روس میں 8.8 شدت کے زلزلے سے سونامی وارننگزجاری

روس کے مشرقی علاقے کامچاتکا میں بدھ کے روز 8.8 شدت کا شدید زلزلہ آیا، جس سے عمارتوں کو نقصان پہنچا، متعدد افراد زخمی ہوئے اور سونامی کی 4 میٹر (13 فٹ) بلند لہریں ریکارڈ کی گئیں۔ اس زلزلے اور ممکنہ سونامی کے باعث بحرالکاہل کے گرد کئی ممالک میں خطرے کی گھنٹیاں بج گئیں اور انخلا کے احکامات جاری کر دیے گئے۔
کامچاتکا کے گورنر ولادیمیر سولودوف نے اسے دہائیوں کا شدید ترین زلزلہ قرار دیا اور کہا کہ صورتحال انتہائی نازک ہے۔
ریجنل ایمرجنسی منسٹر سرگئی لیبیڈیف کے مطابق ساحلی علاقوں میں 3 سے 4 میٹر بلند سونامی کی لہریں دیکھی گئیں، جس کے پیش نظر عوام کو ساحلی علاقوں سے فوری دور رہنے کی ہدایت جاری کی گئی۔
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق زلزلے کی گہرائی صرف 19.3 کلومیٹر تھی، جبکہ اس کا مرکز پیٹروپاولوسک-کامچاتسکی شہر سے 119 کلومیٹر جنوب مشرق میں تھا۔ بعد ازاں 6.9 شدت کا ایک آفٹر شاک بھی محسوس کیا گیا۔
اس ہولناک زلزلے کے بعد ہوائی، جاپان، چلی، ایکواڈور، جزائر سلیمان اور امریکا کے مغربی ساحلی علاقوں میں سونامی وارننگز جاری کر دی گئیں۔
2011 کے تباہ کن زلزلے و سونامی سے سبق سیکھتے ہوئے جاپانی محکمہ موسمیات نے فوری انخلا کے احکامات صادر کیے۔ جزیرہ ہوکائیدو میں لوگ عمارتوں کی چھتوں پر خیمے لگا کر پناہ لیتے نظر آئے جبکہ ماہی گیری کشتیاں بندرگاہوں سے ہٹ کر محفوظ مقامات کی طرف روانہ ہو گئیں۔
فوکوشیما نیوکلیئر پاور پلانٹ کو بھی خالی کرا لیا گیا، جہاں 2011 میں زلزلے کے بعد تابکار اخراج کا بڑا بحران پیدا ہوا تھا۔ جاپانی حکام کے مطابق تاحال کسی جانی نقصان یا جوہری تنصیبات میں خرابی کی اطلاع نہیں ملی۔
امریکی سونامی وارننگ سینٹر نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ تین گھنٹوں کے دوران خطرناک لہریں بحرالکاہل کے کئی ساحلی علاقوں سے ٹکرا سکتی ہیں۔
دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پیغام دیتے ہوئے کہا، "بحرالکاہل میں زلزلے کے بعد ہوائی میں سونامی وارننگ جاری ہو چکی ہے، امریکا کی مغربی ساحلی پٹی اور الاسکا بھی خطرے کی زد میں ہیں، لوگ محفوظ مقامات پر چلے جائیں۔”
ہوائی ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی نے ساحلی اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر بلند مقامات یا کم از کم عمارتوں کی چوتھی منزل تک چلے جائیں۔
