ایکس پر سنسنی پھیلا کر ویوز لینے والوں کی کمائی پر کلہاڑا چل گیا

 

 

 

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے سنسنی پھیلا کر ویوز لینے والے صارفین کی آمدن پر بڑا کٹ لگا دیا۔ ایکس نے اپنی مونیٹائزیشن پالیسی میں بڑی تبدیلی لاتے ہوئے کلک بیٹ Clickbait کے ذریعے غیر معیاری مواد شیئر کرنے والے اکاؤنٹس کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت جہاں فوری طور پر ایسے صارفین کی کمائی میں 60 فیصد تک کٹوٹی کر دی ہے وہیں آنے والے دنوں میں آمدن مزید کم کرنے کا بھی عندیہ دے دیا ہے۔ ایلون مسک کی ملکیت میں آنے کے بعد یہ فیصلہ پلیٹ فارم پر اب تک کا سب سے بڑا کریک ڈاؤن قرار دیا جا رہا ہے جس سے ہزاروں کریئیٹرز creators اور وائرل مواد بنانے والوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایلون مسک کا یہ اقدام سوشل میڈیا کی معیشت کو بدل سکتا ہے اور آن لائن کمائی کے پورے ماڈل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تاہم ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کلک بیٹ ہوتا کیا ہے اور یہ کس طرح کام کرتا ہے؟

ماہرین کے مطابق کلک بیٹ بنیادی طور پر ایک ایسا طریقہ ہے جس میں آن لائن مواد جیسے خبروں، ویڈیوز یا پوسٹس کے عنوان، تصویر یا ابتدائی جملے کو اس انداز میں بنایا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کی توجہ غیر معمولی طور پر اپنی طرف کھینچے اور انہیں دئیے گئے لنک پر کلک کرنے پر مجبور کرے، یعنی سادہ الفاظ میں کلک بیٹ وہ "چالاک یا سنسنی خیز عنوان” ہوتا ہے جو حقیقت سے زیادہ دلچسپ یا مبالغہ آمیز لگتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے کھولیں۔ اس میں اکثر سنسنی خیز، جذباتی یا مبالغہ آمیز الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ تجسس پیدا ہو، جیسے “آپ یقین نہیں کریں گے!” یا “یہ حقیقت جان کر آپ حیران رہ جائیں گے!”۔ اس کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ ٹریفک حاصل کرنا ہوتا ہے، چاہے اصل مواد اتنا ہی دلچسپ یا متعلقہ نہ ہو۔ ماہرین کے بقول اگرچہ کلک بیٹ سے وقتی طور پر ویوز اور کلکس میں اضافہ ہو جاتا ہے، لیکن اس کے منفی اثرات بھی ہیں کیونکہ اکثر ایسی سرخیاں اصل خبر یا مواد کی مکمل اور درست تصویر پیش نہیں کرتیں، جس کی وجہ سے صارفین کو غلط توقعات اور بعض اوقات گمراہ کن معلومات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا میں کلک بیٹ کو ایک متنازعہ طریقہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ توجہ تو حاصل کرتا ہے مگر اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسی لئے اب ایکس نے کلک بیٹ کے ذریعے ویوز حاصل کرنے والے صارفین کی کمائی پر بڑا کٹ لگا دیا ہے۔

 

نئی پالیسی کے مطابق ایسے اکاؤنٹس جو اپنی ٹائم لائنز کو مسلسل پوسٹس سے بھرتے رہتے ہیں یا مسلسل اپنی پوسٹوں میں "بریکنگ” جیسے سنسنی خیز الفاظ استعمال کر کے صارفین کو متوجہ کرتے ہیں، ان کی آمدنی میں نمایاں کمی کی جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں ایسے صارفین کی کمائی 60 فیصد تک کم کی گئی ہے، جبکہ اگلے مرحلے میں مزید 20 فیصد کمی متوقع ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس طرح کا مواد پلیٹ فارم کے معیار کو متاثر کرتا ہے اور اصل تخلیق کاروں کی رسائی کو کم کر دیتا ہے، جس سے نئے لکھنے والوں اور معیاری مواد بنانے والوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایکس کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ وہ اظہارِ رائے کی آزادی کو محدود نہیں کرے گا، لیکن ایسے طریقوں کی حوصلہ افزائی بھی نہیں کی جائے گی جو صارفین کو گمراہ کریں یا پلیٹ فارم کے سسٹم کا غلط استعمال کریں۔

 

ایکس کے اس فیصلے کے بعد کئی بڑے اکاؤنٹس نے شدید ردعمل دیا ہے۔ کئی صارفین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں بغیر کسی واضح وجہ کے ڈی مونیٹائز کر دیا گیا، حالانکہ وہ پلیٹ فارم پر سرگرم اور محنتی کریئیٹرز میں شامل ہیں۔ ان کے لاکھوں فالوورز ہیں، جس کی وجہ سے ان کا مؤقف سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ دوسری جانب کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ وہ غلطی سے اس پالیسی کی زد میں آ گئے ہیں، حالانکہ وہ خود کو کلک بیٹ یا ایگریگیٹر نہیں سمجھتے، ایکس پر سخت رد عمل سامنے آنے کے بعد نئی کمپنی پالیسی کے اطلاق پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔

 

دوسری جانب ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کے ماہرین کے مطابق ایکس کا یہ اقدام بظاہر پلیٹ فارم کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش ہے کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ کلک بیٹ کلچر نے نہ صرف صارفین کے اعتماد کو متاثر کیا ہے بلکہ معلومات کے معیار کو بھی گرا دیا تھا۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نئی کمپنی پالیسی کے نتیجے میں بہت سے چھوٹے کریئیٹرز متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ الگورتھمز بعض اوقات درست اور غلط مواد میں واضح فرق نہیں کر پاتے۔ جس کی وجہ سے کئی اچھے کرئیٹرز بھی ڈی مونیٹائز ہو سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے بقول ایکس کی نئی پالیسی سوشل میڈیا کے بدلتے ہوئے رجحانات کی عکاسی کرتی ہے، جہاں اب صرف وائرل ہونا کافی نہیں بلکہ معیاری اور مستند مواد کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ اگرچہ اس اقدام سے کئی کریئیٹرز کو نقصان پہنچے گا، لیکن مستقبل میں یہ پالیسی پلیٹ فارم کے معیار اور صارفین کے اعتماد کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

Back to top button