طیارہ سکینڈل نے مریم کی 2 برس کی محنت پر پانی پھیر دیا

 

 

 

وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے اپنے آرام دہ سفر کے لیے 11 ارب روپے کا لگژری وی وی آئی پی جہاز خریدنے اور اس کے بعد اس حوالے سے جھوٹا موقف اپنانے سے ان کے پچھلے دو برس کی محنت پر پانی پھر گیا ہے اور وہ سخت ترین عوامی تنقید کی زد میں ہیں۔

 

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ایک لگژری جہاز کی خریداری نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ رکھی ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ جہاز مریم نواز کی سرکاری ضروریات کے لیے خریدا گیا ہے یا اسے مجوزہ صوبائی ایئر لائن ’ایئر پنجاب‘ کے فلیٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔ جواب یہ ہے کہ یہ جہاز مریم نواز کے ہوائی سفر کے لیے ہی خریدا گیا ہے چونکہ صرف 13 سیٹوں والا چھوٹا جہاز کبھی کسی ایئر لائنز کے کمرشل آپریشنز میں استعمال نہیں ہوتا۔ پنجاب حکومت اس حوالے سے جھوٹا موقف اپنانے کی وجہ سے اور بھی زیادہ تنقید کی زد میں آ رہی ہے۔

 

یاد رہے کہ چند روز قبل ایک پریس کانفرنس میں صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری سے اس بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ’ایئر پنجاب‘ کے قیام کی کڑی ہے۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت ایک فضائی مکمل فلیٹ تیار کرنے کے لیے کچھ طیارے مزید بھی خریدے گی اور کچھ لیز پر لے گی، تاہم ائیر پنجاب منصوبے کی تفصیلات اور حکمت عملی کے بارے میں واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ اسی دوران جہاز کی خریداری کا دفاع کرتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ تمام وزرائے اعلیٰ کے پاس سرکاری طیارے ہوتے ہیں اور یہ جہاز بھی صوبہ پنجاب کی ملکیت ہوگا، نہ کہ کسی ذاتی استعمال کے لیے خریدا گیا اثاثہ ہو گا۔ ان کا مؤقف تھا کہ وزیر اعلی پنجاب کا پرانا طیارہ 25 برس سے زیر استعمال تھا اور اسے تبدیل کرنا ناگزیر ہو چکا تھا، جبکہ ڈالر کی قدر میں اضافے کے باعث قیمت زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔

 

دوسری جانب وزیر دفاع و ہوا بازی خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر یہ اس بارے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ’ایئر پنجاب‘ کے نام سے ائیر لائن لانچ کرنے کی صوبائی حکومت کو اجازت مل چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ نے نیا لگژری جہاز لیا ہے تو اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں کیونکہ وفاق اور دیگر صوبوں میں بھی اعلیٰ حکام کے زیر استعمال طیارے موجود ہیں۔

 

میڈیا رپورٹس اور سرکاری ذرائع کے مطابق زیر بحث طیارہ امریکی کمپنی گلف سٹریم ایروسپیس کا تیار کردہ Gulfstream G500 ہے، جو ایک لانگ رینج بزنس جیٹ ہے۔ اس کی عالمی منڈی میں قیمت تقریباً ساڑھے چار کروڑ امریکی ڈالرز بتائی جاتی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں لگ بھگ 11 ارب روپے بنتی ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق یہ طیارہ تقریباً 1000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے اور ایک ہی فلائٹ میں 8,334 کلومیٹر تک کا سفر طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں 13 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور طویل پروازوں کے لیے آرام دہ نشستیں، صوفہ سیٹس، ڈائننگ ٹیبل اور آرام کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ اسے عمومی طور پر ریاستی سربراہان، شاہی خاندانوں اور کاروباری شخصیات کی نجی پروازوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

 

ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ’ٹاپ رینک بزنس جیٹ‘ ہے اور اس کی نشستوں کی محدود تعداد کے باعث اسے روایتی کمرشل ایئر لائن سروس کے طور پر چلانا عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔ عام کمرشل ایئر لائنز، بالخصوص بڑی روٹس پر چلنے والے طیاروں میں 150 سے 300 یا اس سے زائد مسافروں کی گنجائش ہوتی ہے، جبکہ 13 یا حتیٰ کہ 18 نشستوں والا طیارہ ریونیو ماڈل کے اعتبار سے مختلف نوعیت رکھتا ہے۔

ایک نجی ایئر لائن سے وابستہ پائلٹ کے مطابق اس نوعیت کے طیارے زیادہ تر وی آئی پی موومنٹ یا کارپوریٹ سفر کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے مکمل کمرشل بنیادوں پر چلانے کے لیے خصوصی بزنس ماڈل درکار ہوگا، جو روایتی مسافر ایئر لائن کے ڈھانچے سے مختلف ہے۔

 

دستاویزات کے مطابق یہ جہاز گزشتہ برس 28 دسمبر کو لاہور پہنچا اور فروری کے اوائل سے اس نے وزیر اعلی پنجاب کے لیے مقامی پروازیں شروع کر دیں۔ اس جہاز نے بعض پروازیں اپنے امریکی رجسٹریشن کال سائن کے تحت کیں جبکہ 10 سے 12 فروری کے دوران ’پنجاب ٹو‘ کے کال سائن سے لاہور سے کوئٹہ اور میانوالی تک پروازیں کی گئیں۔ 16 فروری کو اسی کال سائن کے تحت سیالکوٹ کی پرواز بھی کی گئی۔

 

حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر یہ طیارہ واقعی ’ایئر پنجاب‘ کے لیے ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک 13 نشستوں والا بزنس جیٹ صوبائی ایئر لائن کے بنیادی فلیٹ کا حصہ بن سکتا ہے؟ عام طور پر نئی ایئر لائنز درمیانے درجے کے مسافر طیاروں، مثلاً ایئربس یا بوئنگ کے سنگل آئل طیاروں سے آغاز کرتی ہیں جن میں زیادہ نشستیں اور بہتر کمرشل استعداد ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس صوبائی حکومت نے ’ایئر پنجاب‘ کے قیام کی منظوری دیتے ہوئے ابتدائی مرحلے میں چار ایئربس طیارے لیز پر لینے کی ہدایت کی تھی۔ بعد ازاں مختلف اعلیٰ عہدوں کے لیے بھرتیوں کا اشتہار بھی جاری کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبہ کاغذی سطح سے آگے بڑھ چکا ہے، تاہم اس کے آپریشنل ڈھانچے کی مکمل تفصیلات تاحال منظر عام پر نہیں آئیں۔

مریم نواز کے 11 ارب کے جہاز نے عوام کا اعتماد کیسے پاش پاش کیا؟

اپنے فیصلے کے دفاع میں حکومتی نمائندوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ صوبے کا بجٹ چار سے پانچ ہزار ارب روپے کے قریب ہے اور اس تناظر میں 11 ارب روپے کی سرمایہ کاری غیر معمولی نہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر اسے ’ایئر پنجاب‘ کے لیے خریدا گیا تو پھر اسے وزیراعلیٰ کے زیر استعمال سرکاری طیارے کے طور پر پیش کرنا متضاد بیان بازی کے مترادف ہے، اور اگر یہ وزیراعلیٰ کے لیے ہے تو اسے کمرشل ایئر لائن منصوبے سے جوڑنا عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔

Back to top button