سپیکر قومی اسمبلی پر آئین شکنی کا الزام کیوں لگ رہا ہے؟

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے والی اپوزیشن نے سپیکر قومی اسمبلی کو 21 مارچ تک اسمبلی اجلاس بلا کر تحریک عدم اعتماد پیش نہ کرنے کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو وہ آئینی کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے جس کے نتیجے میں
ان پر آرٹیکل 6 کے تحت آئین شکنی کی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے 8 مارچ کے روز اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن جمع کروائی تھی جس پر 14 روز کے اندر کارروائی کے لیے آئینی ڈیڈ لائن 21 مارچ ہے۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع سے ایسی اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ کھلم کھلا حکومتی ٹٹو کا کردار ادا کرنے والے سپیکر اسد قیصر 21 مارچ کو آئینی تقاضا پورا کرنے کے لئے قومی اسمبلی کا اجلاس تو بلائیں گے لیکن تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کی بجائے رسمی کارروائی کے بعد اسے ملتوی کر دیں گے۔
اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ 21 مارچ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہو اور سپیکر تحریک عدم اعتماد پیش نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ہی اپوزیشن کی ریکوزیشن کا اصل ایجنڈا ہے اور 14 دن پورے ہونے پر 21 مارچ ریکوزیشن اجلاس کے ایجنڈے پر عملدرآمد کی ڈیڈ لائن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 21 مارچ کو اجلاس بغیر تحریک عدم اعتماد پیش کیئے ملتوی کرنے کا حکومتی منصوبہ آئین کی کھلی خلاف ورزی ہو گا جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ 21 مارچ کو اسمبلی اجلاس میں ایک حکومتی رکن اسمبلی کی وفات پر فاتحہ کے بعد تحریک عدم اعتماد پیش کیے بغیر اجلاس ملتوی کردیا جائے گا۔
اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اگر 21 مارچ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں سپیکر کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش نہ کی گئی تو پھر آئین کی خلاف ورزی پر سپیکر کے خلاف آئین شکنی کی سزا لاگو ہو جائ گی اور آئین کی خلاف ورزی سپیکر کو بھگتنی پڑے گی کیونکہ وہ وہ پارلیمنٹ کا کسٹوڈین ہوتا ہے اور آئین شکنی نہیں کر سکتا۔
اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنما رانا ثنا اللہ خان کا کہنا تھا کہ 21 مارچ تک قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش نہ کی گئی تو وزیر اعظم کی قانونی حیثیت ختم ہو جائے گی اور انکا ہر حکم اور ایکشن غیر قانونی ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر عمران خان کے شدید دباؤ میں ہیں اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کو زیادہ سے زیادہ تاخیر کا شکار کر رہے ہیں حالانکہ آئینی طور پر پر 14 روز کے اندر وزیراعظم کے مستقبل کا فیصلہ ہونا لازمی ہے۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ کپتان حکومت کی جانب سے آرٹیکل 63 کی تشریح کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ بھی تاخیری حربوں کی ایک کڑی ہے کیونکہ آئین میں واضح لکھا ہے کہ کسی بھی رکن قومی اسمبلی پر فلور کراسنگ کی شق کا اطلاق تب ہوگا جب وہ اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈال دے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں یہ بھی واضح ہے کہ پارلیمانی معاملات پر عدالت کوئی فیصلہ نہیں دے سکتی لیکن حکومت صرف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کو تاخیر کا شکار کرنے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے۔
