کیا معافی مانگنے پر فیلڈ مارشل عمران کو معاف کر دیں گے؟

معروف لکھاری اور ناول نگار محمد حنیف نے کہا ہے کہ اگر بڑے کے مطالبے پر عمران خان آرمی چیف سے معافی مانگ بھی لیں تو کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ ان کو معافی مل جائے گی، شاید اسی لیے وہ سرعام معافی مانگنے کا رسک لینے کو تیار نہیں اور پس پردہ کسی گارنٹر کی تلاش میں ہے جو ان کو معافی دلوا دے۔
یاد رہے حال ہی میں برسلز میں سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر نے کہا تھا کہ پاکستان میں کسی سیاسی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں اور یہ کہ سیاسی مصالحت سچے دل سے معافی مانگنے کے بعد ہی ممکن ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے قرآن پاک کی ان آیات کا ترجمہ سنایا جو آدم کی تخلیق اور شیطان کے کردار بارے ہے۔ ان آیات سے واضح ہوتا تھا کہ فرشتوں کو آدم سے مسئلہ تھا، مگر جب خدا نے آدم کو تخلیق کیا تو سوائے ابلیس کے باقی سب فرشتوں نے انسان کو خدا کا حکم سمجھ کر قبول کر لیا۔ لیکن شیطان ابلیس نے خدا کا یہ فیصلہ تسلیم کرنے سے اختلاف کیا، گویا معافی مانگنے والے فرشتے رہے اور معافی نہ مانگنے والا شیطان بن گیا۔
اسی حوالے سے بی بی سی کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں محمد حنیف کہتے ہیں کہ اگر عمران خان صرف یہ کہہ کر معافی مانگنے اور جان چھڑانے کی کوشش کریں کہ میں آپ کے کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار میں آیا تھا، اور پھر آپ کو ہی چاروں شانے چت کرنے کا خواب دیکھ بیٹھا تو بھی بڑوں کی جانب سے اعتراض اٹھ سکتا ہے کہ جس سے معافی مانگ رہے ہو اس کو اپنے جرم کا شریک بھی بتا رہے ہو۔ لہذا ایسا کرنے میں بھی مسئلہ ہے۔
محمد حنیف سوال کرتے ہیں کہ کیا کبھی آپ نے معافی مانگی ہے؟ اور کیا دل سے مانگی ہے؟ کیا آپ کو معافی مل گئی تھی؟ فرض کریں آپ نے دل سے معافی مانگی اور معافی مل بھی گئی تو آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ معاف کرنے والے نے دل سے معاف کیا ہے؟ اگر جیل میں بند شخص حکمران وقت سے معافی مانگے گا تو سب سمجھیں گے کہ مصلحتاً معافی مانگی ہے، دل سے نہیں مانگی اور معاف کرنے والا معاف کر بھی دے تو یہ بھی تاثر رہے گا کہ حکمران کی بھی اپنی کوئی مصلحت ہو گی، اس لیے اس نے کہہ دیا کہ چلو قبول ہوئی۔ لیکن اس طرح معافی مانگنے والے اور دینے والے کے دل میں ایک اور گانٹھ پڑ جاتی ہے جو کسی ناقابل معافی جرم کا باعث بنتی ہے۔
حنیف کے بقول ہم بچوں کو بھی یہ سکھاتے ہیں کہ چلو سوری بولو، کسی محبوب کے دل میں دراڑ آ جائے تو سوری بول کر جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن مجھے ایک مرتبہ سبق سکھایا گیا تھو کہ ’آئی ایم سوری‘ کا دنیا کی کسی زبان میں کوئی مطلب نہیں۔
ہماری نسل کے صحافیوں کو زندگی کے سبق ایڈیٹروں نے کم اور ٹیکسی ڈرائیوروں نے زیادہ سکھائے ہیں۔ مجھے بھی معافی کا فلسفہ ایک بزرگ ٹیکسی ڈرائیور نے سمجھایا۔ سڑک پر رش زیادہ تھا، میں نے اسے کہا کہ چلیں، میں آپ کو شارٹ کٹ بتاتا ہوں۔ انھوں نے کہا سیدھے رستے پر چلتے ہیں، پہنچ جائیں گے۔ میں نے کہا یہ دائیں والی پتلی گلی میں سے لیں۔ سفر طویل سے طویل تر ہوتا گیا۔ وہ پوچھتے رہے اب کدھر، اب کدھر۔ میں تکے لگا کر راستہ بتاتا گیا، جب ان کی پوری شام خراب کر کے منزل پر پہنچے تو میں نے کرایہ دیتے ہوئے سوری بول دیا۔ انھوں نے روک کر کہا کہ ’تم بالکل معافی نہیں مانگ رہے۔ نہ تمھیں اپنی غلطی کا احساس ہے، اگر ہوتا تو تمھاری آنکھوں میں آنسو ہوتے، تم گڑگڑا کر معافی مانگتے۔ یہ جو کچھ روپے تم مجھے ٹپ کے طور پر دے رہے ہو یہ بھی اپنے پاس رکھو کیونکہ تم بالکل سوری شوری نہیں ہو، تمہیں اپنی حرکت پر رتی بھر بھی شرمندگی نہیں ہے۔‘
محمد حنیف کہتے ہیں اس واقعے کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوچیں کیا اگر خان گڑگڑا کر، آنکھوں میں آنسو لا کر معافی مانگ لے تو اسے معافی مل جائے گی؟ کیا دل سے معافی ملے گی؟ انھوں نے سیاست میں جو بھی غلطیاں کی ہوں، اتنا تو سیکھ لیا ہو گا کہ یہاں معافی مانگی بھی جعلی جاتی ہے، ملتی بھی وقتی ہے۔ ایسے میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا نواز شریف اور زرداری صاحبان سچے دل سے معافی مانگ کر اقتدار میں آئے ہیں؟
محمد حنیف سوال کرتے ہیں کہ کیا کبھی ایسے ہوا ہے کہ آپ نے کسی پیار کرنے والے سے سوری کیا ہو اور اس نے جوابا پوچھا ہو کہ پہلے یہ تو بتاؤ کے معافی مانگ کس بات کی رہے ہو۔ ذرا اپنے گناہ تو بتاؤ پھر سوچیں گے کہ تمھاری سوری دل سے ہے یا بس جان چھڑا رہے ہو؟ تو خان صاحب کی لسٹ تو اتنی طویل ہو گی کہ مرتب کرتے کرتے جیل میں چھ مہینے سال تو لگ ہی جائیں گے۔ معافی کے لیے جس مقدس داستان سے تاویل لے کر فرشتوں اور شیطان کا ذکر کیا گیا وہ بھی ہمارے تناظر میں غیر مناسب ہے۔ زمین کی معافی زمین پر اور آسمان کی آسمان پر ہی رہنے دیں تو بہتر ہے۔
