مائنس عمران آج کا پاکستان مسلسل کامیاب کیوں ہو رہا ہے

 

 

 

ایک نیا پاکستان بنانے کے دعویدار عمران خان کی فراغت کے بعد سے پاکستان نے عالمی سطح پر جو بیش قدر سفارتی اور سیاسی کامیابیاں حاصل کی ہیں، ان کے نتیجے میں انتشار کی سیاست کرنے والی تحریک انصاف کی تنظیمی، عوامی اور سیاسی حیثیت تیزی کیساتھ کمزور ہوتی نظر آ رہی ہے۔ پارٹی کی عوامی تائید میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، اسکا تنظیمی ڈھانچہ بکھر چکا ہے اور انقلاب کے ذریعے حقیقی آزادی حاصل کرنے کے نعرے بھی ٹھنڈے پڑ گئے ہیں، پارٹی کی سٹریٹ پاور ختم ہو چکی ہے اور اسکا بیانیہ سوشل میڈیا تک محدود ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

 

معروف لکھاری ہے اور تجزیہ کار عمار مسعود اپنے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہماری سفارتی تاریخ میں ایک غیر معمولی پیش رفت تب سامنے آئی جب امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات اسلام آباد میں منعقد ہوئے، جس نے عالمی برادری کی توجہ اسلام آباد کی جانب مبذول کر دی۔ مذاکرات کے بعد دو متحارب فریقین کے درمیان جزوی جنگ بندی عمل میں آئی، جس سے خطے میں کشیدگی میں وقتی کمی اور انسانی جانوں کے ضیاع میں واضح کمی دیکھی گئی۔

 

عمار مسعود کے مطابق ان مذاکرات کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش کی صورتحال میں وقتی نرمی آئی، جس سے عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام پیدا ہوا اور تیل کی ترسیل بحال ہونے سے عالمی معیشت میں بہتری کے آثار ظاہر ہوئے۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی سٹاک مارکیٹس میں بہتری دیکھی گئی جبکہ کئی ممالک میں جنگی جنون اور کشیدگی کے بجائے امن اور سفارت کاری کے امکانات پر گفتگو شروع ہوئی۔ بین الاقوامی سطح پر اس سفارتی کامیابی کے تناظر میں پاکستان کا نام نمایاں طور پر لیا گیا۔ مختلف عالمی رہنماؤں اور سفارتی ذرائع نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے ایک ایسے وقت میں ثالثی کا کردار ادا کیا جب خطہ شدید کشیدگی اور ممکنہ بڑے تصادم کے دہانے پر تھا۔

 

عمار مسعود کے مطابق اس عمل کے دوران پاکستان کے سیاسی و عسکری قیادت کے کردار کو عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں خاص طور پر اجاگر کیا گیا، جسے بھارتی سیکرٹری خارجہ نے پاکستان کی نفرت میں دلالی قرار دے دیا۔ انکا کہنا ہے کہ اس عالمی سفارتی منظرنامے کے دوران تحریک انصاف سیاسی طور پر غیر واضح اور غیر مؤثر نظر آئی۔ پارٹی کی قیادت کی جانب سے نہ تو اس پیش رفت پر واضح مثبت مؤقف سامنے آیا اور نہ ہی کوئی مؤثر سفارتی یا سیاسی ردعمل دیکھنے میں آیا، جسے مبصرین پارٹی کے کمزور ہوتے ہوئے بیانیے کی علامت قرار دیتے ہیں۔

 

عمار مسعود کے بقول عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ان کے سیاسی حریفوں کی پوزیشنیں نہ صرف مستحکم ہوئیں بلکہ کئی شخصیات ریاستی و حکومتی سطح پر نمایاں کردار میں سامنے آئیں۔ ان میں وزیر اعظم شہباز شریف، سابق وزیر اعظم نواز شریف، سابق صدر آصف علی زرداری اور دیگر اہم سیاسی رہنما شامل ہیں جن کے کردار کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح حکومتی و عسکری سطح پر عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کے دفاعی کردار اور علاقائی استحکام میں شراکت کو بھی نمایاں قرار دیا جا رہا ہے، جسے بعض حلقے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں توازن اور تسلسل کا مظہر سمجھتے ہیں۔

 

عمار مسعود کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جماعت کی موجودہ سرگرمیاں زیادہ تر بیانات تک محدود ہیں، سوشل میڈیا پر پارٹی کے ٹرولز کا زور تو نظر آتا ہے مگر عملی سیاسی تنظیم یا پارلیمانی اثر و رسوخ میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کا بیانیہ وقت کے ساتھ زیادہ جذباتی اور ردعمل پر مبنی ہوتا جا رہا ہے، جس سے اس کی سیاسی سنجیدگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ایکس پر سنسنی پھیلا کر ویوز لینے والوں کی کمائی پر کلہاڑا چل گیا

عمار مسعود کا کہنا ہے کہ عمران خان کے دور حکومت کے بعد سیاسی میدان میں جو تبدیلیاں سامنے آئیں، ان میں ان کے کئی سیاسی مخالفین کی پوزیشن مضبوط ہوئی، جبکہ وہ شخصیات جن کے خلاف ان کی سیاسی مہمات چلتی رہیں، وہ آج ریاستی اور حکومتی سطح پر اہم مناصب پر فائز ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ عمران خان کے سب سے بڑے سیاسی مخالف نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف ملک کے وزیراعظم ہیں جبکہ ان کی بیٹی پنجاب کی وزیراعلی ہیں۔ اس کے علاوہ آصف زرداری صدر پاکستان کے عہدے پر فائز ہیں۔ یعنی وہ تمام لوگ جنہیں عمران خان نے بطور وزیراعظم جیلوں میں ڈالا، آج برسر اقتدار ہیں جبکہ عمران خان خود جیل میں ہیں۔انکا کہنا ہے کہ اگر اسے مکافات عمل کہا جائے تو بے جانا ہوگا۔

 

Back to top button