عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ کے 8 ججز جیسا کون سا فیصلہ دیا تھا

سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کنور محمد دلشاد نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے 8 ججز نے مخصوص نشستوں کے کیس میں عمران خان کی جماعت کو جس طرح کا غیر آئینی ریلیف دیا ہے ایسا ہی ریلیف جسٹس عمر عطا بندیال نے چوہدری پرویز الہی کو وزیراعلی بنانے کے لیے دیا تھا۔ لہازا سپریم کورٹ کے دو جج صاحبان کی جانب سے 8 ججز کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دینا بالکل درست ہے اور اس پر عمل درامد بھی لازمی نہیں جیسا کہ دونوں ججز نے اپنے اختلافی نوٹ میں بھی واضح کیا ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان نے 8 ساتھی ججز کی جانب سے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں آلاٹ کرنے کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا ہے۔ ان دونوں ججز نے سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے میں اپنا تفصیلی اختلافی نوٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو ریلیف دینے کے لیے آئین کے آرٹیکل 51، آرٹیکل 63 اور آرٹیکل 106 کو معطل کرنا ہو گا۔ سپریم کورٹ کے دونوں سینئیر ترین ججز نے مخصوص سیٹوں کے کیس میں اپنے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ نہ تو آرٹیکل 62 اور 63 کو معطل کیا گیا ہے اور نہ ہی کیا جا سکتا ہے، لہٰذا اگر اراکین قومی و صوبائی اسمبلی حلف نامے کی آئینی شقوں کے برعکس پہلے سے جمع کرائے گئے اپنے حلف ناموں کے برعکس کوئی نیا حلف نامہ داخل کرتے ہیں اور کسی دوسری پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں، تو یہ عمل غیر قانونی اور غیر ائینی ہوگا۔ ان ججز کا کہنا تھا کہ عدالت کا کوئی بھی حکم جو کہ آئینی دفعات سے مطابقت نہیں رکھتا، اس پر ریاست کا کوئی بھی دوسرا ادارہ عملدرآمد کا پابند نہیں ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کنور محمد دلشاد کہتے ہیں کہ یہ اختلافی نوٹ دراصل ہمیں ماضی کی طرف لے گیا ہے جب پنجاب اسمبلی میں فلور کراسنگ کے کیس میں تب کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پرویز الہی کو وزیراعلی بنانے کی خاطر آئین کے آرٹیکل 63 کی تشریح کرتے ہوئے فیصلہ دیا تھا کہ فلور کراسنگ کرنے والے اراکینِ اسمبلی ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں لیکن ان کو شمار نہیں کیا جائے گا۔ کنور دلشاد کہتے ہیں کہ تب بھی آئین کے آرٹیکل 63 کی غلط تشریح کی گئی اور آئین سے بالا فیصلہ دیتے ہوئے آئینی خلاف ورزی کی گئی۔ تب اس فیصلے کے خلاف جو اختلافی نوٹ لکھا گیا تھا اُس میں کہا گیا تھا کہ اس میں آئین کی نئی تشریح کی گئی ہے‘ جو آئین کے خلاف ہے۔ مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے پر اختلافی نوٹ سامنے آنے کے بعد عدالت بظاہر تقسیم ہوتی نظر آ رہی ہے جس سے آئینی بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

دراصل مخصوص نشستوں کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا فیصلہ الیکشن ایکٹ کی دفعہ 104 کے مطابق تھا۔ الیکشن کمیشن کا یہ نکتہ کافی اہم ہے کہ تحریک انصاف الیکشن ایکٹ کی دفعہ205‘ 209 اور 215 کے تحت بطور سیاسی پارٹی اپنا وجود کھو چکی ہے۔تحریک انصاف کے چیئرمین‘ کور کمیٹی اور سیکرٹری جنرل کی کوئی قانونی حیثیت نہیں کیونکہ پارٹی نے پانچ سال سے الیکشن ایکٹ کے مطابق پارٹی الیکشن نہیں کرائے‘ جب پارٹی کا کوئی سیاسی وجود ہی نہیں رہا تو اس کے اراکین مخصوص نشستوں کے کاغذاتِ نامزدگی پر کس حیثیت سے دستخط کریں گے۔ یہ اہم نکتہ اٹارنی جنرل کو الیکشن کمیشن کی طرف سے سپریم کورٹ میں داخل کرنا چاہیے تھا۔

کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 12 جولائی کے سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائرکردی ہے۔ نظرثانی درخواست میں سنی اتحاد کونسل‘ ایم کیوایم‘ پیپلزپارٹی‘ (ن) لیگ اور دیگرکو فریق بنایا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے درخواست میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو عدالتی فیصلے میں ریلیف دیا گیاجو کیس میں فریق نہیں تھی‘ آزاد ارکان نے بھی سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ فیصلے میں کچھ ایسے حقائق کو مان لیا گیا جو عدالتی ریکارڈ پر نہ تھے۔ آزاد حیثیت سے جیتنے والے 80 ارکان نے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ان ارکان نے اپنی شمولیت کے ڈکلیئریشن جمع کرائے۔ سپریم کورٹ نے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا حکم دے دیا۔ 41 ارکان کو دوبارہ پارٹی وابستگی کا موقع فراہم کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کو معاملے پر مؤقف دینے کا موقع نہیں دیا گیا‘۔

سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن اف پاکستان کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے 12 جولائی کے فیصلے کے احکامات امتیازی اور ایک پارٹی کے حق میں ہیں‘ فیصلے میں آئین وقانون کے آرٹیکلز اور شقوں کو نظر انداز کیا گیا اور مختصر فیصلے میں عدالتی دائرہ اختیار سے تجاویزکیا گیا۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی دو کیٹیگری میں تقسیم بھی غلط کی گئی۔

Back to top button