وفاقی وزراکاموبائل ڈیٹا کوڑیوں کے بہاؤ کس نے بیچا؟

سوشل میڈیا پر اہم حکومتی شخصیات کا موبائل ڈیٹا کوڑیوں کے بھاؤ بکنے لگا۔ پاکستان میں ایک بار پھر وفاقی وزرا، اعلیٰ حکومتی عہدیداران، سکیورٹی اداروں کے افسران اور عام شہریوں کے موبائل سمز کا ڈیٹا انٹرنیٹ پر لیک ہو گیا۔ ہیکرز کی جانب سےانٹرنیٹ پر موبائل سم مالک کا ایڈریس، کال ریکارڈ، شناختی کارڈ کی کاپی، بیرون ملک سفرکی تفصیلات سمیت موبائل نمبر سے منسلک تمام ڈیٹا فروخت کیلئے پیش کر دیا گیا۔ سم ڈیٹا لیک نے پاکستان میں ڈیٹا سیکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ محض ایک تکنیکی خلا نہیں بلکہ ریاستی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، کیونکہ حساس نوعیت کا یہ ڈیٹا دشمن ممالک یا جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے ہاتھ لگنے کی صورت میں قومی سلامتی سے لے کر ذاتی پرائیویسی تک ہر پہلو کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
خیال رہے کہ وفاقی وزرا، حکومتی شخصیات اور اعلیٰ سرکاری افسران سمیت ہزاروں پاکستانیوں کا تمام ڈیٹا انٹرنیٹ پر لیک ہو چکا ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ، سے لے کر ترجمان پی ٹی اے تک ہرشخص کا ڈیٹا گوگل پر بیچے جانے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ متعدد اہم حکومتی شخصیات کی تمام دستاویزات انٹرنیٹ پر وائرل ہو چکی ہیں جن میں ان کے شناختی کارڈ کی تفصیل اور کال ریکارڈ سمیت مختلف ذاتی معلومات شامل ہیٰں۔ ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ پر درجنوں ویب سائٹس شہریوں کا ڈیٹا معمولی پیسوں عوض بیچنے میں مصروف ہیں، موبائل کی لوکیشن500 روپے، موبائل ڈیٹا ریکارڈ تفصیل2000 روپے، غیرملکی سفرکی تفصیل 5 ہزارمیں دستیاب ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ جرائم پیشہ عناصرکسی بھی شہری کا ڈیٹا چند پیسوں میں خرید کر شہریوں کو مصیبت میں پھنسا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں بھی یہ خبر سامنے آئی تھی کہ انٹرنیٹ پر اہم حکومتی شخصیات کا ذاتی ڈیٹا فروخت کیا جا رہا ہے تاہم پی ٹی اے، این سی سی آئی اے سمیت تمام اداروں نے اس ڈیٹالیکن پر خاموشی اختیار کئے رکھی۔ اس وقت پی ٹی اے کی جانب سے خبرپر موقف دیا گیا تھا کہ موبائل سمز ڈیٹا کی فروخت میں ملوث سائٹس بند کردی گئی ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایک سال بعد بھی شہریوں کا ڈیٹا بیچے جانے کا عمل جاری ہے۔ تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ موبائل سمز کا ڈیٹا کیسے لیک ہوا، کون لگاتار ڈیٹا لیک کررہا ہے، ایک سال پہلے اس حوالے سے خبریں شائع ہونے کے باوجود ان کالی بھیڑوں کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا گیا؟ تاہم اب وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے موبائل ڈیٹا لیک کی خبر کا فوری نوٹس لیتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو معاملے کی تحقیقات اور اقدامات کی ہدایت کردی۔ اس حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیر داخلہ کی ہدایت پر این سی سی آئی اے نے کام شروع کردیا اور خصوصی انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی جو ڈیٹا لیکج کے معاملے کی ہر پہلو سے تحقیقات کرے گی۔ ڈیٹا لیکج میں ملوث عناصر کا تعین کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ تحقیقاتی ٹیم 14 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں بار بار ڈیٹا لیکس کے واقعات کیوں سامنے آتے ہیں؟ اس حولاے سے سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈیٹا سیکیورٹی پالیسی موجود ضرور ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ ٹیلی کام سیکٹر میں ریگولیٹری نگرانی کمزور ہونے کی وجہ سے ایسے لیکس بار بار سامنے آ رہے ہیں۔ یہ معاملہ صرف پرائیویسی کا نہیں بلکہ نیشنل سیکیورٹی کا ہے۔ جب وزرا اور حساس اداروں کے افسران کا ڈیٹا پبلک ڈومین میں آ جائے تو یہ دشمن ممالک کے لیے قیمتی ہتھیار بن سکتا ہے۔” ناقدین کے مطابق حالیہ ڈیٹا لیک کے بعد ایک بار پھر حکومتی سطح پر صرف تحقیقات کے دعوے سامنے آئے ہیں، لیکن ماضی کی طرح اس بار بھی ذمہ داری کا تعین اور مؤثر کارروائی ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ ناقدین کے مطابق جب تک ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد اور جدید سائبر سیکیورٹی نظام نافذ نہیں ہوتا، ایسے واقعات بار بار جنم لیتے رہیں گے۔
ماہرین کے مطابق ڈیٹا لیک صرف ایک ٹیکنیکل مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے ریاستی ڈھانچے کی کمزوری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک طرف حکومت ڈیجیٹلائزیشن کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے، دوسری طرف شہریوں کے سب سے بنیادی حق یعنی پرائیویسی تک محفوظ رکھنے میں ناکام ہے۔ اگر اب بھی پاکستان نے فوری طور پر جدید سائبر سیکیورٹی انفراسٹرکچر اور سخت قانونی فریم ورک نافذ نہ کیا تو آنے والے برسوں میں نہ صرف ذاتی پرائیویسی بلکہ قومی سلامتی کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
