نئے صوبوں کی تحریک، حکومت اور سیاسی قیادت کیلئے بڑا امتحان کیوں؟

نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث اب محض سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ حکمران اتحاد اور ملک کی بڑی سیاسی قیادت کے لیے ایک سنجیدہ امتحان بن چکی ہے۔ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف وطن واپس پہنچ چکے ہیں جبکہ صدر آصف علی زرداری کی وطن واپسی بھی متوقع ہے۔ ایسے میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکمران اتحاد کی قیادت کی واپسی کے بعد نئے صوبوں کے معاملے پر بڑی سیاسی جماعتیں اپنی حتمی پوزیشن واضح کرنے کی طرف بڑھیں گی۔ موجودہ صورت حال میں پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کی مخالفت کا واضح اعلان کرچکی ہے اور سندھ اسمبلی کی جانب سے صوبوں کی تقسیم کے خلاف قرارداد بھی وفاق کے لیے ایک اہم سیاسی پیغام ہے، جبکہ مسلم لیگ ن کے اندر اس معاملے پر اب تک مختلف اور متضاد آرا سامنے آتی رہی ہیں۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل کا عمل سیاسی اتفاق رائے کے ذریعے پارلیمنٹ کے اندر سے آگے بڑھ سکے گا؟ واقفانِ حال کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی قوتوں کے مؤقف اور اختلافات اب ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں، تاہم فیصلہ سازی کے اصل مراکز کی حکمت عملی تاحال واضح طور پر سامنے نہیں آئی۔ اس کے باوجود ملک میں نئے انتظامی ڈھانچے کی بحث نے ایک ایسا ماحول ضرور پیدا کردیا ہے جس میں سیاسی جمود ٹوٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ اب یہ معاملہ کسی نہ کسی شکل میں آگے بڑھنے کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، تاہم اس کی حتمی سمت فی الحال واضح نہیں۔
پیپلز پارٹی کے مؤقف سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ وہ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر سیاسی طور پر کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں۔ سندھ اسمبلی کی قرارداد نے اس پوزیشن کو مزید واضح کردیا ہے۔ تجزیہ یہ بھی ہے کہ اگر پیپلز پارٹی حکومت کی اتحادی سیاست کے بجائے اس معاملے کو اپنی جماعتی سیاست کا بنیادی مسئلہ بناتی ہے تو اسے سیاسی طور پر اس کی قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ دوسری طرف اصل سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور بالخصوص نواز شریف اس معاملے پر کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔
پنجاب کی ممکنہ تقسیم مسلم لیگ ن کے لیے ایک غیر معمولی سیاسی چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ پنجاب طویل عرصے سے اس جماعت کی مضبوط سیاسی بنیاد رہا ہے۔ اسی لیے یہ تصور کیا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ ن پنجاب کی تقسیم کے عمل کو آسانی سے قبول نہیں کرے گی، تاہم ممکن ہے کہ مکمل مزاحمت کے بجائے معاملے کو پارلیمنٹ، سیاسی مذاکرات اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ یوں موجودہ صورت حال میں سیاسی قیادت اور فیصلہ ساز قوتیں دونوں ایک اہم آزمائش سے گزر رہی ہیں۔
ایک بات البتہ واضح ہے کہ نئے صوبے آئینی طریقہ کار کو نظرانداز کرکے قائم نہیں کیے جاسکتے۔ اگر ملک کے انتظامی نقشے میں ایسی تبدیلی مقصود ہے جس سے صوبائی حدود متاثر ہوتی ہوں تو اسے آئین میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہی آگے بڑھنا ہوگا۔ اس لیے اب گیند ملک کی بڑی سیاسی قیادت کے کورٹ میں ہے کہ وہ سیاسی مفادات اور باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر ایسا راستہ اختیار کرتی ہے یا نہیں جو عوامی ضرورت، بہتر حکمرانی اور قومی مفاد کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔
اسی تناظر میں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق قیاس آرائیاں بھی اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔ ایک امکان یہ بھی زیر بحث ہے کہ تمام صوبوں کے لیے یکساں اور بااختیار بلدیاتی نظام متعارف کرایا جائے تاکہ اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل ہوں۔ اگر ایسا کوئی متفقہ اور مؤثر نظام سامنے آتا ہے تو ممکن ہے کہ سیاسی جماعتوں کے لیے اس کی مخالفت کرنا بھی آسان نہ ہو، کیونکہ عوامی سطح پر بنیادی مسئلہ صرف صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ اختیارات، وسائل، سہولیات اور فیصلہ سازی تک رسائی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ نئے صوبوں کی بحث کے پیچھے ایک بڑا سوال حکمرانی کا بھی ہے۔ اگر موجودہ صوبائی حکومتیں اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنے میں کامیاب ہوتیں، مضبوط بلدیاتی ادارے قائم ہوتے اور اضلاع و مقامی حکومتوں کو حقیقی انتظامی و مالی خودمختاری ملتی تو شاید نئے صوبوں کی ضرورت کا احساس اس شدت سے پیدا نہ ہوتا۔ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی کا جو تصور پیش کیا گیا تھا، اس کا اصل مقصد بھی یہی تھا کہ حکمرانی عوام کے قریب آئے، مگر عملی طور پر صوبائی سطح پر اختیارات کے ارتکاز نے اس مقصد کو محدود رکھا۔
اس لیے نئے صوبوں کے قیام پر بحث ضرور ہونی چاہیے، لیکن اسے محض سیاسی یا علاقائی مفادات کی جنگ بنانے کے بجائے گورننس، انتظامی کارکردگی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی سہولت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر چھوٹے صوبے یا انتظامی یونٹس بنائے بھی جائیں لیکن اختیارات دوبارہ چند مراکز تک محدود رہیں تو محض نقشے پر نئی حد بندی سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اسی طرح اگر بااختیار بلدیاتی نظام قائم کردیا جائے تو بہت سے مسائل موجودہ انتظامی ڈھانچے کے اندر بھی حل کیے جاسکتے ہیں۔
موجودہ حالات میں سب سے بڑا امتحان سیاسی قیادت کا ہے کہ وہ اپنی جماعتی انا اور وقتی سیاسی مفادات کو ایک طرف رکھ کر ملک کے انتظامی مستقبل کے بارے میں سنجیدہ فیصلہ کرے۔ نئے صوبے بنیں، انتظامی یونٹس قائم ہوں یا بااختیار بلدیاتی نظام نافذ کیا جائے، بنیادی مقصد ایک ہی ہونا چاہیے: حکمرانی کو عوام کے قریب لانا، وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا اور ریاستی نظام کو زیادہ مؤثر، جواب دہ اور عوام دوست بنانا۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے نئے صوبوں کی تحریک کو سیاسی تنازع کے بجائے حقیقی انتظامی اصلاحات میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
