پنجاب میں پی ٹی آئی صرف سوشل میڈیا تک محدود کیوں؟

 

 

 

بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ کو بنیاد بنا کر صوبے بھر میں بھرپور احتجاج کے دعوؤں کے برعکس لاہور سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں کسی قسم کا منظم اور مؤثر احتجاج سامنے نہ آ سکا، تاہم پی ٹی آئی رہنما چند مقامات پر محدود نعرےبازی کی ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر خوب شئیر کرتے نظر آئے۔ ناقدین کے مطابق پنجاب میں پی ٹی آئی عملا ختم ہو چکی ہے پارٹی رہنما ڈر کے مارے بلوں میں چھپے بیٹھے ہیں جبکہ پارٹی کارکنان گرفتاری اور دھلائی کے خوف سے سڑکوں پر نکلنے کو تیار نہیں۔ جس کی وجہ سے پنجاب میں پی ٹی آئی سوشل میڈیا تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی کارکنوں اور قیادت کے درمیان بڑھتی خلیج، غیر واضح حکمت عملی اور مسلسل مؤخر ہوتے احتجاجی اعلانات نے سیاسی فضا میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

خیال رہے کہ عمران خان کی میڈیکل رپورٹ سامنے آنے کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے ملک گیر احتجاج شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم لاہور سمیت پنجاب بھر میں تحریک انصاف کی احتجاج کی کال عملاً ناکام نظر آئی۔ پی ٹی آئی رہنما مختلف شہروں میں چند کارکنان کی نعرے بازی پر مبنی نام نہاد احتجاج کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے حاضریاں لگاتے نظر آئے۔  مبصرین کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ سامنے آنے پر پی ٹی آئی کی طرف سے سیاسی انتقامی کارروائی کا جو بیانیہ بنایا گیا تھا، وہ عوامی پذیرائی اورمقبولیت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اسی وجہ سے پی ٹی آئی کی اپیلوں کے باوجود پنجاب میں عوام سڑکوں پر نکلنے سے انکاری رہے۔

پی ٹی آئی کارکنان کا کہنا تھا کہ اگر قیادت احتجاج کی کال دیتی ہے تو اسے خود بھی میدان میں آنا چاہیے، محض بیانات اور ہدایات کافی نہیں۔ کارکنان کے مطابق وہ اب پارٹی کے امپورٹڈ لیڈرز کے بہکاوے میں آنے والے نہیں۔ اگر پارٹی رہنماؤں نے انہیں ہدایات دینی ہیں تو انہیں خود بھی عام کارکنوں کی طرح باہر نکلنا ہوگا۔ انہیں کسی کی کمبل سے دی جانے والی ہدایت کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ یا تو کمبل چھوڑیں یا پھر اپنے عہدے چھوڑ دیں۔

 

مبصرین کے مطابق عمران خان کی ناکام سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے پی ٹی آئی کا پنجاب سے صفایا ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی کی صورت میں کمزور اور لاغر اپوزیشن نے مریم نواز کو پنجاب کی مضبوط ترین وزیر اعلیٰ بنا دیا ہے۔ جہاں ایک طرف پنجاب میں تحریک انصاف کی قیادت منظر عام سے غائب ہے وہیں دوسری جانب صوبائی اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی اراکین بھی خاموشی کی طنابوں میں جکڑے نظر آتے ہیں۔

کیا عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے؟

مبصرین کے بقول مریم نواز کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلے پہل تو پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت مخالف آوازیں سنائی دیتی تھیں تاہم اب تو تحریک انصاف کی اختلافی آوازیں اور بیان بازی بھی محدود ہوگئی ہے‘ ’ملک احمد خان بھچر نے بطور اپوزیشن لیڈر ن لیگ کو تھوڑا بہت ٹف ٹائم دیا تھا۔ تاہم جب سے وہ نااہل ہوئے ہیں اس وقت سے اب تک اپوزیشن کا پنجاب اسمبلی میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب سے نئے اپوزیشن لیڈر معین قریشی آئے ہیں، پی ٹی آئی پنجاب اسمبلی میں کمپرومائزڈ نظر آرہی ہے۔ پنجاب میں اپوزیشن کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے قانون سازی ہو یا قراردادوں کی منظوری حکومت تمام امور بغیر کسی رکاوٹ کے سرانجام دے رہی ہے، کسی پالیسی یا منصوبے میں تبدیلی کرانے میں اپوزیشن تاحال ناکام نظر آتی ہے جبکہ پی ٹی آئی قیادت کے منظر نامے سے غائب ہونے کی وجہ سے پارٹی کارکنان بھی اب سڑکوں پر نکلنے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی بطور جماعت اس وقت پنجاب میں نہ ہونے کے برابر ہے، پی ٹی آئی کا ووٹ بینک موجود ہے لیکن وہ بھی موجودہ قیادت سے مایوس ہوتا جارہا ہے۔ جس کا عملی مظاہرہ عمران خان کی میڈیکل رپورٹ سامنے آنے کے بعد پنجاب میں ہونے والے احتجاج سے صاف دیکھا جا سکتا ہے۔

 

Back to top button