فوجی قیادت عمران کا اعتبار کرنے کو تیار کیوں نہیں ہے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ عمران خان اور طاقت ور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مابین فنا اور بقا کی جنگ میں تیزی آ چکی ہے لیکن اصل فیصلہ ساز عمران خان کو کوئی ریلیف دینے کے لیے اس لیے تیار نہیں کہ اول تو وہ ناقابل اعتبار ہیں اور دوم انکا ضامن بھی کوئی نہیں رہا۔
بی بی سی کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ وجود کو خطرہ صرف جمود سے ہے۔ ٹھہرے پانی کی بدبو جاتے جاتے ہی جاتی ہے۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ بہت کچھ ہو چکا اور بہت کچھ ہونا ابھی باقی ہے۔ اک چومکھی لڑائی ہے جو ریاست، نظام اور مملکت لڑ رہی ہے۔ فوج اور عمران خان کے مابین بقا کی اس جنگ کے کئی محاذ ہیں اور ہر محاذ کی نوعیت مختلف ہے۔ دہشت نے ایسے پنجے جما رکھے ہیں کہ جان شکنجے میں ہے اور ہاتھ پاؤں مفلوج ہیں۔
عاصمہ شیرازی کے بقول سیاست اور ریاست کی تکون اپنے ستونوں کی حفاظت میں جُتی ہے تو ملکی معیشت بظاہر مستحکم تاہم مستعار پیروں پر کھڑی ہے۔ ہزار جتن کے باوجود غیر یقینی کی فضا جوں کی توں ہے۔ سیاسی عدم استحکام بلاشبہ اہم وجوہات میں سے ایک وجہ ہے مگر واحد یہ بھی وجہ ہرگز نہیں ہے۔ بیرونی پراکسیز اور اندرونی سیاسی گٹھ جوڑ وہ الجھا ہوا معاملہ ہے جس کا سرا تو ہاتھ آ چکا ہے تاہم اس گتھی کا سلجھنا مشکل ترین معاملہ ہے۔
عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو عسکریت پسند پراکسیز سے لاحق خطرات وہ چیلنجز ہیں جو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیے جا سکتے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں سرحدوں پر لڑی جانے والی بیرونی جنگوں سے ذیادہ پریشان کن اندرونی جنگیں ہیں۔ بلوچستان اور فاٹا کی خانہ جنگی کو کسی ایک عدسے سے دیکھنا ناممکن ہے۔ بحرانوں میں گھری ریاست ایک سرا پکڑتی ہے تو دوسرا سرا اسکے ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔
سینیئر اینکر پرسن کا کہنا ہے کہ جہاں مملکت پاکستان عدم استحکام کا شکار ہے وہیں ہماری سیاسی جماعتیں بھی روایتی سیاست سے مایوس ہو چکی ہیں، عوام الگ سیاست سے لاتعلق ہو رہے ہیں۔ سیاست کے تقاضے بھی بدل رہے ہیں اور ضروریات بھی۔ یوں تو سیاست کا آف سیزن ہے تاہم نواز شریف کی بظاہر خاموشی، آصف زرداری کی مصلحت اندیشی اور تحریک انصاف میں افراتفری کسی طور معاملات کو آگے بڑھنے نہیں دے رہی۔ عاصمہ شیرازی کے مطابق عمران خان ڈیل اور ڈھیل دونوں لینے کو تیار ہیں مگر خاموشی سے ڈیل دینے کو تیار نہیں۔ ادھر فوجی قیادت عمران کیساتھ خاموشی سے کوئی بھی ڈیل کرنے کو تیار نہیں۔ عاصمہ شیرازی کے مطابق تحریک انصاف کے پاس سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے کا خطرناک آپشن ہمہ وقت موجود ہے۔ ادھر وزیر اعلی خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کی جانب سے تشکیل دی جانے والی ’رہائی فورس‘ کے ارادے بھی کوئی اچھے نہیں، اس حوالے سے پارٹی کے اندر سے بھی تحفظات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
عاصمہ کے مطابق کچھ ’لو اور دو‘ کی اس لڑائی میں اصل فیصلہ ساز فوجی اسٹیبلشمنٹ زیادہ سے زیادہ وقت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے جبکہ دوسری جانب بھی بازی وقت پر ہی لگائی جا رہی ہے۔ بہر حال اس کڑے مقابلے میں دیکھتے ہیں کہ پہلے آنکھ کون جھپکے گا؟ ریاست مجبور نہیں تاہم ’ہاؤس اِن آرڈر‘ کرنے کا تقاضا بہر حال موجود ہے۔ عاصمہ شیرازی کے مطابق مسلم لیگ ن اپنی سیاسی کشتیاں جلا چکی ہے اور یہ جاننا مشکل نہیں کہ تحریک انصاف کے حوالے سے کوئی راستہ نکالنے کے لیے ماضی کی طرح اب بھی صرف محسن نقوی ہی کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں، ایسے میں ن لیگ عمران خان کے لیے سیاسی پناہ گاہ بننا چاہتی ہے۔ رانا ثنا اللہ کا عمران خان کا ڈیل پر نہ ماننے کا واضح بیان تحریک انصاف کے دل میں گھر کر رہا ہے اور ممکنہ طور پر بقول علی امین گنڈاپور مشکل کے ساتھی محسن نقوی کے متبادل کے طور پر جگہ بنا سکتے ہیں تاکہ گیم سیاسی لوگوں کے ہاتھ رہے۔
عاصمہ شیرازی کے مطابق ماضی میں جب تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور عروج پر تھی تو عمران خان کو کی جانے والی دو پیشکشیں محض اسی لیے ناکام ہوئی ہیں کہ بدلے میں عمران خان فیصلہ سازوں کو کوئی ضمانت دینے کو تیار نہیں۔ اس کے علاوہ عمران خان کی ضمانت دینے کو بھی کوئی تیار نہیں۔ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا خود ان کے لیے ایک ڈراؤنے خواب کی مانند ہے۔ تحریک انصاف کی قدآور شخصیات سوشل میڈیا کے ہاتھوں بونی ہو جاتی ہیں، جبکہ یہ کہنا کہ سوشل میڈیا بےمہار ہے، بالکل غلط ہے۔ سوشل میڈیا کی مہار ان اَن دیکھے ہاتھوں میں ہے جو دکھائی نہیں دیتے مگر سنائی ضرور دیتے ہیں۔ جماعت کے آزاد لوگ بےبس ہیں۔
تحریک انصاف کو عمران کی آنکھ کے علاج پر بھی اعتراض
عاصمہ شیرازی کے بقول یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کی یہاں بیٹھی قیادت نہ صرف مجبور بلکہ محصور ہو چکی ہے۔ نظام بہرحال اس معاملے کا سیاسی حل نکالنا چاہتا ہے تاہم سرا ان کے ہاتھ بھی نہیں۔ کیا اگلے پانچ برس عمران جیل میں رہیں گے یا آزاد ہوں گے؟ آزاد ہوں گے تو خاموشی کی ضمانت کون دے گا؟ اور جیل میں رہیں گے تو وقت کی ضمانت کون دے گا؟ بات ضمانتوں کی ہے اور سردست ضمانتیں ہی دستیاب نہیں۔
