروپ کی ملکیتی شوگر مل رحیم یار خان میں واقع ہے۔ اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مخدوم عمر شہر یار ہیں جو سابق وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی ہیں اس گروپ کے مالکان میں ایک اور کمپنی بھی شامل ہے جس میں چوہدری مونس الہی شیئر ہولڈرز ہیں۔ وہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کے بیٹے ہیں۔ یہی رحیم یار خان شوگر ملز، الائنس شوگر ملز کی بھی مالک ہے۔ اشرف گروپ آف انڈسٹریز کی ویب سائٹ کے مطابق ضلع بہاولپور میں واقع اشرف شوگر ملز چوہدری ذکا اشرف کی ملکیت ہے جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اور صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔

 

ملتان میں قائم فاطمہ شوگر ملز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فیصل مختار ہیں جو ملتان کے سابق ضلع ناظم ہیں۔ نون شوگر ملز کے بورڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیف اللہ خان نون ہیں جو معروف سیاسی خاندان نون فیملی کا حصہ ہیں۔

راجن پور کا دریشک خاندان انڈس شوگر ملز راجن پور میں حصہ دار ہے۔ تاندلیانوالہ شوگر ملز کی ملکیت میں دوسرے افراد کے ساتھ ہمایوں اختر خان بھی شامل ہیں جو سابق وفاقی وزیر ہیں جبکہ ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون اختر خان بھی ہیں جو اس وقت وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہیں۔

 

سندھ میں شوگر ملز کا جائزہ لیا جائے تو اومنی گروپ 9 شوگر ملز کا مالک ہے جن میں انصاری شوگر ملز، باوانی شوگرملز، چمبر شوگر ملز، خوسکی شوگر ملز، لاڑ شوگر ملز، نوڈیرو شوگر ملز، نیو دادو شوگر ملز، نیو ٹھٹھہ شوگر ملز اور ٹنڈو اللہ یار شوگر ملز شامل ہیں۔

اومنی گروپ انور مجید کی ملکیت ہے جو اگرچہ براہ راست سیاست میں نہیں آئے تاہم ان کا شمار صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ انور مجید کو آصف زرداری کے ساتھ جعلی بینک اکاونٹس کیس میں شریک ملزم قرار دیا گیا تھا لیکن دونوں اس الزام سے بری ہو گئے تھے۔ سندھ کے ضلع بدین میں قائم مرزا شوگر ملز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا شامل ہیں جو سندھ کے سابق وزیر داخلہ اور سابق سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے شوہر ہیں۔

 

خیبر پختونخوا میں قائم شوگر ملز میں پریمیئر شوگر ملز اور چشمہ شوگر ملز عباس سرفراز خان کی ملکیت ہیں جو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی وفاقی کابینہ کا حصہ تھے۔

Back to top button