چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اجلاسوں کی صدارت کیوں نہیں کر رہے؟

ایوانِ بالا یعنی سینیٹ ان دنوں بحرانی صورتِ حال سے گزر رہی ہے کیونکہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کئی ہفتوں سے بطور احتجاج اجلاس کی صدارت نہیں کر رہے۔ یوسف رضا گیلانی کی ناراضی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بطور چیئرمین سینیٹ جیل میں قید تحریک انصاف کے سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے تھے۔ تاہم بار بار کی یاد دہانی کے باوجود انہیں ابھی تک سینٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔ چنانچہ اپنے احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے چئیرمین سینیٹ ‘ناراض’ ہیں اور احتجاجاً سینیٹ اجلاسوں کی صدارت نہیں کر رہے۔
دوسری جنب حکومتی ذرائع بتاتے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ کے حکم پر فوجی اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے عمل درآمد نہیں ہو رہا چونکہ اعجاز چوہری 9 مئی 2023 کے روز فوجی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے الزام میں گرفتار ہیں لہذا انہیں اجلاس میں پیش کرنے کا مطلب سرنڈر کرنا ہے۔ یاد رہے کہ چیئرمین سینیٹ کی عدم موجودگی میں سینیٹ کی کارروائی چلانے کے لیے ڈپٹی چیئرمین آئینی طور پر ذمہ دار ہیں۔ تاہم اپوزیشن نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان پر جانب دار ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے۔ اپوزیشن اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے درمیان کشیدگی کے باعث جمعے کے روز سینیٹ اجلاس کی کارروائی پریزائڈنگ افسر کو چلانا پڑی تھی۔
اس سے پہلے 13 جنوری 2025 کو چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے پی ٹی آئی سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے تھے جو لگ بھگ اٹھارہ ماہ سے کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔
اعجاز چوہدری کی گرفتاری کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب انہیں سینیٹ اجلاس میں لانے کے لیے پروڈکشن آڈر جاری ہوئے تھے۔ اعجاز چوہدری مارچ 2021 میں صوبۂ پنجاب سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر چھ برس کے لیے سینیٹر منتخب ہوئے تھے اور وہ نو مئی 2023 کے کیس میں زیرحراست ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے 14 جنوری کو ہونے والے سینیٹ اجلاس میں اعجاز چوہدری کی شرکت یقینی بنانے کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری کیے تھے۔سینیٹ کے رول 84 کے مطابق چیئرمین سینیٹ یا کسی کمیٹی کا چیئرمین زیرِ حراست کسی رکن سینیٹ کو اجلاس میں شرکت کے لیے طلب کرسکتا ہے۔
پاکستان کے آئین کے تحت ریاست پاکستان کے سربراہ یعنی صدرِ مملکت کے بیرونِ ملک جانے یا کسی بھی وجہ سے عہدہ خالی ہونے کی صورت میں چیئرمین سینیٹ قائم مقام صدر کی حیثیت رکھتا ہے۔ سینیٹ چیئرمین کے میڈیا ایڈوائزر میاں خرم رسول نے تصدیق کی ہے یوسف رضا گیلانی بطور احتجاج سینیٹ اجلاسوں کی صدارت نہیں کر رہے۔ اُن سے جب پوچھا گیا کہ چیئرمین سینیٹ پر اپنی پارٹی یا حکومت کی جانب سے اجلاس کی صدارت کرنے سے متعلق کوئی دباؤ ہے یا نہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ وہ فی الحال اس معاملے پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔ سینیٹ کے ایک افسر نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ایک اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کو بتایا گیا کہ اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر پر عمل درآمد کے لیے پنجاب حکومت سمیت "اعلیٰ سطح” تک بات کرنا ہو گی۔
یاد رہے کہ اپوزیشن اراکین کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کے معاملے پر حکومت اور ایوان کے کسٹوڈین کے درمیان اختلافات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ چیئرمین سینیٹ اس مسئلے پر بطور احتجاج اجلاسوں کی صدارت نہیں کر رہے۔ اس سے قبل یوسف رضا گیلانی نے بطور اسپیکر قومی اسمبلی جب شیخ رشید کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے تھے تو اس پر ان کی جماعت پیپلز پارٹی نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ یوسف رضا گیلانی بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت کے دوران 17 اکتوبر 1993 سے 16 فروری 1997 تک سپیکر قومی اسمبلی رہے تھے۔
یوسف رضا گیلانی 2008 سے 2012 تک وزیرِ اعظم بھی رہے۔ وہ نو اپریل 2024 سے بطور چیئرمین سینیٹ کام کر رہے ہیں۔ سینیٹ کو گزشتہ 18 برس سے رپورٹ کرنے والی سینئر رپورٹر نوشین یوسف کہتی ہیں کہ پی ٹی آئی سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کا مطالبہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے کیا جا رہا تھا لیکن سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ان کا پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی نے بطور چیئرمین دیر سے ہی مگر اعجاز چوہدری کا پروڈکشن آرڈر جاری کیا۔ ان کے بقول، "میری اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پروڈکشن آرڈر پر عمل درآمد سے انکار کیا گیا ہے۔” انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کا عہدہ ریاست کے بڑے آئینی عہدوں میں سے ایک ہے اور ان کے احکامات پر عمل درآمد ہونا چاہیے تھا۔
پارلیمان کی کارکردگی پر نظر رکھنے والے غیر سرکاری ادارے پلڈاٹ کے بانی صدر احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ ماضی میں پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے والے پریزائیڈنگ افسر اور حکومتوں کے درمیاں اختلاف ہوتے رہے ہیں۔ لیکن کبھی اس وجہ سے نوبت اجلاسوں کے بائیکاٹ تک نہیں پہنچی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ حکومت کے پسِ پردہ طاقت نو مئی کے واقعات میں ملوث کسی کو یہ سہولت فراہم نہ کرنا چاہتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ وجہ کوئی بھی ہو حکومت کو چیئرمین سینیٹ کو ان کے آرڈرز پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ بتانی چاہیے۔
لمز میں فوجی ترجمان کے خطاب کے دوران فوج مخالف نعرے کیوں لگے؟
احمد بلال محبوب کا خیال ہے کہ چیئرمین سینیٹ کو احتجاج کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے اپنا کام جاری رکھتے ہوئے اس پر عوامی سطح پر بات کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی سینیٹ اجلاسوں کی صدارت نہیں کر رہے مگر بطور چیئرمین وہ دورے کر رہے ہیں۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے جمعے کو اجلاس کے دوران کہا تھا کہ یوسف رضا گیلانی ایوان کی توقیر اور عزت کے لیے خاموشی سے لڑ رہے ہیں۔ جمعے کو سینیٹ اجلاس کی صدارت کرنے والے پریزائیڈنگ افسر عرفان صدیقی نے تجویز پیش کی تھی کہ تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز قائدِ حزبِ اختلاف کی قیادت میں یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کریں۔ انہوں نے کہا کہ تمام رہنما چیئرمین سینیٹ سے درخواست کریں کہ اگر کسی ادارے یا حکومت نے ان کے حکم پر عمل درآمد نہیں کیا تو وہ ان سے ناراض ضرور ہوں لیکن وہ بطور کسٹوڈین سینیٹ اجلاس کی صدارت کریں۔
