PTI اور JUI میں بڑھتی قربت، صرف پارلیمنٹ تک محدود کیوں؟

پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان برسوں کی سیاسی کشیدگی کے باوجود قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دونوں جماعتوں کے درمیان رابطے اور تعاون بڑھنے لگے ہیں۔ تاہم دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے مطابق یہ قربت فی الحال پارلیمانی معاملات تک محدود ہے اور اسے کسی باقاعدہ سیاسی اتحاد یا مشترکہ تحریک کا آغاز قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن کی حیثیت سے موجود پی ٹی آئی اور جے یو آئی بعض قانون سازی اور دیگر پارلیمانی معاملات پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے رابطے میں ہیں۔ جے یو آئی کے صوبائی ترجمان عبدالجلیل جان کے مطابق اپوزیشن جماعتیں اگر پارلیمان میں کسی معاملے پر مشترکہ مؤقف اختیار کریں تو حکومت کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں اپنا موقف پیش کرسکتی ہیں۔ ان کے مطابق جے یو آئی کا موجودہ تعاون کسی ایک جماعت کے ساتھ مستقل سیاسی صف بندی کے بجائے پارلیمان میں مشترکہ اپوزیشن کردار ادا کرنے تک محدود ہے۔
پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ دونوں جماعتوں کے درمیان اس وقت مفاہمت اور رابطے کا دائرہ پارلیمان تک ہے۔ ان کے مطابق کسی بل یا اہم پارلیمانی معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کو ایک مؤقف پر متحد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کی خواہش ہے کہ مستقبل میں اپوزیشن جماعتیں ایک وسیع پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور پارلیمان سے باہر بھی حکومت کے خلاف مشترکہ سیاسی لائحہ عمل تشکیل دیا جائے، لیکن اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
دونوں جماعتوں کے درمیان بڑھتے رابطے اس لیے بھی اہم ہیں کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پی ٹی آئی اور جے یو آئی کئی سیاسی معاملات پر ایک دوسرے کی سخت مخالف رہی ہیں۔ دونوں جانب سے نہ صرف قیادت کی سطح پر شدید بیان بازی دیکھنے میں آئی بلکہ اس سیاسی کشیدگی کے اثرات کارکنوں کی سطح تک بھی پہنچے۔ جے یو آئی کے ترجمان عبدالجلیل جان کے مطابق ماضی کی تلخیوں کے باوجود اب دونوں جماعتوں کی جانب سے رابطے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور مختلف ملاقاتوں میں اس حوالے سے بات چیت بھی ہوئی ہے۔
شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ماضی کی سیاسی تلخیوں کو ختم کرنے میں وقت لگے گا، تاہم دونوں جماعتوں کے درمیان ملاقاتوں اور رابطوں کا سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود موجودہ پارلیمانی صورتحال نے دونوں جماعتوں کو بعض معاملات پر ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمان میں شروع ہونے والا یہ تعاون مستقبل میں کسی باقاعدہ سیاسی اتحاد یا مشترکہ تحریک کی شکل اختیار کرسکتا ہے؟ جے یو آئی کی جانب سے فی الحال کسی سیاسی اتحاد کی تردید کی جا رہی ہے۔ عبدالجلیل جان کے مطابق موجودہ تعاون کو سیاسی اتحاد قرار دینا درست نہیں ہوگا اور جے یو آئی کی سطح پر ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
دوسری جانب شوکت یوسفزئی مستقبل میں وسیع تر تعاون کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرتے۔ ان کے مطابق اگر موجودہ رابطے آگے بڑھتے ہیں اور اپوزیشن جماعتیں کسی مشترکہ سیاسی حکمت عملی پر متفق ہوجاتی ہیں تو پارلیمان سے باہر بھی تعاون کی راہ نکل سکتی ہے، تاہم اس مرحلے پر ایسا کوئی حتمی فیصلہ موجود نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاست میں امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا، لیکن فی الحال دونوں جماعتوں کا تعاون پارلیمانی امور تک محدود ہے۔
خیبر پختونخوا کی سیاست کے تناظر میں بھی پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے بڑھتے روابط کو اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ دونوں جماعتوں کی صوبے میں نمایاں سیاسی موجودگی ہے۔ تاہم ابھی تک دونوں جانب سے خیبر پختونخوا میں کسی مشترکہ سیاسی یا انتخابی حکمت عملی کا اعلان نہیں کیا گیا۔
یوں پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان برسوں کی سیاسی کشیدگی کے بعد رابطوں میں آنے والی بہتری ایک اہم پیش رفت ضرور ہے، لیکن اسے فوری طور پر کسی نئے سیاسی اتحاد کا آغاز قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔ فی الحال دونوں جماعتیں پارلیمان میں اپنے مشترکہ مفادات اور اپوزیشن کے کردار کو مؤثر بنانے کے لیے ایک دوسرے کے قریب آئی ہیں۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ یہ پارلیمانی تعاون مستقبل میں وسیع تر سیاسی مفاہمت میں تبدیل ہوتا ہے یا دونوں جماعتیں اپنے اپنے سیاسی راستے پر واپس چلی جاتی ہیں۔
