آشا بھوسلے کے گانے چلانے پر پیمرا نے جیو کو نوٹس کیوں دیا ؟

 

 

 

لیجنڈ بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے کے انتقال کے بعد جہاں دنیا بھر میں ان کے مداحوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا، وہیں پاکستان سمیت مختلف ممالک کے میڈیا ہاؤسز نے بھی ان کی فنی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تاہم اس موقع پر پاکستان میں ایک نیا تنازع اس وقت کھڑا ہو گیا جب جیو نیوز کو آشا بھوسلے سے متعلق مواد نشر کرنے پر پیمرا کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے اور صارفین یہ سوال پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ کیا موسیقی اور فن واقعی سرحدوں اور قوانین سے بالاتر ہیں یا پھر پاکستان میں میڈیا کو سخت ضوابط کے اندر رہ کر ہی مواد نشر کرنا چاہے؟ ناقدین کے مطابق موسیقی اور آرٹ انسانی تہذیب کا مشترکہ ورثہ ہیں اور یہ کسی ایک ملک یا سرحد تک محدود نہیں ہوتے۔ اسی تناظر میں آشا بھوسلے کے گانوں اور ان کی فنی خدمات نشر کرنے پر جیو نیوز کو ریگولیٹری ادارے پیمرا کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس کئی حلقوں میں غیر مناسب اور سخت اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

 

خیال رہے کہ جیو نیوز نے آشا بھوسلے کی وفات پر خصوصی رپورٹ نشر کی تھی جس میں نہ صرف ان کی زندگی اور خدمات کو اجاگر کیا گیا تھا بلکہ اس رپورٹ میں آشا بھوسلے کے مشہور فلمی گانوں کی جھلکیاں اور بول بھی شامل تھے۔ اسی بنیاد پر پیمرا نے چینل کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ جیو نیوز کا یہ اقدام سپریم کورٹ کے 2018 کے فیصلے اور میڈیا قوانین کی خلاف ورزی ہے، جن کے تحت پاکستانی ٹی وی چینلز پر انڈین مواد نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد ہےپیمرا کے مطابق کسی فنکار کی وفات کی خبر نشر کرنا قابلِ اعتراض نہیں، لیکن ساتھ ہی ان کے فلمی گانوں یا ویڈیو کلپس کو چلانا ضوابط کے خلاف ہے، جس پر ادارے نے وضاحت طلب کی ہے۔ واضح رہے کہ اکتوبر 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم ایک بینچ نے متفقہ فیصلہ جاری کرتے ہوئے پاکستانی ٹی وی چینلز پر انڈین مواد نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ جس کا اطلاق تاحال جاری ہے۔

 

دوسری جانب پیمرا کی جانب سے آشابھوسلے کے حوالے سے نشر پیکج پر جاری کردہ نوٹس کے جواب میں جیو نیوز کے مینجنگ ڈائریکٹر اظہر عباس کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہنا ہے کہ موسیقی اور فن انسانی تہذیب کا مشترکہ ورثہ ہیں اور انہیں سرحدوں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق آشا بھوسلے ایک عالمی سطح کی فنکار تھیں جنہوں نے نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان کے فنکاروں کے ساتھ بھی گہرا تعلق رکھا، اور ان کے فن کو اسی تناظر میں پیش کیا گیا۔ اظہر عباس نے مزید کہا کہ ادارہ قانونی تقاضوں کے مطابق جواب دے گا، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ فنکاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا صحافتی روایت کا حصہ ہے۔ اس لئے پیمرا کو اس عمل پر نوٹس نہیں جاری کرنا چاہیے تھا،

لتا منگیشکر سےالگ اپنی پہچان بنانے والی آشابھوسلےکی کہانی

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ کئی صارفین کا پیمرا کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کسی بھی عظیم فنکار کی یاد میں نشر کیا گیا مواد پابندی کے زمرے میں نہیں آنا چاہیے۔ کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ موسیقی سرحدوں سے ماورا ہے اور اسے سیاسی یا قانونی تنازعات میں نہیں الجھانا چاہیے۔ مونا عالم نامی ایک صارف نے لکھا کہ: ’آشا بھوسلے ایک ایسی لیجنڈ ہیں، جن کی موسیقی تمام سرحدوں سے ماورا ہے۔‘ خوشی ہے کہ جیو ان کی موت پر انھیں نہیں بھولا کیونکہ یہ میری طرح کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات ہیں، جو آشا جی سے محبت کرتے ہوئے بڑے ہوئے۔‘ سندھ کے سابق گورنر محمد زبیر نے اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’آج آشا بھوسلے کے گانے نشر کرنے پر نوٹس بھیجے جا رہے ہیں اور کل کہا جائے گا کہ کسی پاکستانی چینل پر وراٹ کوہلی کی بلے بازی کی تعریف پر مبنی مواد کیوں نشر کیا گیا۔‘ تاہم دوسری جانب کچھ افراد نے اس مؤقف کی حمایت کی کہ خبر کے ساتھ طویل میوزیکل کلپس نشر کرنا ضابطوں کے خلاف ہے اور میڈیا کو قانونی حدود کا احترام کرنا چاہیے۔ مینا غوری نامی ایک صارف نے لکھا کہ وہ بھی آشا بھونسلے کو پسند کرتی ہیں مگر جنیو کی جانب سے نشر کی گئی رپورٹ میں آشا بھوسلے کی بجائے ان کے فلمائے گئے گانے دکھانے پر انھیں بہت برا لگا۔

 

تاہم قانونی ماہرین کے مطابق اگرچہ فن اور ثقافت کو عالمی ورثہ سمجھا جاتا ہے، لیکن دوسری طرف ریاستی قوانین اور عدالتی فیصلے میڈیا اداروں کے لیے واضح حدود بھی متعین کرتے ہیں کیونکہ پاکستان میں میڈیا ریگولیشن کا بنیادی مقصد غیر ملکی مواد کے غیر ضروری استعمال کو روکنا ہے، اس لئے میڈیا ہاؤسز کواس طرح کا کوئی بھی اقدام اٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہیے تاکہ اس طرح کی صورتحال سے بچا جا سکے۔

 

Back to top button