سہیل وڑائچ نے عمران کی فوج سے ڈیل کا امکان مسترد کیوں کر دیا؟

 

 

 

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ توشہ خانہ کرپشن ریفرنسز میں لمبی قید کی سزا کاٹنے والے عمران خان کو فیصلہ سازوں کی جانب سے رہائی کی ریلیف ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں ان کا کہنا ہے کہ عمران خان اب بھی ایک کرشمے اور کسی ان دیکھے انقلاب کے منتظر ہیں جو ان کی کایا پلٹ دے۔ دوسری طرف فوجی اسٹیبلشمنٹ انہیں کسی قسم کا ریلیف دینے کو اس لیے تیار نہیں کہ وہ ان پر ذرہ بھر بھی اعتماد نہیں کرتی۔ طاقت ور فیصلہ سازوں کو یقین ہے کہ قیدی نمبر 804 کو دی گئی ہر رعایت اور سہولت خود ان کے لیے سختی اور مشکل کا باعث بنے گی۔

 

سینئر تجزیہ کار کے مطابق تحریک انصاف اور فوج کے درمیان اس وقت جو سیاسی آنکھ مچولی جاری ہے، اس پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض حلقے اسے ’ڈیل‘ قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ کے نزدیک یہ محض ’ڈھیل‘ ہے۔ تاہم سہیل وڑائچ کے بقول منطق کی رو سے یہ دونوں تعبیرات درست نہیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال کو حکمرانی اور رہائی کی تدبیر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد معاملات کو ٹھنڈا رکھ کر اپنی حکمرانی کو طول دینا چاہتا ہے، جبکہ تحریک انصاف بیماری کے نازک حالات میں سیاسی بہتری اور ممکنہ رہائی کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دونوں جانب سے بظاہر لچک کا تاثر دیا جا رہا ہے، مگر حقیقی مفاہمت کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ دونوں فریق اپنی اپنی پوزیشن پر قائم ہیں اور فوری طور پر کسی درمیانی راستے کی طرف بڑھتے نظر نہیں آتے۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ پوزیشن اور پوسچر ایک نہیں ہوتے۔ اندرونی حلقوں کا خیال ہے کہ فوج اور مخلوط حکومت اپنی سابقہ پوزیشن یا موقف پر ہی قائم ہیں، البتہ عوامی سطح پر نرم رویے کا تاثر دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح تحریک انصاف بھی اپنی پوزیشن پر برقرار ہے، اگرچہ وہ پالیسی میں لچک کا عندیہ دیتی دکھائی دیتی ہے۔

سہیل وڑائچ نے کہا کہ جیل میں عمران خان کی آنکھوں کی بیماری نے ان کے لیے سیاسی  ہمدردی کی ایک لہر کو جنم دیا ہے۔ بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اس ہمدردی کی لہر کا مقابلہ کرنے کی مکمل سکت نہیں رکھتی، اسی لیے نرم رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، جس سے ڈیل یا ڈھیل کا تاثر ابھرتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق حقیقت اس سے مختلف ہے۔

 

تحریک انصاف میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ کسی بھی ڈیل یا ڈھیل سے حکومت کی پوزیشن کمزور ہو جائے گی، جبکہ وہ اپنی پوزیشن کو کم کرنے کے بجائے مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ اسی لیے اس نے عمران خان کی بیماری کی اڑ میں بات چیت کا سیاسی راستہ اپنایا ہے تاکہ بحرانی کیفیت میں حکومت پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا جا سکے۔

تجزیہ کار کے مطابق تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی میثاق، معاہدہ یا اتفاقِ رائے اسی وقت کامیاب ہوتا ہے جب دونوں متحارب فریقوں کو اس میں فائدہ نظر آئے۔ جنگ ہارنے والا فریق فاتح کی شرائط پر ہی صلح کرتا ہے، جبکہ فاتح اگر غیر معمولی رعایت دے تو اسے اپنے اقتدار کے لیے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ مکمل سرنڈر کی توقع رکھتے ہیں، وہ دراصل کرشمے یا کسی غیر معمولی حادثے کے منتظر ہوتے ہیں۔ انہوں نے تاریخی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ برصغیر کی آزادی کی جدوجہد میں مہاتما گاندھی اور محمد علی جناح کو بھی برطانوی حکمرانوں سے مذاکرات کرنا پڑے۔ اسی طرح بینظیر بھٹو کو غیر جماعتی اسمبلی کے نامزد وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی گول میز کانفرنس میں شرکت کرنا پڑی۔ اقتدار میں آنے کے لیے انہیں جنرل اسلم بیگ کی شرائط تسلیم کرنا پڑیں اور اہم وزارتیں فوج کے نامزد افراد کو دینا پڑیں۔

 

اسی طرح نواز شریف کو پہلی بار وزارتِ عظمیٰ حاصل کرنے کے لیے صدر غلام اسحاق خان اور فوج کے پسندیدہ افراد کو کابینہ میں شامل کرنا پڑا۔ بعد ازاں بینظیر بھٹو کو فوجی صدر پرویز مشرف کے ساتھ این آر او کے بعد وطن واپسی کا موقع ملا۔ نواز شریف کو بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع اور بعد ازاں فوج سے مفاہمت کے بعد وطن واپسی نصیب ہوئی۔ عالمی سطح پر نیلسن منڈیلا کی مثال بھی دی جاتی ہے، جنہیں اقتدار تک پہنچنے کے لیے اپنے مخالف حکمرانوں سے معاہدہ کرنا پڑا۔ سہیل وڑائچ کے مطابق موجودہ بین الاقوامی ماحول جمہوری نہیں بلکہ طاقت کے غلبے کا ہے، جہاں انسانی آزادیوں کی پوزیشن سکڑتی جا رہی ہے۔ ایسے میں فوج اور مخلوط حکومت کی جانب سے کسی بڑی سیاسی قربانی یا رسک لینے کا امکان کم دکھائی دیتا ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے اسے محض وقتی تدبیر قرار دیا جا سکتا ہے۔

اڈیالہ سے بنی گالہ منتقلی، عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کی جیت کیسے؟

انہوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی تاریخ میں بیماریوں کو بھی تاثر سازی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ضیا مارشل لا دور میں بینظیر بھٹو کی علالت کے باعث انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دینا پڑی، جبکہ عمران دور میں نواز شریف کی صحت بارے ایسی فضا قائم کی گئی کہ ان کا بیرون ملک علاج ناگزیر قرار پایا۔ سہیل وڑائچ کے مطابق بعض مبصرین موجودہ صورت حال کا ماضی سے تقابل کر کے وہی نتائج اخذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر فی الحال سیاسی افق پر ایسی کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آ رہی جو عمران خان کے لیے رہائی جیسی بڑی ریلیف کا راستہ ہموار کر دے۔ ان کے مطابق ایک فریق اب بھی کسی کرشمے یا غیر متوقع سیاسی انقلاب کا منتظر ہے، جبکہ دوسرا فریق اعتماد کے فقدان کے باعث کسی بھی رعایت کو اپنے لیے نقصان دہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام فریقین پاکستان، عوام اور آنے والی نسلوں کے مفاد میں مصالحت کی راہ اختیار کریں گے، کیونکہ تاریخ میں اصل میراث لڑائی نہیں بلکہ امن، مفاہمت اور امید ہوتی ہے۔

 

Back to top button