کیا چیمپینز ٹرافی پاک بھارت تعلقات پر بھی اثر انداز ہو گی؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار  حامد میر نے کہا ہے کہ کرکٹ بھارت اور پاکستان دونوں کا مقبول ترین کھیل ہے لیکن کرکٹ دونوں ہمسایہ ممالک کے سفارتی تعلقات پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ کے علاوہ اور کوئی بھی گیم عالمی توجہ حاصل نہیں کرتی۔ لہذا دیکھنا یہ ہے کہ چیمپینز ٹرافی 2025 کے دوران بھارت اور پاکستان کے مابین دبئی میں کھیلے جانے والے میچز دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر کریں گے یا اور بھی ابتر کر دیں گے۔

حامد میر کہتے ہیں کہ ان دو ممالک کے درمیان شدید مقابلے کی جڑیں1947میں برطانوی ہندوستان کی تقسیم تک پہنچتی ہیں۔ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کےدوران بھارت پاکستان میں نہیں کھیلے گا۔ بھارت دبئی میں تمام میچ کھیلے گا اور اس حقیقت کو نظر انداز کرے گا کہ چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی پاکستان کیلئے گھر میں بھارت کو شکست دینے سے بڑا اعزاز ہے۔ پاکستان کو یہ اعزاز 29 سال بعد مل رہا ہے۔ پاکستان نے 1996 میں بھارت اور سری لنکا کے ساتھ مل کر آئی سی سی ورلڈ کپ کی میزبانی کی تھی۔ ان دنوں سری لنکا تامل ٹائیگرز کیخلاف جنگ لڑ رہا تھا۔ کولمبو کے اندر اور اس کے ارد گرد کچھ دہشت گرد حملوں کی وجہ سے آسٹریلیا نے سری لنکا کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن بھارت اور پاکستان دونوں نے سری لنکا کو بچانے کا فیصلہ کیا۔

حامد میر کہتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کی مشترکہ ٹیم سری لنکا گئی اور وہاں ایک میچ کھیلا۔ اس مشترکہ انڈیا پاکستان ٹیم کی قیادت محمد اظہر الدین نے کی۔ تصور کریں کہ صرف 29 سال پہلے سچن ٹنڈولکر اور وسیم اکرم جیسے عظیم کھلاڑی ایک ہی ٹیم میں اکٹھے کھیل رہے تھے تاکہ سری لنکن قوم کیساتھ اظہار یکجہتی کیا جا سکے جو دہشت گردی کے خطرے کا سامنا کر رہی تھی۔ چند سال بعد پاکستان کو بھی یہی صورتحال درپیش آئی۔ 3 مارچ 2009 کو جب سری لنکن کرکٹ ٹیم کو لاہور میں ہوٹل سے اسٹیڈیم جاتے ہوئے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ سری لنکن کرکٹرز پاکستانی کرکٹ ٹیم کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کھیلنے کےلیے جارہے تھے۔ سات سری لنکن کھلاڑی زخمی ہو گئے لیکن بس ڈرائیور مہر محمد خلیل نے بس چلانا جاری رکھا اور سٹیڈیم پہنچ گئے۔ پولیس اہلکاروں نے درجنوں دہشت گردوں کا مقابلہ کیا جو نہ صرف گولیاں چلا رہے تھے بلکہ راکٹ بھی فائر کر رہے تھے۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ اس افسوس ناک حملے میں چھ پولیس اہلکاروں اور دو شہریوں کی جانیں چلی گئیں۔امپائر احسن رضا شدید زخمی ہونے والوں میں شامل تھے۔

احسن رضا اب بارہ امپائروں میں شامل ہیں جو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کا حصہ ہیں۔ بہادر احسن رضا بین الاقوامی کرکٹ کے نئے چہرے کے طور پر سامنے آئے جنہوں نے متعدد طبی مسائل کے باوجود اپنے راستے میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو شکست دی۔ یہ صرف ایک احسن رضا کی کامیابی کی کہانی نہیں ہے۔ وہ ایک بڑی کہانی کا حصہ ہیں جو ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستانی کرکٹ نے پچھلے 16 سالوں میں دہشت گردی کے حملے سے کیسے بچا؟

حامد میر یاد دلاتے ہیں کہ 2009 میں لاہور میں حملے کے بعد تقریباً تمام کرکٹ ممالک نے پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا۔  بھارت اور پاکستان نے 1996میں دہشت گردی سے کرکٹ کو بچانے کے لیے ہاتھ ملایا لیکن 2009 میں صورت حال مختلف تھی۔ سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد بھارت نے پاکستان میں کھیلنے سے انکار کر دیا۔ بین الاقوامی کرکٹ پاکستان میں تقریباً ختم ہو گئی لیکن پی سی بی نے کبھی ہار نہیں مانی۔  پی سی بی نے 2015 میں گھر پر بین الاقوامی کرکٹ کو بچانے کے لیے پاکستان سپر لیگ متعارف کرائی۔ یہ آئی پی ایل کا پاکستانی ورژن تھا جو 2008 میں شروع کیا گیا تھا۔ بھارتی کرکٹرز کو پی ایس ایل میں کھیلنے کی اجازت نہیں تھی۔  ابتدائی طور پر پی ایس ایل کے میچوں کا انعقاد UAE میں کیا گیا لیکن پھر اس ٹورنامنٹ کو پاکستان منتقل کر دیا گیا۔ بھارتی کھلاڑیوں کے علاوہ تمام بین الاقوامی کھلاڑی پاکستان آرہے ہیں اور پی ایس ایل میں حصہ لے رہے ہیں۔

پی ایس ایل کی کامیابی نے درحقیقت آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا راستہ ہموار کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی کرکٹ نے امپائر احسن رضا کی طرح دہشت گردی کے حملے سے خود کو بچایا لیکن پاکستان اب بھی دہشت گردی سے لڑ رہا ہے۔ سال 2024 میں 2500 سے زیادہ پاکستانیوں نے دہشت گردی کے حملوں میں اپنی جان گنوا دی جن میں 700 سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ بھارت اب بھی پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگاتا ہے اور پاکستان بھارت پر اپنے بلوچستان اور خیبر پختونخوا صوبوں میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کو فنڈ دینے کا الزام لگاتا ہے۔ پاکستان کا نصف حصہ اب بھی حملوں کا نشانہ ہے۔ چیمپئنز ٹرافی کے میچ محفوظ پاکستان کے نصف حصے میں کھیلے جانے ہیں۔

حامد میر کے بقول کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارت اب پاکستان کے خلاف پابندیوں کی ایک نئی شکل کے طور پر کرکٹ کا استعمال کر رہا ہے۔ بھارت کے پاکستان میں کھیلنے سے انکار نے یقیناً کرکٹ کے مداحوں کو مایوس کیا ہے لیکن تصویر کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ پاکستان بھارت کے بائیکاٹ کو بہت مختلف طریقے سے لے رہا ہے۔ چیمپئنز ٹرافی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا نیا جنگی کھیل ہے۔ پاکستان آرمی تمام کرکٹ ٹیموں اور تمام میچوں کی حفاظت اور سیکورٹی میں براہ راست شامل ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ چیمپئنز ٹرافی پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟ دراصل چیمپئنز ٹرافی کی کامیابی کو پاکستان میں دہشت گردی کی شکست کے طور پر دیکھا جائے گا۔

پی ٹی آئی کی مقبولیت کے غبارے کو پنکچر لگانا ضروری کیوں ہو گیا؟

حامد میر کہتے ہیں کہ یہ کامیابی مزید بین الاقوامی توجہ اور خاص طور پر کچھ غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کر سکتی ہے۔ پاکستان ماضی میں بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کرکٹ کو سفارتکاری کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔ اس بار پاکستان اس بین الاقوامی کرکٹ ایونٹ کو پوری دنیا میں اپنی مثبت تصویر پیش کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

حامد میر کے بقول پچھلے 25 سالوں میں 75,000سے زیادہ پاکستانی دہشت گردی کے حملوں میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ پاکستانی معیشت کو 175ا رب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ ان تمام نقصانات کے باوجود پاکستان نے کبھی ہار نہیں مانی اور اب چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کر کے دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ پاکستان محفوظ ہے۔ چیمپئنز ٹرافی کی کامیابی کرکٹ کے ذریعے لڑے جانے والے نئے جنگی کھیل کی کامیابی ہوگی۔ پاکستان کو اس جنگی کھیل کے دوران بہت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ چیمپئنز ٹرافی پاکستان کے لیے گیم چینجر ہے۔

حامد میر کہتے ہیں کہ اس عظیم تبدیلی کے بعد بھارتی کرکٹ ٹیم یقیناً پاکستان آئے گی اور ہم سچن ٹنڈولکر اور وسیم اکرم دونوں کو کراچی یا لاہور میں میچ دیکھتے ہوئے دیکھ سکیں گے اور 1996 کی یادیں تازہ کر سکتے ہیں جب وہ ایک ہی ٹیم کا حصہ تھے۔

Back to top button