افغان طالبان حکومت کھل کر ٹی ٹی پی کی حمایت کیوں کرنے لگی؟

افغان طالبان کی جانب سے پاکستان دشمن خارجیوں کو اپنا مہمان قرار دینے اور پاکستان کے جانب سے افغانستان میں گھس کر کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد دونوں ممالک میں تعلقات کشیدگی کی انتہاؤں کو چھوٹے نظر آتے ہیں۔ جہاں ایک طرف افغان طالبان پاکستان سےبدلہ لینے کی گیڈر بھبکیاں لگاتے دکھائی دیتے ہیں وہیں دوسری جانب معتبر حلقوں میں یہ خبریں تواتر کے ساتھ گردش کر رہی ہیں کہ افغان طالبان نے کالعدم ٹی ٹی پی کی قیادت کو یہ مشورہ نما حکم دے دیا ہے کہ وہ یا تو خاموشی سے افغانستان میں موجود اپنے کیمپوں میں قیام کرے اور افغان طالبان ان کے معاملات پر نظر رکھتے ہوئے پاکستان کے حوالے سے نئی حکمت عملی تیار کر سکیں یا کالعدم ٹی ٹی پی بھی افغان طالبان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستانی علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے جس کیلئے ٹی ٹی پی کو افغان طالبان کی مکمل حمایت حاصل ہوگی ، ذرائع کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی نے دوسرا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور افغان طالبان نے اس حوالے سے ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین صورت حال اس حد تک مخدوش کیوں ہو گئی ہے کہ پاکستان کو افغان علاقوں پر فضائی کارروائی کرنا پڑی اور تحریک طالبان پاکستان سے اظہار برات کرنے والے افغان طالبان اب کھل کر ٹی ٹی پی کی حمایت میں سامنے آگئے ہیں؟
ناقدین کے مطابق اس ساری بدامنی کا سہرا سابق وزیر اعظم عمران خان اور اس وقت کی عسکری قیادت کے سر جاتا ہے جن کی غیر دانشمندانہ پالیسی کی وجہ سے نہ صرف پاکستانی طالبان مضبوط ہوئے بلکہ افغان طالبان کی واپسی کے بعد انھیں پاکستان کیخلاف مزید شرپسندانہ کارروائیاں کرنے کے حوالے سے شہ بھی ملی۔ مبصرین کے مطابق 2021ء میں عمران حکومت کی جانب سے طالبان اور ان کے حمایتیوں کو ملکی مفاد کے نام پر واپس لانے کی پالیسی اختیار کی گئی اور اس وقت کے وزیر اعظم اور انکے لانے والوں نے افغانستان اور افغان طالبان کے ماضی کو سرے سے کوئی اہمیت نہ دی کیونکہ وہ تو کابل میں چائے پی کر اپنی فتح ثابت کرنا چاہتے تھے ۔ تاہم اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض کی چائے کی پیالی عوام اور ریاست پاکستان کو بہت مہنگی پڑی۔ اس پر نہ صرف بین الاقوامی برادری میں پاکستان کا امیج خراب ہوا بلکہ افغان طالبان بھی ہمیں کمزور سمجھنے لگے۔ جنرل فیض کی جانب سے سستی شہرت کی خاطر پی جانے والی اس چائے کی یہ قیمت ادا کرنی پڑی کہ اب افغان طالبان پاک افغان سرحد یعنی ڈیورنڈ لائن کو فرضی یا خیالی لکیر قرار دے رہے ہیں اور انکے وزیر اطلاعات پاکستان میں دہشت گردی کرنے والوں کو اپنا مہمان قرار دے رہے ہیں جبکہ کوئی ایک ماہ قبل اعلیٰ سطح کے انڈین وفد کی ملا یعقوب اور ملا متقی سے ملاقاتوں کے بعد افغان طالبان کے حوصلے اور بھی بلند ہوئے ہیں۔
تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کو پاکستان دشمن ٹی ٹی پی اور اس کے حمایتیوں سے پیار کی پینگیں بڑھانے کی بجائے یہ سمجھنا چاہیے کہ افغانستان کا مستقبل پاکستان کے ساتھ پرامن تعلقات سے وابستہ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق افغان طالبان اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ افغانستان کا پاکستان پر کس قدر انحصار ہے۔ افغانستان کا تجارت، سپلائی روابط اور انسانی امداد کے لیے پاکستان پر بہت زیادہ انحصار ہے، پاکستان کی سرحدوں کے ذریعے خوراک سے لے کر ایندھن تک بیشتر سامان افغانستان میں داخل ہوتا ہے، کشیدگی یا تنازع کی صورت میں پاکستان بڑی آسانی سے ان سپلائی لائنز کو روک سکتا ہے، نتیجے میں افغانستان کو سنگین معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق افغانستان کو انسانی امداد، بشمول طبی سامان اور غیر ملکی امداد بھی پاکستان کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے جو کہ پاکستان کی جانب سے کسی بھی معاشی پابندی یا تجارتی رکاوٹ کے تحت افغانستان کو شدید معاشی اور انسانی بحران کی حالت میں ڈال سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کو طالبان حکومت کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر سفارتی تنہائی کا سامنا ہے، کئی ممالک خاص طور پر مغربی دنیا طالبان حکومت کو ان کی سخت گیر پالیسیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور قبائلی قوانین کے سخت نفاذ کی وجہ سے تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔
پاکستان بین الاقوامی مذمت کے باوجود افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم رکھتا ہے اور طالبان حکومت کو ایک قسم کی بین الاقوامی قانونی حیثیت فراہم کرتا ہے، تاہم افغان طالبان کو یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہیے کہ پاکستان کوئی کمزور ریاست نہیں۔پاکستان کی فوج کے پاس افغانستان کے اندر طالبان دھڑوں، شورش پسند گروہوں اور دیگر عسکریت پسند قوتوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔پاکستان نے افغانستان کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی سے ہمیشہ گریز کیا ہے لیکن پاکستان افغان سرزمین پر کسی بھی ایسے گروہ کے خلاف حملے کرنے کا اختیار رکھتا ہے جو پاکستان کی قومی سلامتی یا مفادات کے لیے خطرہ بنے، خاص طور پر وہ گروہ جو پاکستان مخالف دہشت گردی میں ملوث ہوں۔
مبصرین کے پاکستان دہائیوں سے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو پناہ، صحت کی سہولیات، اور تعلیم فراہم کر رہا ہے، دیگر ہمسایہ ممالک کے برعکس پاکستان نے ابھی تک پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر واپسی پر مجبور نہیں کیا جو افغانستان میں عدم استحکام کی ایک نئی لہر کو جنم دے سکتا ہے۔افغان پناہ گزینوں کو اپنی سرحدوں کے اندر رہنے کی اجازت دے کر پاکستان افغانستان کو ایک فوری انسانی بحران سے بچنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔ تاہم افغان طالبان پاکستان مخالف عناصر کی حمایت کر کے پاکستان کو افغانستان مخالف اقدامات اٹھانے کے حوالےسے اشتعال دلا رہے ہیں جس کا خمیازہ صرف افغان طالبان ہی نہیں بلکہ افغانی عوام کو بھی بھگتنا پڑے گا۔
