ڈیانا کا گھر برباد کرنے والی کمیلا پارکر کوئین بن گئیں

دنیا بھر میں کروڑوں دلوں پر راج کرنے والی لیڈی ڈیانا کی زندگی میں کانٹے بکھیرنے والی چارلس کی دوسری اہلیہ کمیلا پارکر اپنے شوہر کے بادشاہ بننے کے بعد بالآخر برطانیہ کی نئی کوئین کنسورٹ بن گئی ہیں۔ کمیلا نوجوانی سے ہی چارلس کی زندگی میں موجود تھیں اور 17 برس سے انکی بیوی ہیں۔ لیکن کمیلا تسلیم کرتی ہیں کہ کوئین بننا ان کے لیے اس قدر آسان نہیں تھا۔ ڈیانا کی زندگی میں ہی اکثر چارلس کے ساتھ نظر آنے والی کمیلا پارکر کو اب بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ انہیں ڈیانا کا گھر برباد کرنے والی عورت سمجھا جاتا ہے۔ انھیں صدی کی سب سے بڑی شادی تڑوانے کی ذمہ دار ’دوسری عورت‘ کہا جاتا ہے۔ اسلیے انکا موازنہ آج بھی شہزادی ڈیانا سے کیا جاتا ہے۔

کمیلا پارکر کے بارے کہا جاتا ہے کہ چارلس کا انتخاب کر کے انھوں نے اپنی زندگی کو بظاہر مسائل میں جھونک دیا تھا۔ کئی برسوں تک پریس ان کا پیچھا کرتا رہا اور ان کے کردار اور حلیے پر حملہ آور ہوتا رہا کیونکہ ڈیانا کے مقابلے میں وہ بھدی اور بد صورت قرار دی جاتی ہیں، مگر انھوں نے طوفان کا مقابلہ کیا اور مسلسل اپنی پوزیشن کو مستحکم بنایا۔ اب وہ برطانوی شاہی خاندان کی سب سے سینیئر رکن ہیں۔ان کے لیے شہزادہ چارلس کی اہلیہ ہونے کے ناطے کوئین کا کنسوٹ بننے کا سفر دلچسپ رہا ہے۔

عمران نے آرمی چیف کی توسیع سے متعلق بیان کی تردید کر دی

خیال ہے کہ شہزادہ چارلس 20 برس کی عمران میں فوراً ان کی محبت میں گرفتار ہو گئے تھے۔ مگر ملکۂ الزبتھ دوم کی منظوری میں کچھ وقت لگا۔ اپنی زندگی کے آخری برسوں میں وہ کمیلا کی حمایت میں کھل کر سامنے آئیں۔ لیکن کمیلا کو بطور ملکہ برطانوی عوام کی مکمل حمایت شاید کبھی نہ مل سکے جس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کی پہلی محبت ڈیانا ہے۔ انھوں نے رواں سال کے اوائل میں ووگ میگزین کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ میں کسی طرح خود کو اس سے کھینچ لیتی ہوں اور زندگی جاری رکھتی ہوں۔ آپ کو کسی بھی طرح اپنی زندگی جاری رکھنی ہوتی ہے۔
کمیلا روز میری شینڈ 17 جولائی 1947 کو پیدا ہوئیں۔ انھوں نے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ وہ تخت کے وارث سے شادی کریں گی۔ ان کے خاندان کا تعلق اونچے طبقے سے ہے جو امیر ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے روابط رکھتا ہے۔ مگر یہ کسی طرح بھی شاہی خاندان نہیں تھا۔

انھوں نے میل جول اور محبت سے بھرپور ماحول میں پرورش پائی۔ وہ سسیکس میں اپنے خوبصورت آبائی گھر میں اپنے بھائی اور بہن کے ساتھ کھیلتی تھیں۔ ان کے والد بروس شینڈ ایک ریٹائرڈ آرمی افسر تھے جو انھیں سونے سے قبل کہانیاں سناتے تھے۔ ان کی والدہ روزالنڈ فیری کی مدد سے انھیں سکول پہنچاتی تھیں۔ وہ تفریحی سرگرمیوں اور ساحل پر بھی ان کے ساتھ موجود رہتی تھیں۔چارلس کے مقابلے یہ مختلف بچپن تھا کیونکہ چارلس کو طویل عرصے تک والدین کے بغیر رہنا پڑتا تھا جب وہ دنیا کے دوروں پر گئے ہوتے تھے۔

کمیلا سوئٹزرلینڈ میں فنشنگ سکول گئیں جس نے انھیں لندن کے معاشرے میں شروعات کے لیے تیار کیا۔ وہ مقبول شخصیت تھیں اور 60 کی دہائی میں ان کا اینڈریو پارکر بولز نامی گھڑ سوار فوجی افسر کے ساتھ تعلق بنا جو ٹوٹ گیا۔ 70 کی دہائی میں ان کی ملاقات نوجوان شہزادہ چارلس سے ہوئی۔ شہزادے کی سوانح عمری لکھنے والے مصنف جوناتھن ڈمبلبی کے مطابق وہ بہت محبت کرنے والی شخص تھیں۔ ان کی عاجزی اور پہلی محبت کی شدت کو دیکھ کر چارلس فوراً انھیں دل دے بیٹھے۔ مگر یہ وقت ٹھیک نہ تھا۔ چارلس اب بھی 20 برس سے کچھ زیادہ کے تھے اور بحریہ میں تعینات تھے۔ وہ 1972 کے اواخر میں آٹھ ماہ تک بیرون ملک تعینات ہوئے۔ جب وہ گھر سے دور تھے تو اس دوران اینڈریو نے کمیلا کو شادی کی پیشکش کی جو انھوں نے قبول کر لی۔

چارلس اور اینڈریو ایک ساتھ پولو کھیلتے تھے اس لیے جوڑے نے چارلس کو اپنے پہلے بچے ٹام کا گاڈ فادر بننے کی درخواست کینجو انہوں نے قبول کر لی۔ 1981 کے موسم گرما کے دوران چارلس لیڈی ڈیانا سپینسر سے ملے اور انھیں شادی کی پیشکش کر دی۔ تب بھی کمیلا ان کی زندگی کا حصہ تھیں۔ ’ڈیانا: ہر ٹرو سٹوری‘ میں مصنف اینڈریو مورٹن لکھتے ہیں کہ ڈیانا نے دو روز قبل تقریباً شادی منسوخ کر دی تھی جب انھیں چارلس کی جانب سے کمیلا کے لیے بنوائے گئے کنگن ملے جن پر ’ایف‘ اور ’جی‘ کے حروف درج تھے۔ اس کا تعلق فریڈ اور گلیڈس کے نام تھے جن سے وہ ایک دوسرے کو پکارتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈیانا کمیلا کے ان کے شوہر سے تعلق کو سمجھ نہیں پائیں۔ چارلس نے اصرار کیا ہے کہ دونوں کے درمیان رومانوی تعلق تبھی بحال ہوا جب ان کی شادی ’ناقابل واپسی کی حد تک ٹوٹ‘ چکی تھی۔ مگر ڈیانا نے پینوراما کو دیے انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’اس شادی میں ہم تین لوگ تھے۔
لیکن چارلس اور ڈیانا کے رشتے میں 1990 میں تب ایک بڑی دراڑ آ گئی جب چارلس کی خفیہ طور پر ریکارڈ ہونے والی ایک فون کال لیک ہو گئی۔ اس فون کال کے دوران شہزادہ چارلس اس واہیات خواہش کا اظہار کرتے سنائی دیتے ہیں کہ کاش وہ کمیلا کاماہواری پیڈ ہوتے۔ اس کال سے دونوں کی قربت واضح ہو گئی تھی۔ تاہم ڈیانا نے بچوں کی خاطر چارلس سے شادی چلانے کی کوشش جاری رکھی۔ اس دوران 1995 میں کمیلا کو اینڈریو سے طلاق ہو گئی جس کے بعد چارلس اور ڈیانا کی شادی بھی 1996 میں ختم ہو گئی۔

لیکن عوامی تنقید اور تنازع کے باوجود کمیلا نے چارلس کا انتخاب کر کے بہت زیادہ ہمت دکھائی۔ اب کمیلا کی عمر 75 سال ہے۔ ان کی زندگی اپنے شوہر اور خاندان کے گرد گھومتی ہے۔ ونڈزر میں ان کی روزمرہ کی سرگرمیوں سے شاید شہ سرخیاں بنتی ہیں مگر تمام تر توجہ سے دور کمیلا پانچ بچوں کی نانی ہیں۔ چارلس اور کمیلا کے درمیان تعلق بہت گہرا ہے۔ ایک دوسرے کو دیکھنا اور مسکرانا، شاید ہی کوئی تقریب ہوگی جس میں دونوں ایک دوسرے کے کان میں طنز و مزاح کرتے نہ پائے گئے ہوں۔

Back to top button