اداکار عمیر رانا کو شادی کے وقت گھر والوں نے کیا سمجھایا؟

معروف اداکار عمیر رانا نے انکشاف کیا کہ ان کی شادی پر بھی پنجابی گھرانوں کی طرح گھر والوں کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ بیوی کو تمہاری کمزوریوں کو پتا نہیں چلنا چاہئے اور نہ ہی انہیں کمزور پڑنا، اسی طرح انہیں بھی کہا گیا کہ تمہاری بیوی کو تمہاری کمزوریوں کا پتا نہیں چلنا چاہئے۔سینئر اداکار حال ہی میں ہنسنا منع ہے میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے کیریئر سمیت دیگر معاملات پر کھل کر باتیں کیں۔انہوں نے تھیٹر سے اداکاری کی شروعات کی اور گوہر رشید و شفیع فارس ان کے شاگرد ہیں لیکن انہوں نے ان سے بہت کچھ سیکھا، انہیں کئی سال قبل مشورہ دیا گیا کہ اگر وہ ہیرو بننا چاہتے ہیں تو اپنے بالوں کی رنگت تبدیل کریں لیکن انہوں نے کبھی بھی ایسا نہیں کیا، انہیں ہیرو نہیں بلکہ اداکار بننے کا جنون تھا اور انہوں نے کبھی بھی خود کو تبدیل کرکے اداکار بننا پسند نہیں کیا۔اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے عمیر رانا نے بتایا کہ کورونا کے وقت انہوں نے ایک انٹرویو میں مذاق میں کہا تھا کہ عامر خان نے ان کے بالوں کا انداز کاپی کیا اور لوگوں نے اس بات کر سچ سمجھ لیا، ان کی فلموں میں جہاں کمرشلائزیشن دیکھنے کو ملتی ہے، وہیں ان کی فلموں میں پیغام بھی ہوتا ہے، جس وجہ سے انہیں عامر خان بہت پسند ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ہر کسی کو ان جیسا ہونا چاہئے۔پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے ایک واقعہ سنایا جب وہ اور نعمان اعجاز کئی سال قبل ’سنگ مر مر‘ کی شوٹنگ کے لیے سوات میں تھے تب ایک بار شوٹنگ کے لیے جاتے وقت فوج کی چیک پوسٹ پر ڈرائیور نے سوال کرنے پر فوجی جوان کو بتایا کہ ہم لوگ شوٹنگ پر جا رہے ہیں۔عمیر رانا کا کہنا تھا کہ شوٹنگ کا لفظ سن کر فوجی غصے میں آگیا، جس پر ڈرائیور نے انہیں بتایا کہ ڈرامے کی شوٹنگ پر جا رہے ہیں اور ان کے ساتھ نعمان اعجاز بھی ہیں۔پروگرام کے دوران ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وہ ڈراموں کی طرح حقیقی زندگی میں سخت والد نہیں ہیں، انہیں یقین ہے کہ تمام والدین سخت نہیں ہوں گے لیکن چوں کہ پاکستان میں تمام مرد حضرات کی ایک خاص زاویے سے پرورش ہوتی ہے تو مرد حضرات کے حوالے سے تاثر ہوتا ہے کہ وہ سخت ہوتے ہیں۔ انہوں نے پروگرام میں شریک نوجوان افراد کو کہا کہ جس طرح والدین ان سے محبت اور شفقت سے پیش آیا کرتے ہیں، اسی

بندیال نے عمران کیلئے ہزاروں قیدیوں کے حقوق کیسے پامال کئے؟

طرح وہ بھی اپنے والدین کے ساتھ شفقت کے ساتھ پیش آیا کریں۔

Back to top button