عمر ایوب اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے فارغ, زرتاج گل اور احمد چٹھہ سے بھی پارلیمانی عہدے چھین گئے

پاکستان تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں بڑا دھچکا لگ گیا، قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی سے تین اہم عہدے واپس لے لیے گئے ہیں۔قومی اسمبلی میں نہ صرف عمر ایوب کو اپوزیشن لیڈر کے عہدہ واپس لے لیا گیا بلکہ زرتاج گل کو پارلیمانی لیڈر اور احمد چٹھہ کو ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کے عہدے سے بھی ہٹا دیا گیا

ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں عمر ایوب خان کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے، جب کہ زرتاج گل سے پارلیمانی لیڈر اور احمد چٹھہ سے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کا عہدہ واپس لے لیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا چیمبر بھی خالی کروا لیا گیا ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی نے اسمبلی قواعد کے تحت ایوان کو پی ٹی آئی ارکان کی نااہلی سے متعلق آگاہ کر دیا ہے، جس کے بعد اپوزیشن لیڈر کے تقرر کے لیے اسپیکر اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مشاورت کا عمل دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی جلد نئے اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کریں گے، جبکہ پی ٹی آئی آزاد ارکان کو پارلیمانی لیڈر اور ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کے لیے دوبارہ نام دینا ہوں گے۔

جبری گمشدگیوں پر انکوائری کمیشن کی نئی تشکیل، جسٹس (ر) ارشد حسین شاہ چئیرمین تعینات

اس کے ساتھ ساتھ عمر ایوب کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور فنانس کمیٹی کی رکنیت سے بھی ڈی لسٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے نااہل 7 ارکان سے 15 قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت واپس لے لی گئی ہے۔

متاثر ہونے والے اراکین میں صاحبزادہ حامد رضا شامل ہیں، جنہیں انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی کی چیئرمین شپ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ زرتاج گل بھی انسانی حقوق کمیٹی کی رکنیت سے محروم ہو گئی ہیں، جبکہ رائے حسن نواز سے ریلوے کمیٹی کی چیئرمین شپ واپس لے لی گئی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی کو سیاسی محاذ پر پہلے ہی کئی چیلنجز کا سامنا ہے، اور قومی اسمبلی میں اس کی پوزیشن مزید کمزور ہوتی جا رہی ہے۔

Back to top button