خیبر پختونخواہ میں گورنر راج کا نفاذ انوکھا کیوں نہیں ہو گا؟

اگر وفاقی حکومت صوبہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ کرتی ہے تو یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہوگا چونکہ ماضی میں بھی ملک کے مختلف صوبوں میں گورنر راج کا نفاذ ہوتا رہا ہے، خصوصاً جب صوبائی حکومتوں نے وفاق کے لیے مسائل کھڑے کرنے کی کوشش کی۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں گورنر راج مختلف ادوار میں سیاسی عدم استحکام، وفاق اور صوبے کے درمیان شدید اختلافات، امن و امان کے بحران اور آئینی تعطل کے پس منظر میں نافذ ہوتا رہا ہے۔ تاہم ہر واقعے کے حالات ایک دوسرے سے مختلف رہے ہیں اور موجودہ صورت حال کا موازنہ ماضی کی مثالوں سے کرتے وقت اس وقت کے آئینی اور سیاسی تناظر کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

موجودہ آئینی نظام میں گورنر راج کا بنیادی قانونی راستہ آئین کا آرٹیکل 234 ہے۔ اس کے تحت اگر صدرِ مملکت اس بات سے مطمئن ہوں کہ کسی صوبے کی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی تو وہ اعلامیے کے ذریعے گورنر کو صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات سنبھالنے کی ہدایت دے سکتے ہیں۔ اس صورت میں صوبائی اسمبلی کے بعض اختیارات پارلیمنٹ کے ذریعے استعمال کیے جاسکتے ہیں، جبکہ صوبائی ہائیکورٹ کے آئینی اختیارات صدر یا گورنر کو منتقل نہیں کیے جا سکتے۔ موجودہ آئینی طریقہ کار میں اس اعلامیے کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے مقررہ مدت میں منظوری بھی درکار ہوتی ہے۔

پاکستان کے قیام کے ابتدائی برسوں میں بھی صوبائی حکومتوں اور مرکز کے درمیان سیاسی کشمکش کے نتیجے میں گورنر کے ذریعے صوبائی انتظام چلانے کی مثالیں سامنے آئیں۔ پنجاب میں جنوری 1949 میں نواب افتخار حسین خان ممدوٹ کی حکومت کے خاتمے کے بعد صوبائی انتظام گورنر کے تحت چلا، جبکہ سندھ میں 1951 سے 1953 کے دوران بھی صوبائی سیاسی بحران کے پس منظر میں گورنر کے ذریعے انتظام چلایا گیا۔ اس وقت پاکستان کا موجودہ 1973 کا آئینی ڈھانچہ موجود نہیں تھا، اس لیے ان ابتدائی واقعات کو آج کے آرٹیکل 234 کے تحت نافذ ہونے والے گورنر راج سے براہ راست یکساں قرار نہیں دیا جاسکتا۔

1970 کی دہائی میں گورنر راج کا معاملہ وفاق اور صوبوں کے درمیان سیاسی کشمکش کے باعث دوبارہ نمایاں ہوا۔ بلوچستان میں سردار عطا اللہ مینگل کی حکومت کو 1973 میں برطرف کیا گیا اور صوبائی انتظام گورنر کے ذریعے چلایا گیا۔ 1975 میں بلوچستان میں دوبارہ صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر کے تحت آئے۔ ان واقعات کا پس منظر مرکز اور بلوچستان کی قوم پرست سیاسی قوتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور صوبائی حکومت کے ساتھ وفاق کے شدید اختلافات تھے۔ یوں بلوچستان پاکستان کی تاریخ میں ان صوبوں میں شامل ہوگیا جہاں گورنر راج ایک سے زیادہ مرتبہ سیاسی بحران کے دوران استعمال ہوا۔

خیبرپختونخوا، جو اس وقت شمال مغربی سرحدی صوبہ کہلاتا تھا، بھی 1975 میں گورنر راج کے تجربے سے گزرا۔ صوبائی حکومت کو ختم کرکے مختصر مدت کے لیے انتظام گورنر کے سپرد کیا گیا۔ اس واقعے کا بنیادی پس منظر بھی وفاق اور صوبائی سیاسی قوتوں کے درمیان شدید اختلافات اور سیاسی صف بندی میں پیدا ہونے والا بحران تھا۔ اس کے بعد صوبے میں نئی سیاسی ترتیب کے تحت حکومت قائم ہوئی، جس سے یہ مثال سامنے آتی ہے کہ گورنر راج کے خاتمے کے بعد لازماً سابق وزیراعلیٰ کی حکومت ہی بحال ہو، یہ ضروری نہیں ہوتا۔

سندھ میں 1988 اور پھر 1998 میں گورنر راج کے واقعات سامنے آئے۔ 1988 میں صوبے، خصوصاً کراچی اور حیدرآباد، میں شدید سیاسی و لسانی کشیدگی اور امن و امان کے بحران کے پس منظر میں صوبائی انتظام گورنر کے سپرد کیا گیا۔ 1998 میں کراچی میں امن و امان کی خراب صورتحال، وفاقی حکومت اور صوبائی سیاسی قوتوں کے درمیان شدید اختلافات اور حکیم محمد سعید کے قتل کے بعد پیدا ہونے والے بحران نے صورتحال کو مزید سنگین کردیا، جس کے نتیجے میں لیاقت علی جتوئی کی صوبائی حکومت ختم کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا۔ یہ انتظام جون 1999 تک جاری رہا۔

خیبرپختونخوا میں فروری 1994 میں دوسری مرتبہ گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اس وقت پیر صابر شاہ وزیراعلیٰ تھے اور صوبائی حکومت کے حوالے سے پیدا ہونے والے سیاسی و انتظامی بحران کے نتیجے میں صدر نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے گورنر کو صوبائی حکومت کے اختیارات سنبھالنے کی ہدایت کی۔ تقریباً دو ماہ بعد گورنر راج ختم ہوا اور آفتاب احمد خان شیرپاؤ وزیراعلیٰ بن گئے۔ یہ واقعہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ صوبائی حکومت کے خاتمے کے بعد نئی سیاسی اکثریت کے ذریعے ایک مختلف حکومت وجود میں آئی۔

2009 میں صوبہ پنجاب میں گورنر راج ایک بار پھر قومی سیاست کا بڑا موضوع بنا۔ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے نتیجے میں شہباز شریف کی وزارتِ اعلیٰ سے متعلق پیدا ہونے والے آئینی بحران کے بعد وفاقی حکومت نے پنجاب میں آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کیا اور سلمان تاثیر نے صوبائی انتظام سنبھالا۔ تاہم یہ انتظام طویل عرصے تک جاری نہ رہ سکا اور سیاسی و آئینی صورتحال میں تبدیلی کے بعد مارچ 2009 میں گورنر راج ختم کردیا گیا اور شہباز شریف دوبارہ وزیراعلیٰ بن گئے۔ اس واقعے نے واضح کیا کہ گورنر راج کسی صوبے میں پیدا ہونے والے آئینی بحران کا ایک عارضی انتظام بھی ہوسکتا ہے۔

2013 میں بلوچستان میں گورنر راج اس سلسلے کی آخری نمایاں مثالوں میں شمار ہوتا ہے۔ جنوری 2013 میں کوئٹہ میں ہلاکت خیز دہشت گرد حملوں کے بعد ہزارہ برادری کا شدید احتجاج شروع ہوا اور مظاہرین نے صوبائی حکومت سے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔ اس بحران کے دوران وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اعلان کیا کہ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت بلوچستان میں گورنر راج نافذ کیا جائے گا اور گورنر نواب ذوالفقار مگسی نے صوبائی انتظام سنبھال لیا۔ اس وقت کا بنیادی محرک امن و امان کا سنگین بحران اور صوبائی حکومت پر اعتماد کا مسئلہ تھا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1999 سے 2002 کے فوجی دور کو بعض تاریخی جائزوں میں صوبائی سطح پر گورنر کے ذریعے براہِ راست انتظام کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے، لیکن اسے عام طور پر آرٹیکل 234 کے تحت نافذ ہونے والے مختصر المدتی گورنر راج کے واقعات کے ساتھ ایک ہی زمرے میں نہیں رکھا جاتا۔ اس عرصے میں ملک بھر میں فوجی حکومت قائم تھی اور صوبائی نظام بھی اسی وسیع تر حکومتی ڈھانچے کے تحت چل رہا تھا۔ اس لیے موجودہ خیبرپختونخوا کے معاملے سے موازنہ کرتے ہوئے 1999 سے 2002 کے پورے فوجی دور اور آئینی آرٹیکل 234 کے تحت نافذ ہونے والے گورنر راج میں فرق رکھنا ضروری ہے۔

 

پاکستانی ساسی تاریخ کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو گورنر راج کے اسباب ایک جیسے نہیں رہے۔ کہیں مرکز اور صوبے کے درمیان سیاسی اختلافات بنیادی وجہ بنے، کہیں حکومت سازی اور اکثریت کا بحران پیدا ہوا، کہیں امن و امان کی صورتحال نے وفاق کو مداخلت پر مجبور کیا اور کہیں ایسا آئینی تعطل پیدا ہوا جس میں صوبائی حکومت کے معمول کے مطابق کام کرنے پر سوال اٹھا۔ موجودہ خیبرپختونخوا میں بھی اصل آئینی سوال یہی ہوگا کہ سیاسی احتجاج، وفاق اور صوبے کے درمیان اختلافات اور امن و امان سے متعلق خدشات کیا اس سطح تک پہنچ چکے ہیں جہاں آرٹیکل 234 کے تقاضے پورے ہوتے ہیں یا نہیں۔ اس کا فیصلہ سیاسی بیانات کے بجائے آئینی طریقہ کار، صدر کے سامنے موجود مواد، وفاقی حکومت کی کارروائی اور ضرورت پڑنے پر عدالتی تشریح سے ہوگا۔

Back to top button