پاکستان کو ایک حد سے زیادہ ایران کا ساتھ کیوں نہیں دینا چاہیے؟

 

 

 

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک معاشی اور سفارتی مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں ایران کے حوالے سے عقل کی بجائے جذباتیت پر مبنی پالیسی سازی ملک کو سنگین مسائل کی طرف لے جا سکتی ہے۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پاکستان کو اس وقت بیرونی مالی معاونت، خصوصاً تقریباً پانچ ارب ڈالرز کے زرمبادلہ ذخائر کی صورت میں سعودی مدد حاصل ہے، جو ملکی معیشت کے استحکام میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔ اس تناظر میں ایران کی خاطر کسی بھی قسم کا غلط فیصلہ پاکستان کے سفارتی تعلقات میں عدم تواز پیدا کر سکتا ہے، بالخصوص اس صورت میں جب خطے میں ایران اور امریکہ جیسے بڑے فریقین کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہو۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستانی پالیسی سازوں کو جذباتی وابستگیوں یا نظریاتی نعروں سے ہٹ کر زمینی حقائق اور معاشی مجبوریوں کے تحت فیصلے کرنے چاہئیں۔ ان کے مطابق اگر ریاستی فیصلے صرف جذبات یا کسی ایک فریق کے ساتھ ہمدردی کی بنیاد پر کیے جائیں تو اس سے قومی مفاد بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں پاکستان ایک بیک وقت سفارتی، دفاعی اور معاشی دباؤ کا شکار ہے، جہاں ایک طرف اسے اپنے اہم اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا ہے، جبکہ دوسری طرف خطے میں جاری تنازعات سے خود کو محفوظ رکھنا ایک مسلسل چیلنج ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق خطے میں جاری ایران، امریکہ اور دیگر تنازعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جذباتی یا نظریاتی بنیادوں پر کی جانے والی پالیسی سازی اکثر عملی نتائج کے برعکس نکلتی ہے، اور ریاستیں آخرکار معاشی اور سیاسی حقیقتوں کے سامنے اپنی پوزیشن ایڈجسٹ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے اپنی خارجہ اور داخلی پالیسیوں میں توازن برقرار نہ رکھا اور جذباتیت کی بنیاد پر کمزور فریق کے ساتھ کھڑا رہنے کا فیصلہ کیا تو اسکے لیے معاشی دباؤ اور عالمی سفارتی تنہائی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، جو ایک نیوکلیئر ریاست کے لیے انتہائی حساس صورتحال ہو گی۔

کیا ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور بھی پاکستان میں ہو گا؟

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران ایک محتاط اور متوازن سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد کی کوشش ہے کہ دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے اور کسی بڑے تصادم سے بچا جائے، تاکہ خطے میں استحکام برقرار رہ سکے۔ پاکستان کی یہ پالیسی اب تک کسی حد تک توازن اور سفارتی احتیاط پر مبنی رہی ہے، جس کے ذریعے وہ دونوں متضاد فریقوں کے ساتھ بیک وقت روابط قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حملے انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی دوبارہ جنگی صورتحال اختیار کر لیتی ہے تو پاکستان کے لیے اپنی موجودہ توازن کی پالیسی برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں پاکستان کو اپنے سٹریٹیجک اور دفاعی مفادات کے تحت امریکہ اور اس کے اتحادیوں، خصوصاً سعودی عرب، کا ساتھ دینا پڑ سکتا ہے، جس کے ساتھ اس کا پہلے سے دفاعی معاہدہ موجود ہے۔ اس ممکنہ صورتحال میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن برقرار رکھنا ایک نہایت پیچیدہ اور دباؤ بھرا چیلنج بن جائے گا، جو اس کی خارجہ پالیسی کے لیے دور رس اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔

Back to top button