پاک افغان تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خطرہ کیوں؟

پاکستان کے میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔جس کے بعد کشیدگی سے دوچار پاک افغان تعلقات مزید ابتر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے حکم پر مختلف طبی تعلیمی اداروں نے افغان طلبہ کو ضروری کارروائی مکمل کرکے افغانستان واپس جانے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جس سے خاص طور پر ان طلبہ میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے جو اپنی ایم بی بی ایس کی تعلیم کے آخری مراحل میں ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ برسوں کی محنت، وقت اور مالی وسائل صرف کرنے کے بعد اچانک تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس جانا ان کے مستقبل کو شدید متاثر کرسکتا ہے۔
لاہور کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم 22 افغان طلبہ کو نوٹیفکیشن جاری کرکے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر رجسٹرار آفس سے رابطہ کریں اور وطن واپسی کے عمل میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔ یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائی پی ایم ڈی سی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کی گئی ہے۔ پی ایم ڈی سی نے یکم ستمبر کو ملک بھر کی سرکاری اور نجی میڈیکل یونیورسٹیوں اور کالجوں کو افغان طلبہ کے حوالے سے حکومتی پالیسی پر عمل درآمد کی ہدایت کی تھی۔
پی ایم ڈی سی کے مطابق یہ حکم پورے ملک کے طبی تعلیمی اداروں پر لاگو ہوتا ہے اور افغان طلبہ کی درست تعداد بھی مرتب کی جا رہی ہے۔ کونسل کا مؤقف ہے کہ یہ قومی مفاد سے متعلق حساس معاملہ ہے اور تمام فیصلے رائج حکومتی پالیسی کے مطابق کیے جائیں گے۔ تاہم اس حکم میں یہ وضاحت سامنے نہیں آئی کہ ان طلبہ کے لیے کیا انتظام ہوگا جو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے قریب ہیں یا جن کے امتحانات چند ماہ بعد ہونے والے ہیں۔
متاثرہ طلبہ کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ برسوں کی محنت کے بعد ان کی تعلیم کا کیا ہوگا۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی ایک افغان طالبہ نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کی ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل ہونے کے قریب ہے اور افغانستان واپس جانے کی صورت میں ان کا مستقبل غیر یقینی ہوجائے گا۔ ان کے مطابق افغانستان میں خواتین کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع پہلے ہی محدود ہیں، اس لیے پاکستان میں تعلیم مکمل کرکے ڈاکٹر بننے کی امید ان کے لیے نہ صرف ذاتی بلکہ پورے خاندان کے مستقبل سے جڑی ہوئی ہے۔
کچھ افغان طالبات ایسی بھی ہیں جنہیں طالبان کی جانب سے خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی کے بعد پاکستان میں دوبارہ اپنی میڈیکل تعلیم جاری رکھنے کا موقع ملا تھا۔ زہرہ سادات ان طالبات میں شامل ہیں جو افغانستان میں میڈیکل تعلیم ادھوری چھوڑنے کے بعد علامہ اقبال اسکالرشپ کے ذریعے پاکستان آئیں اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کیا۔ ان کے مطابق پاکستان آکر انہیں لگا تھا کہ ان کے ٹوٹے ہوئے خواب دوبارہ زندہ ہوگئے ہیں، لیکن اب انہیں ایک بار پھر یہ خدشہ لاحق ہے کہ ڈاکٹر بننے کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔
اسی طرح راولپنڈی کے ایک میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کے چوتھے سال میں زیرِ تعلیم مریم نورزئی کے والدین اور بہن بھائی افغانستان واپس جاچکے ہیں، جبکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے پاکستان میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں بھی واپس جانے پر مجبور کیا گیا تو کئی برس کی محنت ضائع ہوجائے گی۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی فائنل ایئر کی طالبہ سحر گل احمدی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں خواتین کے لیے ڈاکٹر بننے کا خواب پہلے ہی مشکل بنا دیا گیا تھا اور پاکستان نے انہیں یہ خواب دوبارہ دیکھنے کا موقع فراہم کیا تھا۔
علامہ اقبال میڈیکل کالج میں فائنل ایئر کے ایک افغان طالب علم کے مطابق کالج میں تقریباً 10 افغان طلبہ آخری سال میں ہیں اور انہیں انتہائی کم وقت میں واپسی کی ہدایت نے شدید تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغان طلبہ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، وہ صرف تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاکستان آئے ہیں۔ ان کے مطابق اگر انہیں ڈگری مکمل کیے بغیر واپس بھیج دیا گیا تو نہ صرف ان کا مستقبل متاثر ہوگا بلکہ افغانستان جیسے ملک میں طبی عملے کی پہلے سے موجود کمی بھی مزید سنگین ہوسکتی ہے۔
افغانستان میں طالبان کے اقتدار اور خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندیوں کے باعث اس معاملے کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے۔ افغان طلبہ کا کہنا ہے کہ اگر انہیں پاکستان میں تعلیم مکمل کرنے کی اجازت نہیں ملتی تو بالخصوص طالبات کے لیے افغانستان واپس جاکر اپنی پیشہ ورانہ تعلیم جاری رکھنا انتہائی مشکل ہوگا۔ بعض طلبہ نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر حکومت نے فیصلے پر نظرِثانی نہ کی تو وہ قانونی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
اسلام آباد میں افغان سفارتخانے نے بھی پی ایم ڈی سی کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سفارتخانے کا کہنا ہے کہ تعلیم جیسے شعبے کو سیاسی اختلافات سے محفوظ رکھا جانا چاہیے، خصوصاً ان طلبہ کو متاثر نہیں کیا جانا چاہیے جنہوں نے قانونی طریقہ کار کے تحت پاکستان میں تعلیم شروع کی اور اب اپنی ڈگریوں کی تکمیل کے مرحلے میں ہیں۔ افغان سفارتخانے نے پاکستانی حکام اور متعلقہ بین الاقوامی طبی، تعلیمی اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان طلبہ کے تعلیمی حقوق کے تحفظ پر توجہ دی جائے اور انہیں بلا ضرورت تعلیمی تعطل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس معاملے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کے اثرات خاص طور پر افغان طالبات کے لیے سنگین ہوسکتے ہیں، کیونکہ افغانستان میں خواتین پہلے ہی اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں۔ تنظیم کے مطابق قومی پس منظر کی بنیاد پر امتیاز کے بغیر تعلیم کے حق کا تحفظ ضروری ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی نے بھی اس معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ پاکستان نے 2023 میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کا عمل شروع کیا تھا، جس کے بعد لاکھوں افغان شہری پاکستان سے افغانستان واپس جاچکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی، دہشت گردی اور عسکریت پسندوں کی مبینہ دراندازی کے معاملات پر بھی اختلافات بڑھتے رہے ہیں۔ تاہم افغان طلبہ کا مؤقف ہے کہ ان کا ان تنازعات سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں انفرادی طور پر ان حالات کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔
افغانستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبید اللہ وردگ کے مطابق پاکستانی میڈیکل اداروں میں افغان طلبہ کے داخلے کے دو اہم راستے رہے ہیں۔ ایک وہ افغان طلبہ ہیں جو پاکستان میں افغان خاندانوں یا کیمپوں میں پیدا ہوئے اور یہیں پلے بڑھے، جبکہ دوسری بڑی تعداد ان طلبہ کی ہے جو افغانستان میں مسابقتی امتحانات اور وظائف کے ذریعے پاکستان کے طبی اداروں میں داخل ہوتے ہیں۔ علامہ اقبال اسکالرشپ کے ذریعے میرٹ پر منتخب ہونے والے کئی طلبہ کو کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور دیگر معروف اداروں میں تعلیم کا موقع ملا۔
سابق سفیر منصور احمد خان سمیت بعض پاکستانی شخصیات نے بھی حکومت سے فیصلے پر انسانی بنیادوں پر نظرِثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایک زیادہ عملی راستہ یہ ہوسکتا ہے کہ پہلے سے زیرِتعلیم افغان طلبہ کو اپنی ڈگریاں مکمل کرنے کی اجازت دی جائے اور تعلیم مکمل ہونے کے بعد ان کی افغانستان واپسی کا انتظام کیا جائے۔ سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے بھی خاص طور پر ان افغان طلبہ کی صورتحال پر سوال اٹھایا ہے جو کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں فائنل ایئر میں ہیں۔
یہ معاملہ اب صرف افغان طلبہ کے مستقبل تک محدود نہیں رہا بلکہ پاک افغان تعلقات، انسانی ہمدردی، تعلیمی پالیسی اور قومی سلامتی کے درمیان توازن کا سوال بھی بن چکا ہے۔ حکومت کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ اگر قومی سلامتی اور امیگریشن پالیسی کے تحت افغان شہریوں کی واپسی ضروری سمجھی جاتی ہے تو ان طلبہ کے لیے ایسا عبوری یا خصوصی انتظام کیسے کیا جائے جنہوں نے قانونی طریقے سے پاکستان میں تعلیم شروع کی اور اب اپنی ڈگری مکمل کرنے کے قریب ہیں۔
بالخصوص فائنل ایئر کے طلبہ اور طالبات کے معاملے میں یہ سوال زیادہ اہم ہے کہ کیا انہیں چند ماہ یا ایک محدود مدت میں تعلیم اور امتحانات مکمل کرنے کا موقع دیا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف حکومت اور پی ایم ڈی سی کے سامنے یہ بھی سوال ہے کہ موجودہ پالیسی پر عمل درآمد کرتے ہوئے تعلیمی اداروں، طلبہ اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلیمی روابط پر پڑنے والے اثرات کو کیسے محدود کیا جائے۔
اس تنازع کا اصل فیصلہ اب صرف یہ نہیں کہ افغان طلبہ پاکستان میں رہ سکتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ایک ایسی پالیسی کیسے بنائی جائے جو قومی مفاد اور سلامتی کے تقاضوں کو برقرار رکھتے ہوئے ان طلبہ کی برسوں کی تعلیمی محنت کو بھی یکسر ضائع نہ ہونے دے۔ یہی پہلو آنے والے دنوں میں اس معاملے کو مزید اہم بنائے گا۔
