مہاجر کارڈ منسوخ، تمام افغانوں کیلئے پاسپورٹ اور ویزا لازمی قرار

 

 

 

وفاقی حکومت نے پالیسی میں بڑی تبدیلی لاتے ہوئے افغان باشندوں کو جاری کردہ تمام شناختی دستاویزات منسوخ کر دی ہیں اور پاکستان میں قیام کے لیے تمام افغانیوں کیلئے پاسپورٹ اور ویزا لازمی قرار دے دیا ہے جبکہ دوسری جانب تاحال پاکستان کے مختلف علاقوں میں چھپے بیٹھے افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے انھیں ڈنڈے کے زور پر ملک بدر کرنے اور اُن کے نام پر موجود گھر، گاڑی اور دیگر جائیداد کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبوں کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ اگلے ماہ سے افغان مہاجرین کے لیے باقاعدہ پاسپورٹ اور ویزا پالیسی نافذ کی جا رہی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت کسی بھی افغان شہری کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی اور پاکستان میں صرف انہی افراد کو قیام کی اجازت حاصل ہوگی جن کے پاس درست پاسپورٹ اور ویزا موجود ہوگا۔ پاسپورٹ کے علاوہ جاری کردہ تمام پاکستانی شناختی دستاویزات منسوخ کر دی جائیں گی تاکہ پاکستان میں افغان باشندوں کے غیر قانونی قیام کو روکتے ہوئے ملک میں موجود افغانستان سے آنے والے غیر دستاویزی افراد کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق یہ حکومتی اقدام ریاستی رٹ کو مضبوط بنانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، تاہم اس کے مؤثر نفاذ کے لیے حکومت کو انتظامی سطح پر کئی چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

دوسری جانب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے پاکستان میں مقیم غیرقانونی افغان باشندوں کی ملک بدری کے عمل میں تیزی لانے کا فیصلہ کر لیا ہے، غیر قانونی مقیم افغانوں کو سرحد دوبارہ کھلتے ہی 30 روز کے اندر ملک سے نکال دیا جائے گا اس حوالے سے متعلقہ حکام نے غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائی کے لیے مختلف بازاروں اور رہائشی علاقوں کی نشاندہی کر کے تفصیلی رپورٹ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں مہاجرین کے رہائشی پتے، کاروبار، گاڑیوں اور جائیدادوں کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ تاکہ غیر قانونی مقیم افغانوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کو آسان بنایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ نے بھی تمام چیف سیکرٹریز، انسپکٹر جنرلز آف پولیس اور چیف کمشنرز کو بارڈرز دوبارہ کھلنے کے 30 دن کے اندر تمام غیر قانونی افغان مہاجرین کی وطن واپسی کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ذرائع کے بقول پولیس سربراہان کی جانب سے متعلقہ ایس ایچ اوز کو واضح طور پر مطلع کیا گیا ہے کہ اس حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور کسی بھی کوتاہی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پشاور سمیت صوبہ بھر میں افغان مہاجرین کیخلاف کارروائی کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ جیسے ہی بارڈرز آمد و رفت کیلئے کھلیں گے فوری طور پر غیر قانونی افغان باشندوں کی ملک بدری کی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔

کیا ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور بھی پاکستان میں ہو گا؟

واضح رہے کہ پنجاب میں افغان مہاجرین سے گھر اور دکانیں خالی کرانے کے اعلانات کے بعد وہاں پر اکثریتی مالکان نے اپنے مکان اور دکانیں افغانوں سے واپس لے لی ہیں۔ تاہم پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع سے ایسی معلومات مل رہی ہیں کہ یہاں ابھی تک افغان مہاجر اپنےکاروبار بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور کرائے کے گھروں میں بھی مقیم ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض افغان مہاجرین نے کرائے کے بجائے اپنے دوستوں کے گھروں میں پناہ لی ہوئی ہے۔ جن کی چھان بین بھی شروع کر دی گئی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق پنجاب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سخت کارروائیوں کے بعد افغانوں کی بڑی تعداد نے خیبرپختون کے مختلف اضلاع کا رخ کر لیا ہے اور وہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں مقیم ہیں۔ کیونکہ پنجاب کے مقابلے میں پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں ابھی تک غیر قانونی طور پر رہنے والے افغان مہاجرین کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اب پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں کسی کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ جبکہ اس میں تاجر اور سرمایہ داروں کا ڈیٹا بھی تیار کرلیا گیا ہے اور جیسے ہی سرحد آمد و رفت کیلئے کھلتی ہے، غیر قانونی مقیم افغانوں کو واپس افغانستان بھجوانے کیلئے اقدامات شروع کر دیئے جائیں گے اور ایک مہینے کے اندر اندر تمام افغان مہاجر افغانستان میں ہوں گے۔

Back to top button