نیا امریکی صدر ٹرمپ بنے یا کمیلا، پاکستان سے دوستی ممکن کیوں نہیں؟

امریکہ میں 5 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ جیتیں یا کمیلا ہیرس، پاکستان کے ساتھ امریکی رویے یا تعلقات میں بہتری کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔ وجہ یہ ہے کہ اب چاہے وہ ڈیموکریٹک پارٹی ہو یا ریپبلکن پارٹی، امریکی اسٹیبلشمنٹ اب پاکستان کو بطور چینی اتحادی دیکھتی ہے۔ لہازا چین، افغانستان اور پاکستان بارے امریکی پالیسی تقریباً ایک جیسی ہوگی۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی۔لگایا جا سکتا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کی ابتدا ریپبلکن پارٹی کی حکومت نے کی، لیکن اس عمل کو مکمل ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت نے کیا۔
معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امریکہ میں صدارتی انتخابات 5 نومبر کو ہوں گے جنکی تیاریاں ابھی سے زوروں پر ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن لڑینگے، اور ڈیموکریٹک پارٹی سے کمیلا ہیرس۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں امریکی انتخابات پر مرکوز ہیں، کیونکہ امریکہ ایک عالمی طاقت ہے اور اس کے فیصلے پوری دنیا پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ کمیلا ہیرس کے والدین پناہ گزین تھے۔ انکی والدہ 1959 میں بھارت میں پیدا ہوئیں اور ان کے والد ماہر اقتصادیات ہیں جو جمیکا میں پیدا ہوئے۔ کملا کا سیاسی کیریئر کیلیفورنیا کی ریاست سے شروع ہوا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز سان فرانسسکو کی ڈسٹرکٹ اٹارنی بن کر کیا، جو وہاں کی سب سے اعلیٰ پراسکیوٹر کا عہدہ ہے۔ اس کے بعد کیلیفورنیا میں انہوں نے مجرمانہ انصاف کے مسائل پر دائیں بازو کا رخ اپناتے ہوئے انتخابات جیتے اور ساتھ ساتھ ڈیموکریٹس کو بھی اپیل کیا، جس کے نتیجے میں ریاست کی اٹارنی جنرل منتخب ہوئیں۔بطور سینیٹر، کمیلا نے مباحثوں میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے، جہاں ان کی وکالت کی مہارتیں واضح طور پر نظر آتی ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی عمران خان کہلانے والے ڈونلڈ ٹرمپ سے تو پوری دنیا واقف ہے، کیونکہ وہ پہلے بھی امریکہ کے صدر رہ چکے ہیں۔ ان کے دادا جرمنی سے پناہ گزین ہو کر آئے تھے، جبکہ ان کی ماں اسکاٹ لینڈ سے آئی تھیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے والد نیو یارک کے ایک کامیاب کاروباری شخصیت تھےاور ٹرمپ خود بھی ارب پتی کاروباری شخصیت ہیں۔ امریکہ میں کچھ ریاستیں ایسی ہیں جہاں انتخابی مقابلہ بہت سخت ہوتا ہے لہازا ان ریاستوں پر خاص توجہ دی جاتی ہے، کیونکہ ان کا صدر منتخب کرنے میں بڑا کردار ہوتا ہے۔ ایسی ریاستوں کو ’’سوئنگ اسٹیٹس‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان میں سے سات ریاستیں اس بار وائٹ ہاؤس کی چابی رکھ سکتی ہیں۔ امریکی سوینگ سٹیٹس میں حالیہ پولز کے مطابق کمیلا اپنے مخالف ٹرمپ سے آگے ہیں۔ پولز کے مطابق کمیلا نے خواتین ووٹرز اور ہسپانوی ووٹرز کے درمیان ٹرمپ پر کئی پوائنٹس کی برتری حاصل کر لی ہے، جبکہ ٹرمپ نے سفید فام ووٹرز اور مردوں کے درمیان برتری حاصل کی۔ ٹرمپ سفید فام لوگوں میں کافی مقبول ہیں اور انہیں ان کی حمایت حاصل ہے۔
دوسری طرف تقریباً 73 فیصد ڈیموکریٹک رجسٹرڈ ووٹرز نے کہا ہے کہ کمیلا کے انتخابی دوڑ میں شامل ہونے کے بعد وہ نومبر میں ووٹ ڈالنے کے بارے میں زیادہ پُرجوش ہو گئے ہیں۔ اسی طرح ایک سروے میں 60 فیصد جواب دہندگان بائیڈن کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے تھے، جو بنیادی طور پر ٹرمپ کو روکنے کیلئے ایسا کر رہے تھے، جبکہ اگست کے سروے میں کملا ہیرس کے 52 فیصد ووٹرز انہیں ٹرمپ کی مخالفت کے بجائے بطور امیدوار سپورٹ کرنے کیلئے ووٹ دے رہے تھے۔ یاد رہے کہ صدر بائیڈن نے 21 جولائی 1024 کو اپنی انتخابی مہم اس وقت ختم کر دی جب ٹرمپ کے ساتھ ایک ناکام مباحثے کے بعد ان کے ساتھی ڈیموکریٹس نے انہیں دوبارہ مہم میں حصہ لینے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ ڈیموکریٹس کو خدشہ تھا کہ بائیڈن ٹرمپ کا مؤثر طریقے سے مقابلہ نہیں کر سکیں گے، اس لیے انہوں نےکمیلا کو ٹرمپ کے مد مقابل کھڑا کر دیا۔ کمیلا کی آمد سے انتخابی مقابلہ دوبارہ سخت ہو گیا ہے، کیونکہ ان کی مقبولیت اپنے ووٹرز میں بائیڈن سے زیادہ ہے اور عمر کے لحاظ سے بھی وہ اپنے مخالف سے زیادہ متحرک اور توانا ہیں۔
تاہم، سلیم صافی کہتے ہیں کہ بائیڈن کی صدارت کو بلند افراطِ زر، بڑے صنعتی پالیسی بلوں، اور بین الاقوامی سطح پر انتشار جیسے مسائل کے ساتھ جوڑا گیا ہے، اور ریپبلکنز ان مسائل کا الزام کمیلا پر بھی عائد کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ ان کی مہم کی کامیابی کو کمزور کیا جا سکے۔
لیکن ٹرمپ کو ریاستی اور وفاقی سطح پر متعدد الزامات کا سامنا ہے۔ ان کی قانونی ٹیم مختلف مقدموں کو زیادہ سے زیادہ تاخیر سے نمٹانے کی کوشش کر رہی ہے، اس امید کے ساتھ کہ اگر وہ دوبارہ وائٹ ہاؤس میں آ گئے تو وہ ممکنہ طور پر جیل جانے سے بچ سکیں گے یا اسے مؤخر کر سکیں گے۔ جب ٹرمپ نے مارچ میں ریپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی نامزدگی حاصل کی، تو وہ چار مختلف مقدمات میں سنگین الزامات کا سامنا کر رہے تھے۔ انکے خلاف ایک وفاقی مقدمہ، جو 2020ءکے امریکی صدارتی انتخابات کو الٹانے کی کوششوں اور 6 جنوری کو کیپٹل ہل حملے میں ان کے مبینہ کردار پر مبنی ہے، ابھی زیرِ سماعت ہے۔ اسی طرح ٹرمپ کو کاروباری ریکارڈز میں جعلسازی کے ایک مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا، لیکن صدارتی استثنیٰ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے یہ فیصلہ اب معلق ہے۔ ٹرمپ پر خفیہ دستاویزات کے غلط استعمال اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے، لیکن 15 جولائی 2024 کو ایک جج نے یہ مقدمہ خارج کر دیا، محکمہ انصاف اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رہا ہے، لیکن اب تقریباً یقینی ہے کہ یہ مقدمہ نومبر کے انتخابات سے پہلے نہیں ہو سکے گا۔ ٹرمپ اور 18 شریک ملزمان پر جارجیا ریاست کے قانون کے تحت 2020 کے انتخابات کو الٹانے کی مجرمانہ سازش کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ یہ مقدمہ ابھی جاری ہے، اور قانونی کارروائیاں مختلف مراحل میں ہیں۔ لیکن ان مقدمات پر جس طرح کام ہو رہا اس سے نہیں لگتا کہ ان کی وجہ سے ٹرمپ انتخابی دوڑ سے باہر ہو جائینگے یا ان کی کامیابی میں کوئی رکاوٹ آ جائیگی۔ ان کو کامیابی بھی مل سکتی ہے اور وہ صدر بھی بن سکتے ہیں۔ 13 جولائی کو پنسلوانیا میں ایک جلسے کے دوران، ایک 20 سالہ نوجوان نے ڈونلڈ ٹرمپ پر گولی چلائی، جو ان کے کان کو چھوتے ہوئے گزرگئی اور جس کی وجہ سے ایک راہگیر ہلاک ہو گیا۔ اس حملے کے بعد سے ٹرمپ کافی متحرک اور مضبوط دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم، ان کے مقابلے میں کمیلا بھی کمزور نہیں ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مقابلہ کافی سخت ہوگا۔ لیکن صافی کہتے ہیں کہ امریکہ میں چاہے کوئی بھی صدر منتخب ہو یا کسی بھی پارٹی کی حکومت بنے، پاکستان کے ساتھ امریکی رویے یا تعلقات میں نمایاں بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ امریکہ پاکستان کو، چاہے وہ ڈیموکریٹک ہو یا ریپبلکن پارٹی کی،اب چین کے تناظر میں دیکھتا ہے اور چین، افغانستان اور پاکستان پران کی پالیسی تقریباً ایک جیسی ہوگی۔
