حکومت نے عثمان کاکڑ کی موت کو مشکوک تسلیم کر لیا

بالآخر بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد بلوچستان حکومت نے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما اور سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کی پراسرار موت کو مشکوک تسلیم کرتے ہوئے اس کی اصل وجہ جاننے کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بلوچستان حکومت نے جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے رجسٹرار بلوچستان ہائی کورٹ کو ایک خط لکھا ہے جس میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس ظہیر الدین کاکڑ کو کمیشن میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ 17 جون 2021 کو پراسرار حالات میں عثمان کاکڑ کو اپنے گھر میں سر پر گہری چوٹ آئی تھی۔ اُن کا ابتدائی علاج کوئٹہ میں ہوا اور زخم گہرا ہونے کے باعث ان کے سر کے آپریشن میں ساڑھے چار گھنٹے لگے تھے۔ انھیں بعد ازاں کوئٹہ سے کراچی کے نجی ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ 21 جون کو سر کے زخم کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے تھے۔ ان کے بڑے بیٹے خوشحال خان خٹک نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ دو نامعلوم افراد نے تب گھر میں گھس کر ان کے والد کے سر پر کلہاڑی سے وار کیے۔ تاہم حکومتی موقف یہ تھا کہ انکو برین ہیمرج کے باعث گرنے سے سر پر ذخم آیا ہے۔ لیکن بلوچستان کی بولان میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ممتاز نیورو سرجن ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کے مطابق عثمان کاکڑ کے ابتدائی سی ٹی سکین کے مطابق سر پر چوٹ لگنے سے پہلے اُن میں بلڈ پریشر، برین ہیمرج یا اس نوعیت کی کسی اور بیماری کے آثار نہیں پائے گئے۔ پشتون خوا ملی عوامی پارٹی نے کاکڑ کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انکے پاس اس کے شواہد موجود ہیں۔
چنانچہ کاکڑ کے خاندان کے لوگ اور ان کی جماعت کی قیادت مسلسل حکومت سے انکی موت کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کر رہی تھی۔ پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ عثمان کاکڑ کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ سویلین بالادستی کے بڑے وکیل تھے اور سیاسی معاملات میں مداخلت پر خفیہ اداروں اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو برملا تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔
تاہ۔ بلوچستان کے وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ چند ملک دشمن عناصر ان کی موت کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لیکن بلوچستان کے ممتاز نیورو سرجن ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کے مطابق جب انھوں نے اپریشن سے پہلے عثمان کاکڑ کے سر کے بال صاف کیے تو دیکھا کہ ان کے سر کے بائیں طرف سوجن تھی اور ان کو کند چوٹ لگی تھی۔ یہ کسی وجہ سے بھی لگ سکتی ہے۔ ایک مفروضہ تھا کہ ان کو پہلے ہیمرج ہو گیا ہو گا جس کے بعد وہ گر گئے لیکن سی ٹی سکین میں ہیمرج نہیں تھا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ جو ضروری سرجری تھی وہ انھوں نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کاکڑ صاحب کے دماغ کو زیادہ نقصان پہنچا تھا اور اس۔پر سوجن زیادہ ہونے کہ وجہ سے وہ باہر نکل رہا تھا چنانچہ اسے اضافی پردہ لگا کر محفوظ کیا گیا تا کہ اسے خون کی فراہمی برقرار رہے۔ انھوں نے بتایا کہ سرجری کے دوران ان کے ریسپانسز بہتر ہوئے اور آپریشن رات ایک بج کر 33 منٹ پر مکمل ہوا۔ ’اس کے بعد ان کے رشتے داروں اور سیاسی قیادت نے ماہر ڈاکٹروں کا انتظام کیا تھا جنھوں نے ان کو ایک اور پرائیویٹ ہسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کیا۔‘ نیورو سرجن ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کا کہنا تھا کہ اکثر جب فالج کا حملہ ہوتا ہے تو مریض کو سیکنڈری ہیڈ انجری ہو جاتی ہے لیکن کاکڑ کی سی ٹی سکین رپورٹ میں فالج، خون پتلا ہونے یا بلڈ پریشر کے شواہد نہیں تھے۔
ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی نے کہا کہ چونکہ عثمان کاکڑ کے خاندان کی خواہش تھی کہ ان کو کراچی منتقل کیا جائے جس پر مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان کو آغا خان ہسپتال منتقل کیا جائے۔ آغا خان ہسپتال میں ان کی موت واقع ہوئی جہاں سے ان کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی منتقل کیا گیا۔ تاحال پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ نہیں آئی۔ اگرچہ جناح پوسٹ گریجویٹ سینٹر میں پوسٹ مارٹم کے بعد چار صفحات پر مشتمل جو ابتدائی رپورٹ دی گئی اس میں موت کی وجوہات کے بارے میں رائے نہیں دی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متوفی کے لواحقین کی خواہش کے مطابق ان کو اپنی مرضی کے لیبارٹری سے ٹیسٹ کرانے کے لیے مطلوبہ مواد دے دیا گیا ہے۔
عثمان کاکڑ کی تدفین کے موقع پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور عثمان کاکڑ کے بیٹے خوشحال خان کاکڑ کے علاوہ پارٹی کے دیگر رہنماﺅں نے کہا تھا کہ ’عثمان کاکڑ کی موت طبعی نہیں ہے بلکہ انھیں قتل کیا گیا ہے۔‘ انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’قتل کے ذمہ دار ملک کے وہ دو خفیہ ادارے ہیں جن کا نام عثمان کاکڑ نے اپنی زندگی میں لیا تھا۔‘ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ‘اگر کوئی انصاف کر سکتا ہے تو ہم ان کو بتا سکتے ہیں کہ عثمان خان کاکڑ کو کس طرح دھمکیاں ملیں اور کس طرح لوگ ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان پر حملہ کیا۔‘ انھوں نے کہا کہ عثمان کاکڑ نے اپنی زندگی میں یہ کہا تھا کہ اگر انھیں یا ان کے خاندان کے کسی فرد کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری دو خفیہ اداروں پر عائد ہو گی۔ پشتونخوا میپ کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری اور عثمان کاکڑ کے قریبی رشتہ دار یوسف خان کاکڑ نے سینیٹ میں ان کے خطاب کے حوالے سے وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عثمان کاکڑ نے اس ویڈیو میں یہ واضح طور پر کہا تھا کہ انھیں دھمکیاں مل رہی ہیں۔
خیال رہے کہ اس ویڈیو میں عثمان کاکڑ نے چیئرمین سینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں ایک ذاتی بات کرنا چاہتا ہوں جو میں نے چھ سال میں نہیں کی۔ ہم پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے کہ ہم جمہوریت اور اپنے نظریات سے دستبردار ہو جائیں، قوموں کی بات کرنا چھوڑ دیں، پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرنا چھوڑ دیں اور جو غیر جمہوری قوتیں ہیں ان پر تنقید کرنا بند کر دیں۔‘ عثمان کاکڑ نے کہا تھا ’مجھے یہ اشارے اور پیغامات مل رہے ہیں لیکن میں یہ نہیں کر سکتا ہوں۔ مجھے کچھ ہوا، میرے بچوں کو کچھ ہوا اور میرے خاندان کو کچھ ہوا تو کوئی پرواہ نہیں کیونکہ مجھے میرے نظریات، جمہوریت، میری قوم اور پارلیمنٹ کی بالادستی زیادہ عزیز ہیں۔‘
’لیکن میں یہ ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ مجھے یا میرے خاندان کو اگر کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار دو انٹیلجینس ادارے ہوں گے، میں یہ اس لیے ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں تاکہ یہ گم کھاتے میں نہ جائے۔‘ انھوں نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ حقائق کی روشنی میں عثمان کاکڑ کی موت کی وجوہات کے بارے میں تحقیقات کی جائیں۔
کوئٹہ میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اس حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر کہا کہ عثمان کاکڑ کے بیٹے نے ایک دو بار یہ بات کہی ہے کہ ان کے والد کو قتل کیا گیا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ تحقیقات ہوں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اس کے لیے تیار ہے۔ تاہم اب ایک اعلی سطحی عدالتی تحقیقاتی کمیشن قائم کرتے ہوئے بلوچستان حکومت نے اس کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے۔
