کیا مریم حکومت گنڈاپور کو لاہور میں جلسے سے روک پائے گی؟

اسلام آباد جلسے میں اداروں کو ہدف تنقید بنانے اور لیگی قیادت کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے کے بعد تحریک انصاف کا 21 ستمبر کو لاہور میں جلسہ کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دیتا تاہم پی ٹی آئی رہنماؤں کا دعوی ہے کہ مریم نواز حکومت روک سکتی ہے تو ہمارا جلسہ روک کر دکھائے تحریک انصاف ہر صورت 21 ستمبر کو لاہور میں جلسہ ضرور کرے گی۔ تاہم مبصرین کے مطابق مریم نواز حکومت کسی صورت پی ٹی آئی کو لاہور میں جلسے کی اجازت نہیں دے گی جبکہ وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے کے پی کے سے قافلوں کی قیادت کرتے ہوئے جلسے میں شرکت کےاعلان سے دونوں صوبائی اکائیاں میں کشیدگی میں مزید اضافہ متوقع ہے جبکہ تصادم کے نتیجے میں سانحہ 9 مئی جیسی ایک اور واردات بھی ڈالی جا سکتی ہے جس کا بہت زیادہ امکان موجود ہے جبکہ پنجاب حکومت کی کھلی مخالفت کے باوجود پی ٹی آئی کی 21 ستمبر کو لاہور میں جلسہ کرنے کی ضد کی وجہ سے آنے والے ہفتے میں عمرانڈوز کی دھلائی اور ٹھکائی کے علاوہ سرکردہ یوتھیوں کی گرفتاری کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے21 ستمبر کولاہور میں جلسہ کرنےکا اعلان کررکھا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نےاس حوالے سے8 ستمبر کواسلام آباد میں خطاب کرتےہوئے21 ستمبر کو لاہور جانے کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔انہوں نے اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ’ہم جلسہ کرنےآ رہے ہیں، ہمیں روکنے کی غلطی مت کرنا ورنہ نتائج خطرناک ہوں گے۔‘

پی ٹی آئی حلقوں کے مطابق لاہور جلسے کے اعلان کے بعد اس کی کامیابی کے لیے حکمتِ عملی کی تشکیل کا ٹاسک بھی علی امین گنڈا پور کو ہی دیا گیا ہے۔انہوں نے اس سلسلے میں صوبائی قائدین سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ گنڈاپور کے قریبی ذرائع کا دعوی ہے کہ ’لاہور جلسہ اسلام آباد سے بھی بڑا ہوگا۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور صوبے سے جانےوالے تمام قافلوں کی قیادت کرتے ہوئے پنجاب میں داخل ہوں گے۔‘انہوں نے کہا کہ ’ہم کسی سے جنگ کرنے نہیں جا رہے تاہم اگر روکا گیا تو خاموش نہیں رہیں گے کیوں کہ انصاف کے حصول کے لیے ہم ہر رکاوٹ عبور کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘ اس کیلئے ’انصاف یوتھ ونگ اور ذیلی سطح پر پارٹی ورکرز کو متحرک کیا جارہا ہے اور کارکن بے چینی سے 21 ستمبر کو لاہور جانے کے لیے تیار ہیں۔ ’گنڈاپور نے صوبائی اسمبلی کے ہر رُکن کو اپنے ساتھ ایک ہزار کارکن لانے کا ٹاسک دیا ہے۔ ہماری تیاری مکمل ہے اور صرف پشاور سے 20 ہزار سے زیادہ کارکن لاہور جائیں گے جب کہ باقی اضلاع سے بھی کارکنوں کے قافلے موٹروے پر مرکزی قافلے میں شامل ہو جائیں گے۔‘ جبکہ پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین بھی صوابی میں جمع ہوں گے اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے ساتھ لاہور روانہ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ’ہم پہلے بھی رکاوٹیں ہٹا کر جلسہ گاہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور اس بار بھی ہر رکاوٹ کو ہٹانے کے لیے تیار ہیں۔ لاہور کا جلسہ ہر صورت ہوگا۔‘لاہور کے مینارِ پاکستان گراؤنڈ میں جلسہ کرنے کے لیے اجازت مانگی گئی ہے، این او سی مل گیا تو پرامن طریقے سے جلسہ کیا جائے گا اور اگرنہ ملا تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا مگر ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

 دوسری جانب مبصرین کے مطابق لاہور کا جلسہ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی دونوں کے لیے ٹیسٹ کیس ہے کیوں کہ پنجاب حکومت جلسہ روکنے کی پوری کوشش کرے گی جب کہ دوسری جانب پی ٹی آئی ورکرز عمران خان کی کال پر ہر صورت باہر نکلیں گے۔‘تاہم  ’اگر ٹکراؤ ہوا تو 9 مئی کی طرح کا ایک اور سانحہ ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔‘ مبصرین کے بقول ’خیبرپختونخوا کے کارکنوں نے ہمیشہ پی ٹی آئی کے جلسوں کو قوت بخشی ہے اور اس بار بھی پی ٹی آئی کی قیادت یہی چاہ رہی ہے مگر موجودہ وقت میں ورکرز میں وہ توانائی دکھائی نہیں دے رہی۔ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے اندر مختلف بیانیوں اور اختلافات کی وجہ سے ورکرز مایوس نظر آرہے ہیں۔‘انہوں نے مزید بتایا کہ ’جلسہ کرنے کی اجازت ملنے یا نہ ملنے کے بعد صورتِ حال مزید واضح ہوجائے گی تاہم پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں لاہور جلسے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ تاہم وفاقی وزیر عطا تارڑ کا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے لاہور جلسے کی تیاریوں اور دعووں بارے کہنا ہے کہ ’تم آؤ لاہور، ہم انتظار کریں گے، اور دیکھیں گے کہ اٹک کا پل کیسے عبور کرو گے۔‘

Back to top button