اقتدار کے متمنی عمران خان کی جان خطرے میں کیوں ہے؟

عمران خان کے سابقہ بہنوئی اور معروف تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا ہے کہ فوج کے خلاف تند و تیز بیانیہ اپناتے ہوئے اسے مطعون کرنے والے عمران خان اب بھی اقتدار کے متمنی ہیں لیکن حقیت یہ ہے کہ اگر وہ اپنی زندگی بچانے میں ہی کامیاب ہو جائیں تو یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہو گی۔
حفیظ اللہ نیازی روزنامہ جنگ میں لکھتے ہیں کہ پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے تمام فریقین کے مابین ایک قومی عمرانی معاہدے کی اشد ضرورت ہے جو عوام، لیڈرشپ اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ کا خاتمہ کر سکے۔ انکے مطابق یہ پاکستان کی بدنصیبی ہے کہ مملکت ایک بار پھر بند گلی میں پہنچ چکی ہے جہاں سے نکلنے کے راستے بھی مسدود ہیں۔ ان کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جناح کے پاکستان میں اب طاقت کا سرچشمہ عوام کی بجائے فوج کا ادارہ بن گیا ہے۔ چنانچہ ہماری سیاسی قیادت نے بھی اقتدار کے حصول کے لیے عوامی طاقت جیتنے کی بجائے فوج کی کاسہ لیسی شروع کر دی۔ 1953 میں وزیر اعظم محمد علی بوگرا سے لیکر وزیراعظم شہباز شریف تک سب نے فوج کی کاسہ لیسی سے اقتدار میں آنا پسند فرمایا۔
حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد سے فوج یا ریاستی طاقت کا رہنما اصول یہی رہا ہے کہ سیاسی قیادت کے باہمی ٹکراؤ اور مخاصمت کو پروان چڑھا کر سیاسی نظام کو اپنے کنٹرول میں رکھا جائے۔ لیکن اب وقت گزرنے کے ساتھ رائے عامہ رائے کی کثیر تعداد فوج کی سیاسی مداخلت کے خلاف سخت مؤقف اپنا چکی ہے۔ دوسری جانب ریاست کی اصل طاقت یعنی فوج نے حال ہی میں پاک بھارت جنگ کے دوران اپنی طاقت کا لوہا منوا کر اپنی عزت و تکریم بحال کی ہے۔ لیکن اس کی سیاست میں مداخلت اب بھی جاری ہے جس کا تازہ ثبوت 9 مئی کے ملزمان کے لیے تھوک کے حساب سے سزاؤں کا اعلان ہے۔
حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں، یہ بہترین موقع ہے کہ تمام فریقین پاکستان کی خاطر آپس میں بیٹھ جائیں اور ایک معاہدہ کر لیں۔ حفیظاللہ نیازی کے مطابق ان چار فریقین میں عمران خان کے علاوہ فوج، حکومت اور عدلیہ شامل ہیں۔ اسوقت بظاہر ان چاروں فریقین کو گھمبیر سیاسی دلدل میں دھنسے ہوئے پاکستان کا نہ تو کوئی ادراک ہے اور نہ اس کے حل میں کوئی دلچسپی ہے۔ عمران خان اور انکے اتحادی اور اسٹیبلشمنٹ اور اسکی اتحادی حکومت، سب مطمئن نظر آتے ہیں ہیں اور اس خوش گمانی میں مبتلا ہیں کہ وطنی سیاسی زمامِ کار کی لگام اسکے ہاتھ میں ہے۔
حفیظ اللہ نیازی کے مطابق ملکوں اور قوموں کا عروج وزوال سیاسی استحکام اور عدم استحکام سے وابستہ ہوتا ہے۔ سیاسی استحکام قوموں کو مضبوط و مربوط بناتا ہے جبکہ سیاسی عدم استحکام قوموں کو کمزور اور برباد کر دیتا یے۔ موجودہ سیاسی بحران مملکت پاکستان کو دلدل میں دھکیل چکا ہے، ہر فریق اس بحران کا ذمہ دار دوسرے کو ٹھہراتا نظر آتا ہے۔ ایسے میں عمران کی مقبولیت کا راز اسکے جھوٹے بیانیہ سے جُڑا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو للکارنے پر یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ اقتدار سے نکل کر فوج کو چیلنج کرنے کی بدولت عمران خان اپنی حکومت کی نااہلی، کرپشن، بدانتظامی، عثمان بزدار جیسے بھونڈے فیصلے اور بے شمار سیاسی ناکامیاں چھپانے میں کامیاب ہوگیا۔
نیازی کہتے ہیں کہ اقتدار سے بے دخلی کے بعد فوج مخالف بیانیہ اپنانے پر عوام نے خان کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ریاستی طاقت کو للکارنے والے کو عوامی پذیرائی تو مل جاتی ہے لیکن وہ اسے اقتدار سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کوسوں دور کر دیتی ہے۔ عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہونے کے باوجود فوجی کو مطعون و ملعون کرنے کے بعد بھی اسے اقتدار چاہیے۔ اقتدار کی شدتِ طلب نے عمران کو کنفیوژ اور بدحواس کر رکھا ہے۔ وہ جیل سے نکل کر وزارت عظمی پر براجمان ہونا چاہتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کی ہر احتجاجی تحریک نے انکی سیاست کو ہزیمت سے دوچار کیا ہے۔ خود فریبی میں جکڑا مقبول رہنما اپنی جماعت کی سوشل میڈیا پرفارمنس سے مطمئن ہے۔ اسے پانچ اگست کی احتجاجی تحریک کی ناکامی نظر نہیں آتی۔
حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان اپنی ہر ناکامی کو عظیم الشان فتح گردانتا ہے، 5 اگست کو دن دہاڑے ناکامی کا شکار ہونے کے بعد اب عمران نے 14 اگست کے غیرمتنازع قومی دن کو متنازع بنانے کا اعلان فرما دیا ہے۔ یقیناً 14 اگست کو ہر بڑے شہر کی مرکزی شاہراہ پر لاکھوں کا جمع غفیر ہو گا کیونکہ لوگ جشن ازادی منانے نکلیں گے لیکن عمران خان نے اس جشن کو اپنے کھاتے میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے لہذا 14 اگست کو دوبارہ احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ موصوف کی 15 اگست کے بعد کے دنوں کی حکمتِ عملی کیا ہوگی؟ عمران خان ماضی کی طرح ایک بار پھر بغیر کسی واضح لائحہ عمل کے ، اُلجھن اور کنفیوژن کی گرفت میں ہے، سیاسی بصیرت کی کمی کی وجہ سے وہ جس کنویں میں گرے ہوئے ہیں اسے کھودتے ہوئے مزید گہرا کیے جا رہے ہیں۔ ریاست کیخلاف تند و تیز بیانیہ اپنانے کے بعد بھی اقتدار کے متمنی عمران خان اگر اپنی زندگی بچانے میں کامیاب ہو گے تو یہی اسکی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔
