بزدار حکومت نے قرنطینہ مراکز کیوں بند کرنا شروع کر دیے؟

main 3
پنجاب میں کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاو کے باوجود کپتان کے وسیم اکرم پلس عثمان بزدار کی حکومت نے عالمی ادارہ صحت کی وارننگ اور ہدایات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے کرونا مریضوں کیلئے صوبے میں قائم قرنطینہ مراکز کو بند کرنا شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے ہر گزرتے دن کے ساتھ صوبے میں کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت کیا ہے کہ جب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ تیزی سے کرونا وائرس صوبہ پنجاب میں پھیل رہا ہے اور طبی ماہرین کرونا وباء سے نمٹنے کے حوالے سے پنجاب حکومت کی ناقص حکمت عملی کو کرونا پھیلاؤ کی بنیادی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ اس ابتر صورتحال کے پیش نظر عالمی ادارہ صحت کی طرف سے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کرونا سے نمٹنے کے لیے حکومتی انتظامات ناکافی ہیں اور مسلسل تبدیل ہوتی پالیسیوں کی وجہ سے کرونا پنجاب کے ہر بڑے شہر اور قصبے تک پہنچ چکا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے مزید وارننگ دی تھی کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے حوالے سے حکومت کی طرف سے سخت اور مؤثر اقدامات نہ کئے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ تاہم اس تنبیہ کے باوجود پنجاب حکومت نے کرونا متاثرین کیلئے صحت کی سہولیات میں اضافے کی بجائے پہلے سے موجود سہولیات میں بھی کمی کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق نئی پالیسی کے تحت بیرون ملک سے لاہوراوردیگر ایئر پورٹس پر آنے والے افراد کی ٹیسٹنگ کے بجائے ان کی صرف تھرمل اسکینر کے ذریعے جانچ کی جارہی ہے اور جس کے بعد تمام ایسے افراد کو گھر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے جن میں بخار کی علامات نہ ہوں حالانکہ طبی ماہرین واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان میں اکثر کرونا کے مثبت کیسز میں علامات ظاہر نہیں ہوتی ہیں۔ بیرون ملک سے پاکستان آنے والوں کوبغیر تشخیص کے گھر جانے کی اجازت دینے کے حکومتی فیصلے سے کرونا کے پھیلاؤ میں مزید تیزی آنے کے خطرات کا اظہارکیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ’یہ واقعی خطرناک ہے کیونکہ حکومت کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے جو اقدامات کررہی ہے اس کے نتائج کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہی ہے، حکومت کو نئی پالیسی پر عمل درآمد روکنا چاہیے کیونکہ اگر اس پر عمل درآمد جاری رہا تو اس کے تباہ کن نتائج سامنے آئیں گے‘۔
واضح رہے کہ حکومت کی طرف سے لاہور میں بند کیے جانے والے قرنطینہ مراکز میں کالا شاہ کاکو، پنجاب یونیورسٹی، لاہور یونیورسٹی، ٹھوکر نیاز بیگ، رائیونڈ تبلیغ مرکز اور قذافی اسٹیڈیم (نشتر پارک) شامل ہیں۔ تاہم فیلڈ ہسپتال کا درجہ رکھنے والے جوہر ٹاؤن ایکسپو سینٹر میں تصدیق شدہ کیسز علاج جاری رہے گا۔ اس حوالے سے ضلعی حکام نے قرنطینہ مراکز کی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ قرنطینہ مراکز بارے نظر ثانی شدہ پالیسی کے مطابق لاہور میں قائم قرنطینہ مراکز بند کئے گئے ہیں۔ لاہور کے ڈپٹی کمشنر دانش افضال کے مطابق بند کیے گئے قرنطینہ مراکز میں کرونا وائرس کے مشتبہ مریض نہیں تھے گھروں پر آئی سولیشن کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کے بعد ان مراکز کی ضرورت نہیں ہے‘۔انہوں نے واضح کیا کہ ضرورت پڑنے پر ان بند قرنطینہ مراکز کو دوبارہ کھولا جاسکتا ہے جبکہ ایکسپو سینٹر کی سہولت ایک فیلڈ ہسپتال ہے نہ کہ قرنطینہ مرکز، یہ کھلا اور فعال ہے جہاں کرونا وائرس مریض زیرعلاج ہیں‘۔
خیال رہے کہ لاہور میں کرونا وائرس کے مشتبہ مریضوں اور بیرون ملک سے لوٹنے والے افراد کے لیے یہ قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے تھے تاہم اب نئی پالیسی کے مطابق ایسے تمام افراد، اور یہاں تک کہ جن میں وائرس کی تصدیق ہورہی ہے، کو بھی اپنے گھروں میں خود کو آئی سولیشن میں رکھنے کی ہدایت کے ساتھ جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔ حکومت کی طرف سے قرنطینہ مراکز کی بندش کی پالیسی کو طبی ماہرین تباہ کن قرار دے رہے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کوقرنطینہ مراکز کی بندش کے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ اگر اس فیصلے پر عملدرآمد جاری رہا تو صوبے میں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اتنا اضافہ ہو جائے گا کہ ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button