نئے پاکستان میں کس طرح کپتان کی ٹیم ملکی خزانہ لوٹ رہی ہے؟

وزیراعظم عمران خان کی زیر قیادت چلنے والی حکومت کی اڑھائی سالہ بدترین کارکردگی میں بڑا ہاتھ ان کے کرپٹ وزرا کا ہے جنہوں نے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے دونوں ہاتھوں سے اپنی جیبیں بھریں اور اربوں کماکر قومی اداروں کو کنگال کردیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران اور انکے وزیروں مشیروں کی فوج نے صرف اڑھائی سال میں ہی اربوں روپے کما لیے اور اگر عمران خان کی حکومت نہ آتی تو یہ لوگ ساری عمر اتنا پیسہ نہیں کما سکتے تھے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ عمران خان کے وزیروں اور مشیروں میں سے کوئی آٹا کھا گیا، کوئی چینی کھا گیا، کوئی غریب مریضوں کی ادویات کھا گیا اور کوئی پٹرول پی گیا۔ کسی نے پی آئی اے اور کسی نے ریلوے کو تباہ کر دیا۔ دوسری طرف خان صاحب کہتے ہیں کہ اڑھائی سال میں ان کو پتہ ہی نہیں تھا کہ حکومت چلانی کیسے ہے۔ لیکن انکے وزراء کو یہ ضرور بتاتا کہ پیسے کیسے کھانے ہیں۔
وزیراعظم کا دعویٰ ہے کہ ٹیم سلیکشن میں ان سے بہتر کوئی نہیں۔ لہذا آج ہم ان کی ٹیم کے وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں۔ اسد عمر کو پی ٹی آئی کا دماغ بھی کہا جاتا تھا جو اپوزیشن میں ہوتے ہوئے قومی اسمبلی میں اعداد و شمار بتا کر کہتے تھے کہ حکومت فی لٹر پیٹرول میں 20 روپے جیب میں ڈال رہی ہے۔ وہ کہتے تھے جب ہماری حکومت آئے گی تو ہم عوام کو 45 روپے لیٹر پیٹرول دیں گے۔ 2018 پی ٹی آئی کی حکومت بننے کے بعد ان کو وزیر خزانہ بنا دیا گیا۔ انہوں نے اپنی ناالائقی سے ملکی معیشت کو تباہ کر دیا اور ایک سال بعد ہی ان کو وزارت خزانہ سے ہٹا دیا گیا۔ آج پٹرول کی قیمت دوگنی ہو چکی ہے۔
اسی طرح وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے پی آئی اے تباہ کردی اور ہوا بازی سے منسلک لاکھوں پاکستانیوں کے روزگار کو خطرے میں ڈال دیا۔ شیخ رشید نے ریلوے کو تباہ کیا، ان کے دور 120 سے زیادہ حادثے ہوئے 70 انسان زندہ جل گئے۔ قومی خزانے کو 50 ارب کا خسارہ دینے والے شیخ چلی کو اب خان صاحب نے ترقی دے کر وزارت داخلہ سونپ دی ہے تاکہ وہ ملک میں بچا کچھا امن و امان بھی تباہ کر سکیں۔ خان صاحب کے ایک اعر چہیتے وزیر عامر کیانی نے ادویات ساز کمپنیوں سے کک بیکس لے کر ان کو مرضی سے دوایوں کے ریٹ بڑھانے کی اجازت دی۔ یوں زندگی بچانے والی ادویات غریب عوام کی پہنچ سے دور ہوگئیں۔ بعد میں وہ پکڑا گیا تو عامر کیانی کی جگہ ڈاکٹر ظفرمرزا کو لایا گیا اور بتایا گیا کہ یہ بڑے قابل ہیں۔ ڈاکٹر ظفرمرزا واقعی بڑے قابل تھے، انہوں نے کک بیکس لینے کی بجائے انڈیا سے ناقص غیر معیاری اور ایکسپائری ادویات منگوا کر پاکستانی عوام کو کھلا کر اربوں روپے جیب میں ڈال لیے۔ کورونا فنڈ کا 10 ارب جیب میں ڈال لیے کرونا کے دوران ماسک دوسرے ملکوں کو سمگل کیے کرونا کے دوران ڈاکٹر اور طبی عملہ حفاظتی سامان کے لیے احتجاج کرتے رہے لیکن عمران کے وزیروں مشیروں نے اپنی کارکردگی دکھا کر جیبیں بھرتے رہے۔
اسی طرح کرونا کی یلغار کے دوران ہی جب عوام بے یارو مددگار تھی عمران خان صاحب کے دائیں اور بائیں والے خسرو بختیار اور جہانگیر ترین نے آٹے اور چینی کا بحران پیدا کرکے اور بلیک مارکیٹنگ کر کے پاکستانی غریب عوام کو اربوں روپے کا چونا لگایا۔ عمران کے قریبی دوست اور مشیر ندیم بابر نے دیکھا کہ ان وزیروں کی اتنی اچھی کارکردگی ہے میں کیوں پیچھے رہوں۔ چنانچہ انہوں نے پٹرول منگوانے کا ٹھیکہ اپنی کمپنی ہسکول کو دیا اور مارکیٹ میں بلیک مارکیٹنگ کر کے اربوں روپے کمائے۔ لہذا کپتان کے ڈھائی سالہ دور اقتدار میں عوام کی چیخیں نکل گئیں ہیں لیکن ان کے کرپٹ وزرا کی جیبیں یقینا بھر گئی ہیں۔