فائنل احتجاج کی قیادت سعودی مخالف بشری کو کیوں سونپی گئی

پی ٹی آئی کا دوغلا پن کھل کر سامنے آ گیا۔ سعودی عرب کیخلاف الزامات پر مبنی بیان دینے پر بشری بی بی سے اظہار لاتعلقی کرنے والی پی ٹی آئی نے اب اپنے فائنل احتجاج کی قیادت ہی پنکی پیرنی کو سونپ دی ہے اور بشری بی بی یوتھیوں کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہیں۔ سوشل میڈیا پر جہاں تحریک انصاف کو اس کی دوغلی پالیسی کی وجہ سے ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے وہیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے سعودی عرب پر الزام تراشیوں پر مبنی ویڈیو پیغام کے آفٹر شاکس کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔ بے بنیاد الزامات پر پنکی پیرنی کیخلاف متعدد مقدمات درج کئے جا چکے ہیں جبکہ حکومت نے جلد بشری بی بی کی گرفتاری کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ دوسری جانب بشریٰ بی بی کو ویڈیو بیان کے بعد نہ صرف سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ ان کی اپنی پارٹی اور سینیئر قیادت نے بھی اس بیان پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے بیان سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی لیڈرشپ بشری بی بی کے بیان سے لا تعلقی کا اظہار کیوں کر رہی ہے؟ اگر بشری بی بی کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں تو وہ پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچ کی قیادگ کیوں کر رہی ہیں؟ بشریٰ بی بی کے بیان سے پارٹی کو کیا نقصان ہوا اور آئندہ پی ٹی آئی پر اس بیان کے کیا اثرات مرتب ہونگے؟
سیاسی تجزیہ کار ماجد نظامی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی نے اپنے حالیہ بیان سے پی ٹی آئی کارکنان کا جوش و جذبہ بڑھانے کے لیے ایک واقعہ سنانے کی کوشش کی لیکن اس سے پی ٹی آئی، عمران خان اور ان کے فائنل احتجاجی مارچ کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ ماجد نظامی کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر یہ تاثر دیکھنے میں آیا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے اس طرح کے نازک بیانات دینے سے پہلے سوچ بچار نہیں کی جاتی۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی فائنل کال پر 24 نومبر کے احتجاج کے لیے جوش و خروش سے مہم چل رہی تھی لیکن بشریٰ بی بی کے بیان کے بعد تحریک انصاف کے کئی رہنما دفاعی انداز اپنائے نظر آتے ہیں، جو ان کی احتجاجی مہم کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوا۔ ماجد نظامی کے مطابق میرے خیال میں تو نقصان ہوچکا ہے، بشریٰ بی بی نے یہ بیان نادانستگی میں دیا یا پھر ان سے کوئی سیاسی کوتاہی ہوئی، اس کا فیصلہ تحریک انصاف کو خود کرنا چاہیے۔
ماجد نظامی نے کہا کہ بشریٰ بی بی کے بیان پر پارٹی رہنماؤں نے نہ صرف اپنی صفائی پیش کی بلکہ کئی پی ٹی آئی رہنماؤں نے تو اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار بھی کیا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کتنا سنگین ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے حامیوں اور رہنماؤں کی جانب سے بھی اس بیان کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں، اس سے قبل شیر افضل مروت کا بھی اسی تناظر میں ایک بیان سامنے آیا تھا۔ ایسے بیانات سے پی ٹی آئی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ اسے نقصان ہی اٹھانا پڑا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کی خارجہ پالیسی سے متعلق پہلے بھی تحریک انصاف کی جانب سے اس طرح کے بیانات سامنے آئے ہیں، جس سے پارٹی رہنماؤں کی غیرسنجیدگی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، اگر اس طرح کے واقعات سچ بھی ہیں تو اس کے وقت اور انداز بیاں کا تعین کرنا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس معاملے میں بشریٰ بی بی کی جانب سے کوتاہی ہوئی ہے، ان کے بیان میں اگر کوئی سچائی تھی بھی تو ان کے الفاظ اور انداز بیان نے ان کے اس دعویٰ پر خود ضرب لگائی ہے، تحریک انصاف کو مستقبل میں ان باتوں کا جواب دینا پڑے گا۔
بعض دیگر مبصرین کے مطابق جب سے بشریٰ بی بی کا بیان سوشل میڈیا پر آیا تب سے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت پیچھے ہٹتی نظر آرہی ہے، کوئی بھی بشریٰ بی بی کے اس بیان سے اتفاق نہیں کررہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے بعض رہنما یہ کہتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ بشریٰ بی بی کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں ہے، دوسری جانب بشریٰ بی بی نے عملاً پارٹی کی قیادت سنبھال رکھی ہے، خیبرپختونخوا کی حکومت انہیں جس طریقے سے پروٹوکول دی رہی ہے، اس سے بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کے بیان کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی قیادت بیک فٹ پر نظر آرہی ہے جبکہ حکومت کے ہاتھ ایک اچھا موقع آگیا ہے، جس کے بعد سے پاکستان ٹیلی وژن سمیت دیگر نجی چینلز پر حکومتی مؤقف کو ہی اہمیت دی جارہی ہے اور حکومت اس معاملے میں فرنٹ فٹ پر ہی نظر آرہی ہے۔
مبصرین کے مطابق آج تک تو عمران خان خود کہتے رہے کہ انہیں امریکا نے اقتدار سے نکلوایا، پی ٹی آئی کے کارکنان بھی اپنے قائد کی اس بات کو سچ مانتے ہیں کہ عمران خان کو اقتدار سے نکال کر بہت بڑی سازش کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف وہ امریکا ہے جس کے خلاف پوری مہم چلائی گئی اور جلسوں میں خط لہرایا گیا اور دوسری طرف اسی امریکا سے مدد مانگی جارہی ہے، خط لکھے جارہے ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ انہیں اڈیالہ جیل سے نکلوا کر وزارت عظمیٰ کے منصب پر بٹھائے گی۔انہوں نے کہا کہ اب یکدم یوٹرن لیتے ہوئے سارا رخ سعودی عرب کی طرف موڑ دیا ہے، یہ بہت بڑی کنفیوژن ہے لیکن بدقسمتی سے پی ٹی آئی نے اسی کنفیوژن پر ہی اپنا ایک پورا بیانیہ قائم کیا ہے، اس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ یوتھیےاس بیانیے کو اپنا بھی لیتے ہیں، وہ اپنے رہنماؤں کے گزشتہ اور حالیہ مؤقف پر غور کرنے کے بجائے آنکھیں بند کرکے ان کی ہر بات کو مان لیتے ہیں اور فخر سے کہتے ہیں کہ وہ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر لیٹ چکے ہیں تاہم اب کوئی ان کی طرف توجہ دینے کو بھی تیار نہیں ہے۔
