یویو ہنی سنگھ اور شالنی تلوار میں علیحدگی ہوگئی

معروف بھارتی گلوکار یویو ہنی سنگھ کی اہلیہ شالنی تلوار سے علیحدگی کا معاملہ عدالت پہنچ کر فائنل ہوگیا ہے اور دونوں میں طلاق ہو گئی ہے۔ سکھ گلوکار کی اہلیہ اور ماڈل شالنی نے یویو ہنی سنگھ پر شراب نوشی، دیگر لڑکیوں سے تعلقات، جنسی استحصال اور بے عزتی کرنے جیسے الزامات عائد کیے تھے۔ اب دونوں کے مابین نئی دہلی کی فیملی کورٹ ’سیکٹ‘ میں طلاق کا معاملہ طے پاگیا ہے، تاہم اسکے باوجود دونوں کی جانب سے ایک دوسرے پر لگائے گئے الزامات کی وجہ سے انکا کیس زیر سماعت رہے گا۔ بتایا گیا کہ ہنی سنگھ نے شالنی تلوار کی جانب سے دائر دعوے کے تحت انہیں ایک کروڑ روپے کا چیک ادا کرنے کیلئے دیا ہے جس کے بعد دونوں فریقین نے طلاق پر رضامندی ظاہر کی۔ دونوں کے درمیان ایک کروڑ روپے کے عوض طلاق کا تصفیہ عدالت کے سامنے ہوا اور انہوں نے شادی ختم کرنے سے متعلق رضامندی کی دستاویزات بھی عدالت میں جمع کروا دیئے۔
دونوں کی جانب سے رضا مندی کے کاغذات جمع کروائے جانے کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ سال مارچ تک ملتوی کر دی لیکن طلاق کی قانونی ڈگری جاری نہیں کی۔ ممکنہ طور پر دونوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف لگائے گئے گھریلو تشدد، جنسی استحصال اور بلیک میلنگ کے الزامات سمیت دیگر الزامات پر سماعتیں ہونے کے بعد ان کی طلاق کی باضابطہ ڈگری جاری کی جائے گی۔ یاد رہے کہ دونوں کے درمیان نئی دہلی کی فیملی کورٹ میں تقریبا ایک سال سے کیس زیر سماعت تھا، ہنی سنگھ پر ان کی اہلیہ شالنی تلوار نے برس جنسی استحصال، گھریلو تشدد، دوسری خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات
عمران نے آرمی چیف کی توسیع سے متعلق بیان کی تردید کر دی
استوار کرنے اور انہیں دھوکہ دینے سمیت مختلف الزامات کے تحت 20 کروڑ روپے کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔
شالنی نے ہنی سنگھ پر اگست 2021 میں ہرجانے کا دعویٰ دائر کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ان کے شوہر شراب نوشی کرنے سمیت متعدد خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات میں بھی ملوث رہے ہیں جبکہ وہ انہیں گالیاں بھی دیتے رہتے ہیں۔ شالنی نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی شادی کے بعد ہی ان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور ہنی مون کے فوری بعد ہی ان میں تلخیاں پیدا ہوگئی تھیں، ساتھ ہی انہوں نے شوہر پر جنسی استحصال اور گھریلو تشدد کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔ ہنی سنگھ اور شالنی نے جنوری 2011 میں شادی کی تھی اور حالیہ اختلافات سے قبل ان کے درمیان تنازعات کی خبریں کبھی سامنے نہیں آئی تھیں۔
