خواجہ سرا سوسائٹی کے سب سے ٹھوس، مضبوط لوگ کیوں ہیں؟

اداکار علی رحمان خان نے انکشاف کیا ہے کہ ڈرامہ سیریل ’’گرو‘‘ میں خواجہ سرا کا کردار میرے لیے چیلنج سے کم نہیں تھا، داڑھی منڈوائی، بازو ویکس کروائے، پھر فُل میک اپ کے ساتھ لگا اب میں تیار ہوں، خواجہ سرا ذہنی اور جسمانی طور پر ہماری سوسائٹی کے سب سے ٹھوس اور مضبوط لوگ ہیں جس شخصیت پر آپ کو کل تنقید ملے، آپ کا مذاق اڑے وہی شخص بن کر اگلے دن واپس دنیا میں جانے کیلئے بہت ہمت چاہئے اور میرے دل میں اُن کے لیے بہت عزت ہے۔یہ خیالات پاکستانی اداکارعلی رحمان خان کے ہیں جو نجی چینل ’ایکسپریس انٹرٹینمنٹ‘ پر پیش کیے جانے والے ڈرامہ سیریل ’گرو‘ میں مرکزی کردار گرو ستار کا کردار ادا کر رہے ہیں، ’گرو‘ کی کہانی ایک خواجہ سرا کی ہے جو سڑک کنارے سے ملنے والی ایک لاوارث بچی کو پال پوس کر ڈاکٹر بناتا ہے، ڈرامے کے پروڈیوسرز شازیہ وجاہت اور وجاہت رؤف ہیں اور ہدایتکاری بلاول حُسین عباسی نے کی ہے۔ڈرامے کی کاسٹ میں علی رحمان خان کے علاوہ حرا خان، حمیرا اصغر علی، ژالے سرحدی، محسن اعجاز، عمر عالم، عرفان موتی والا، شہریار زیدی، فوزیہ مشتاق اور چائلڈ آرٹسٹ ریواہا نے بھی کام کیا ہے۔بی بی سی اردو کے ساتھ انٹرویو میں علی رحمان خان نے بتایا کہ انھوں نے ’گرو‘ کی کہانی یہ ڈرامہ کرنے سے ڈھائی سال پہلے ایک دوست سے کسی دوسری جگہ سُن رکھی تھی اور فوراً کہا تھا کہ اُنھیں یہ پراجیکٹ کرنا ہے لیکن وہ بات آئی گئی ہو گئی اور ایکپسریس کی پروڈیوسر حنا نے اتفاقاً اس پروجیکٹ کا ذکر کر دیا۔ مجھے پتا نہیں کیوں ایک دم سے کلک کیا کہ یہ سٹوری کہیں ایسی ایسی تو نہیں۔ تو انھوں نے کہا کہ ہاں یہ وہی سٹوری ہے۔ میرا خیال ہے کہ کبھی کبھی شاید قسمت لکھی ہوتی ہے۔کہانی پسند ہونے کے باوجود علی رحمان کے کچھ خدشات تھے۔ علی بتاتے ہیں کہ ’میرے لیے یہ چیلنج تھا کہ لوگ مجھے اس روپ میں دیکھیں گے تو کیا کہیں گے کہ کیا کرنے جا رہا ہے۔ میری توجہ اس بات پر بھی تھی کہ میں اسے کتنا مستند انداز میں اور ایمانداری سے کر سکتا ہوں۔انھوں نے بتایا کہ اس ڈرامے کے سلسلے میں انھوں نے کافی تحقیق کی اور تہیہ کیا کہ جو کام پہلے ہو چکا ہے اُس کی نقل نہیں کرنی۔خواجہ سراؤں کے درمیان گزارے وقت کی بات کرتے ہوئے علی نے کہا کہ ’وہ لوگ یہی کہتے ہیں کہ ہم تو آپ کی طرح نارمل لوگ ہیں۔ میں نے تو خیر یہ بطور آرٹ ایک کیریکٹر کیا لیکن ایک انسان کو ہر روز اُس کے دِیکھنے کے انداز پر تنقید مل رہی ہو، جس طرح آپ کپڑے پہن رہے ہیں، جس طرح آپ چل رہے ہیں، جس طرح آپ کا حُلیہ ہے، پھر رات کو سو کے دوسرے روز اُسی طرح واپس اُٹھ کے وہی چیز دوبارہ کرنا، اُس کے لیے ہمت چاہئے۔ڈرامہ سیریل ’گرو‘ میں علی رحمان نے جس گرو کو متعارف کروایا وہ اُس خاکے سے یکسر مختلف ہے جو عموماً ٹیلی وژن پر پیش کیا جاتا ہے، اس بارے میں علی رحمان کہتے ہیں کہ ’مجھے اُن کا تضحیکی خاکہ نہیں بنانا تھا۔ اگر آپ خواجہ سرا کے بارے میں سوچیں تو آپ کے دماغ میں ایک پکچر آ جاتی ہے کہ خواجہ سرا ایک خاص انداز، لہجہ اور چال کے ساتھ چلتے ہیں۔علی رحمان نے کہا کہ ’میرے خیال میں وہ اُن کا ایک شو ہوتا ہے۔ وہ جب لوگوں سے ملتے ہیں تو وہ بالکل ایک بناوٹی طریقے سے ملتے ہیں لیکن جب وہ اپنے گھر میں ہوتے ہیں تو وہ بالکل اس طرح نہیں ہوتے۔ بالکل نارمل ہوتے ہیں اور نارمل باتیں کرتے ہیں۔ میں نے دِکھانا تھا کہ وہ گھروں میں کیسے ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ کیسے باتیں کرتے ہیں۔ اُن کا ایک دوسرے کے ساتھ رویہ کیسا ہوتا ہے۔ ہم نے پتا نہیں کیوں اُن کا تضحیک آمیز خاکہ بنایا ہوا ہے اور میں نے یہ نہیں کرنا تھا۔
