امریکہ ایران امن معاہدہ کیسے طے پایا؟ حقائق سامنے آ گئے

امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدہ محض ایک سفارتی دستاویز نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے ایک انتہائی نازک اور پیچیدہ مرحلے کا نتیجہ ہے۔ نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط دشمنی، معاشی پابندیوں، پراکسی جنگوں اور فوجی محاذ آرائی کے بعد دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز تک لانے میں متعدد علاقائی قوتوں نے اہم کردار ادا کیا، جن میں قطر اور پاکستان سرفہرست رہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق معاہدے تک پہنچنے کا سفر غیر معمولی رکاوٹوں، مسلسل کشیدگی اور سفارتی آزمائشوں سے بھرپور تھا۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد از جلد کسی بڑی سفارتی کامیابی کے خواہاں تھے، جبکہ دوسری جانب ایرانی قیادت کو داخلی سیاسی حلقوں اور طاقتور ریاستی اداروں کو مطمئن کرنے کا چیلنج درپیش تھا۔ رپورٹ کے مطابق قطر نے پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ بننے کا کردار ادا کیا۔ قطری ثالثوں نے کئی ہفتوں تک دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کی ترسیل اور اعتماد سازی کی کوششیں جاری رکھیں۔ بعض مواقع پر مذاکرات اس قدر نازک مرحلے میں داخل ہو گئے کہ سفارتی وفود کو گھنٹوں انتظار اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان بھی اس پورے عمل میں خاموش مگر مؤثر کردار ادا کرتا رہا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد نے مختلف سطحوں پر رابطوں اور اعتماد سازی کے اقدامات میں معاونت فراہم کی۔ یہی وجہ تھی کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سب سے پہلے معاہدے کی پیش رفت کے حوالے سے مثبت اشارہ دیا، جسے بعد میں دیگر ذرائع سے بھی تقویت ملی۔
معاہدے کی بنیاد ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر رکھی گئی جس میں جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کی مکمل بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام پر نئے مذاکراتی فریم ورک کی تشکیل شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخائر اور جوہری سرگرمیوں پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی، جبکہ امریکا نے مرحلہ وار اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے امکان پر رضامندی ظاہر کی۔تاہم یہ سفارتی پیش رفت ہر مرحلے پر خطرات سے دوچار رہی۔ امریکی فضائی حملے، ایرانی جوابی اقدامات، اسرائیلی تحفظات اور خطے میں جنگ کے مسلسل خدشات مذاکراتی عمل کو بارہا متاثر کرتے رہے۔ ایک موقع پر قطری ثالثوں کو یہ احساس ہونے لگا کہ شاید تمام کوششیں ناکام ہو جائیں، لیکن سفارتی رابطوں کا سلسلہ منقطع نہ ہونے دیا گیا۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق ایک اہم مرحلہ اس وقت آیا جب قطری وفد تہران میں ایرانی حکام کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد واپسی کی تیاری کر رہا تھا۔ وفد کو محسوس ہو رہا تھا کہ فریقین کے درمیان ایک قابل عمل فریم ورک وجود میں آچکا ہے اور جنگ بندی کے استحکام کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ لیکن اسی دوران امریکی لڑاکا طیاروں کی جانب سے جنوبی ایران میں اہداف کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے ایک مرتبہ پھر پورا عمل خطرے میں پڑ گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ دونوں فریق مکمل اعتماد کے بغیر بھی مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ حتمی دستخط ابھی باقی ہیں، لیکن پہلی بار ایک ایسا فریم ورک سامنے آیا ہے جو مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی جنگ سے بچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں نئی جہت پیدا ہو سکتی ہے بلکہ خلیج، مشرق وسطیٰ اور عالمی توانائی منڈیوں میں بھی استحکام کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔ تاہم اسرائیل کے تحفظات، علاقائی طاقتوں کے مفادات اور باہمی عدم اعتماد کے باعث یہ عمل اب بھی ایک نازک مرحلے میں داخل ہے۔فی الحال دنیا کی نظریں اس سوال پر مرکوز ہیں کہ کیا یہ معاہدہ واقعی نصف صدی پرانی دشمنی کو ختم کرنے کا آغاز ثابت ہوگا یا پھر ماضی کی طرح ایک اور سفارتی کوشش علاقائی سیاست کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔
