فیصل واوڈا اور وزیراعظم کے مشیرہارون اختر آمنے سامنے آ گئے

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں آٹو سیکٹر سے متعلق 125 ارب روپے کے مبینہ نقصان پر سخت جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا، جہاں سینیٹر فیصل واوڈا اور وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر آمنے سامنے آ گئے۔
اجلاس میں ہارون اختر نے کہا کہ سینیٹرز کو سوالات اٹھانے کا مکمل حق حاصل ہے، تاہم وزارت صنعت و پیداوار پر الزامات عائد کرنے سے قبل اس کا مؤقف بھی لیا جانا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملے میں یکطرفہ نقطۂ نظر کو زیادہ نمایاں کیا گیا۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے واضح کیا کہ ان کا ہارون اختر کے ساتھ کوئی ذاتی اختلاف نہیں اور انہوں نے جو بات کی وہ وزارت کے اپنے دستاویزات اور ریکارڈ کی بنیاد پر کیا اگران کے الزامات یا اعداد و شمارغلط ثابت ہوئے تو وہ معذرت کرنے کے لیے تیار ہیں۔
فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ گاڑیوں کی درآمدات میں رکاوٹوں اور پالیسی مسائل کے باعث گزشتہ سات ماہ کے دوران قومی خزانے کو 125 ارب روپے کے ریونیو نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ وہ ماضی میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بھی اپنی ہی جماعت کی کابینہ کے خلاف مؤقف اختیار کر چکے ہیں۔
جواب میں ہارون اختر نے کہا کہ ابتدا میں کرپشن اور بے ضابطگی کا الزام لگایا گیا، لیکن اب اسے ریونیو نقصان قرار دیا جا رہا ہے، جو دونوں مختلف معاملات ہیں۔ اجلاس میں اس معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی جبکہ کمیٹی نے متعلقہ امور کا مزید جائزہ لینے کا عندیہ دیا۔
