حکومت کی مخالفت میں تحریک انصاف ملک دشمنی پر کیوں اتر آئی؟

عمران خان کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے ملک کے طول و عرض میں انتشار پھیلانے والی پی ٹی آئی سیاسی مخالفت میں ملک دشمنی پر اتر آئی۔ ملکی معیشت کو عدم استحکام سے دوچار کر کے حکومت پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے اوورسیز پاکستانیوں کو ترسیلات زر پاکستان نہ بھیجنے کی پے در پے اپیلوں کے بعد اب تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کو پاکستان کو دیا جانے والا قرض روکنے کے حوالے سے خط لکھ دیا ہے،۔ پی ٹی آئی قیادت نے خط میں حکومت پر سیاسی انتقامی کارروائیوں کے الزامات لگاتے ہوئے آئی ایم ایف سے مبینہ انسانی حقوق کی پامالی کے نام پر فوری قرض پروگرام معطل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ مبصرین پی ٹی آئی کے عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کو لکھے جانے والے حالیہ خط کو ملکی معیشت کی بحالی کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی کا یہ اقدام عمران خان کی اس تاریخی روش سے مطابقت رکھتا ہے جس میں وہ پاکستان کے استحکام کے موقع پر غیر ملکی مداخلت کے ذریعے قومی ترقی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ناقدین کے مطابق آئی ایم ایف کو لکھا گیا خط پی ٹی آئی کے ریاست مخالف ایجنڈے کو بے نقاب کرتا ہے۔ پی ٹی آئی قیادت اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے مسلسل پاکستان کے معاشی استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے پتا چلتا ہے پی ٹی آئی اپنے مسائل کے جمہوری یا قانونی حل کی بجائے غیر ملکی مداخلت کو ترجیح دیتی ہے۔
مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کا آئی ایم ایف کو ڈوزیئر جمع کرانا، ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کی ایک اور کوشش ہے، یہ اقدام پی ٹی آئی کے ریاست مخالف رویے کو ظاہر کرتا ہے، مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ جب بھی پاکستان معاشی بحالی کے دہانے پر ہوتا ہے پی ٹی آئی غیر ملکی مداخلت اور سازشوں کے ذریعے ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق معاشی استحکام پاکستان کا قومی مقصد ہے اور پی ٹی آئی کی جانب سے اس نازک مرحلے پر اسے متاثر کرنے کی کوشش ملک دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے کیونکہ کوئی بھی محب وطن سیاسی جماعت کبھی بھی بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں اپنے ہی ملک کے خلاف لابنگ نہیں کرے گی۔
ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی کا آئی ایم ایف کو لکھا گیا خط ایک سیاسی چال نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی خودمختاری پر براہ راست حملہ ہے، مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کی ملکی معیشت کے خلاف سازش کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی پی ٹی آئی رہنما پہلے آئی ایم ایف ڈیل کو نقصان پہنچانے کیلئے غیر ملکی قوتوں سے مدد طلب کرتے رہے ہیں۔آئی ایم ایف کے ہیڈ کوارٹر کے باہر احتجاج کرنے سے لے کر سابق وزرائے خزانہ کی لیک شدہ گفتگو تک، پی ٹی آئی کا پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچانے کا ریکارڈ بڑا واضح ہے۔
مبصرین کے مطابق تحریک انصاف جب اقتدار میں تھی تو اس نے ملکی معیشت کو بری طرح چلایا اور اب اپوزیشن میں آ کر بھی وہ معاشی بحران کو مزید بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، جمہوری اور قانونی ذرائع کے بجائے غیر ملکی مداخلت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ثابت کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کے مفادات قومی مفادات سے متصادم ہیں۔پاکستان اس وقت اسٹریٹجک شراکت داری، تجارتی معاہدوں اور پالیسی اصلاحات کے ذریعے معاشی بحالی کی راہ پر گامزن ہے جبکہ پی ٹی آئی اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی کا آئی ایم ایف کو ڈوزیئر جمع کرانے کا وقت کوئی اتفاق نہیں، یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے تاکہ اس نازک مرحلے پر معیشت کو غیر مستحکم کیا جا سکے، کوئی ذمہ دار سیاسی جماعت معاشی چیلنجز کو سیاسی فائدے کیلئے ہتھیار نہیں بناتی، مگر پی ٹی آئی قومی بحرانوں سے ہی اپنی سیاست چمکانے کیلئے سرگرداں ہے۔۔مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی اپنے قابل مذمت اقدامات کے ذریعےکسی سیاسی مخالف کو نہیں بلکہ پاکستان کے عوام، معیشت اور مستقبل کو نشانہ بنارہی ہے، جب بھی پاکستان ترقی کی راہ پر آتا ہے پی ٹی آئی ایک تخریبی عنصر کے طور پر سامنے آتی ہے۔مبصرین کے مطابق حکومت اور فوجی اسٹبلشمنٹ کیلئے ملکی معیشت کی بحالی اولین ترجیح ہے اس لئے اس راہ میں آنے والی کسی بھی رکاوٹ کو قومی مفاد کے خلاف تصور کیا جائے گا، پی ٹی آئی کو آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط کا خمیازہ لازمی بھگتنا پڑے گا۔
