کیا فوجی اسٹیبلشمنٹ عمران کے نئے چیلنج سے نمٹ پائے گی ؟

عمران خان نے علی امین گنڈا پور کو وزارت اعلی سے ہٹا کر اس کی جگہ طالبان نواز سہیل آفریدی کو وزیراعلی بنا کر ریاست کے اندر ایک متوازی ریاست کھڑی کر دی ہے جو کہ فوجی اسٹیبلشمینٹ کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے۔ چنانچہ اب دو ہی راستے ہیں، یا تو ریاست کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ قیدی نمبر 804 کے سامنے سر تسلیم خم کر لے اور یا پھر اسے جھکانے میں کامیاب ہو جائے، اب کوئی تیسری صورت دکھائی نہیں دے رہی۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب مورخ تحریک انصاف کے عروج و زوال کی داستان لکھے گا تو بتائے گا کہ یہ جماعت کیسے دیوتا کی انا اور خود پسندی کی بھینٹ چڑھا دی گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف سیاسی کارکنوں کی جماعت نہیں بلکہ عاشقانِ عمران خان کا گروہ ہے۔ لیکن اب خیبر پختونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی اپنی پہلی تقریر میں یہ اعتراف کر لیا ہے۔ سہیل آفریدی نے اپنی گفتگو کا آغاز ایک بے وزن شعر سے کیا اور کہا
نہیں مروں گا اب کسی جنگ میں، یہ سوچ لیا
میں اب کی بار عشقِ عمران میں مارا جاؤں گا
سہیل آفریدی نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ اس سے پہلے آپ نے وہ لوگ دیکھے ہوں گے جو سیاست کیا کرتے تھے مگر ہم عاشق ہیں، ہم عمران خان سے عشق کرتے ہیں۔ نئے وزیراعلیٰ کی پہلی تقریر میں تحریک انصاف کے ہر رنگ کی جھلک دکھائی دے رہی تھی۔وہ یہ کہنا نہیں بھولے کہ 9 مئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا۔سہیل آفریدی نے دھمکی دی کہ وہ خیبر پختون خواہ میں کسی طالبان مخالف فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں محنت کرکے یہاں پہنچا ہوں، کسی پرچی سے وزیر اعلیٰ نہیں بنا۔
بلال غوری کہتے ہیں کہ اپنے سفارشی مراد سعید کی طرح یقیناً آفریدی نے بھی ترقی کرنے کیلئے بہت محنت سے زور لگایا ہو گا لیکن سچ یہی ہے کہ وہ بھی اڈیالہ جیل کے ایک قیدی کی پرچی سے وزیراعلیٰ بننے میں کامیاب ہوئے۔ اپنے ارادوں اور مستقبل کے سیاسی منظر نامے کا عندیہ دیتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا میں احتجاجی سیاست کا چیمپئن ہوں۔ انکا کہنا تھا کہ عمران خان ریاست کا دوسرا نام ہے۔ بلال غوری سوال کرتے ہیں کہ یہ فاشزم نہیں تو اور کیا ہے کہ پورا نظام فرد واحد کی منشاو مرضی کا غلام ہو۔
عمران خان خود کو بے تاج بادشاہ ثابت کرنے کیلئے ہی تو عثمان بزدار، علی امین اور سہیل آفریدی جیسوں کو وزیر اعلی بناتے ہیں۔ عمران خان کی جدوجہد کا مرکز و محور یہی تو ہے کہ اپنی عظمت و برتری کا نقارہ سنایا جائے، اور خود کو ریاست کہلوا کر یہ باور کروایا جائے کہ ان کی ذات اقدس اس ملک اور نظام سمیت ہر شے سے برتر و افضل ہے۔ یعنی اگر وہ نہیں تو پھرسب لاحاصل ہے اور انکی حکومت گرانے سے بہتر ہے کہ اس ملک پر ایٹم بم گرادیا جائے۔
بلال غوری کا کہنا ہے کہ خود پسندی، ہوس کی ناتمامی اور آرزو کی تشنہ کامی عمران خان جیسوں کو اس مقام پر لیجاتی ہے جہاں غرق ہونا ان کا مقدر بن جاتا ہے۔ پانے کا خمار اور کھونے کا آزار انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا۔ عبرت کے ہزاروں نشاں موجود ہیں، بڑے بڑوں کے نقارے خاموش ہوگئے، مگر شاید ہما رے ہاں عمران خان جیسے لوگوں نے تاریخ سے ایک ہی سبق سیکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھنا۔
بلال غوری کے مطابق تحریک انصاف ایک متبادل سیاسی قوت کے طور پر ہمارے متعفن سیاسی نظام میں خوشگوار ہوا کا تازہ جھونکا ثابت ہوسکتی تھی مگر افسوس، اسے کبھی سیاسی جماعت ہی نہ بننے دیا گیا۔ عمران خان سیاسی قائد کے بجائے دیوتا کی مسند پر فائز ہو گئے۔ تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کے بجائے ایک سیاسی ”کلٹ“ اور گروہ میں تبدیل کر دیا گیا۔ عمران خان کی پہلی غلطی یہ تھی کہ اکتوبر 2011ء کو مینار پاکستان پر کامیاب جلسے کے بعد اپنے نظریاتی ساتھیوں پر انحصار کرنے کی بجائے انہوں نے سیاسی مفادات کے تحت آنیوالوں کو ٹکٹ دے دیئے تاکہ وہ جلد ازجلد عنان اقتدار سنبھال سکیں۔
بلال غوری کے خیال میں عمران کی دوسری غلطی یہ تھی کہ انہوں نے 2018 کے آر ٹی ایس زدہ الیکشن میں اقتدار دلوائے جانے کے بعد نیا پاکستان بنانے کے بجائے ساری توانائیاں اپنے سیاسی مخالفین کو مٹانے پر لگا دیں۔ عاجزی و انکساری اپنانے کی بجائے انکی خود پسندی اور تکبر میں اضافہ ہو گیا۔ آخری غلطی یہ ہوئی کہ اقتدار سے محرومی کے بعد خان نے سب کچھ نیست و نابود کرنے کی ٹھان لی۔ اپنی حکومت ختم ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ سب کچھ ختم ہو گیا۔ لیکن اپنی اننگز کا انتظار کرنے کے بجائے موصوف فوجی تنصیبات پر حملے کروا کر کھیل سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے باہر ہو گئے۔ سیاستدانوں کیلئے گرفتار ہونا ہرگز اچنبھے کی بات نہیں مگر انہوں نے آتش گل سے چمن ہی جلا ڈالا۔
بلال غوری کہتے ییں کہ جب مورخ تحریک انصاف کے عروج و زوال کی روداد بیان کرئیگا تو نوک قلم ایک ہی جملے پر اٹک جائیگی کہ یہ تحریک دیوتا کی انا اور خودپسندی کی بھینٹ چڑھا دی گئی۔
