تنخواہوں میں7،پنشن میں 3.5فیصداضافہ،پنجاب کابجٹ پیش

تنخواہوں میں7،پنشن میں 3.5فیصداضافہ،پنجاب اسمبلی میں وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان نے مالی سال 27-2026 کا 5 ہزار 903 ارب روپے حجم کا بجٹ ایوان میں پیش کردیا۔
پنجاب اسمبلی میں وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان نے مالی سال 27-2026 کا 5 ہزار 903 ارب روپے حجم کا بجٹ ایوان میں پیش کردیا۔ حکومت پنجاب نے اس بجٹ کو معاشی استحکام، ترقیاتی منصوبوں، سماجی تحفظ اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کا جامع منصوبہ قرار دیا ہے۔
سپیکر ملک احمد خان کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی شریک ہوئیں۔
پنجاب اسمبلی میں وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ حکومت پنجاب نے اس بجٹ کو معاشی استحکام، ترقیاتی منصوبوں، سماجی تحفظ اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کا جامع منصوبہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ نواز شریف کی رہنمائی اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ مشکل حالات میں ملک کو بحرانوں سے نکالا اور موجودہ بجٹ میں صرف آئندہ کے اہداف نہیں بلکہ گزشتہ سال کی کارکردگی کا حساب بھی شامل ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق پنجاب حکومت نے مالی نظم و ضبط کی پالیسی کے تحت غیر ضروری اخراجات میں نمایاں کمی کی۔ صوبائی کابینہ اور سیکرٹریز نے 3 ماہ کی تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا فیصلہ کیا، جبکہ اراکین اسمبلی کی دو ماہ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی کی گئی۔ سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں 60 فیصد کمی لا کر قومی خزانے کو بچت فراہم کی گئی۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق روزمرہ اخراجات میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ مجموعی اخراجات میں صرف 3.1 فیصد اضافہ ہوا ہے، جسے کفایت شعاری پالیسی کا مثبت نتیجہ قرار دیا گیا۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے لیے 25 ارب 35 کروڑ روپے، بورڈ آف ریونیو کے لیے 18 ارب 95 کروڑ روپے، پولیس کے لیے 12 ارب 88 کروڑ روپے، انفارمیشن و کلچر کے لیے 6 ارب 70 کروڑ روپے، ٹرانسپورٹ کے لیے 78 ارب 50 کروڑ روپے، عدلیہ کے لیے 3 ارب روپے اور قانون و پارلیمانی امور کے لیے 2 ارب 20 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
محفوظ پنجاب ویژن کے تحت پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مجموعی طور پر 252 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
سکولوں کی مخدوش عمارتوں کی بحالی، اضافی کلاس رومز کی تعمیر اور تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
ڈیرہ غازی خان میں ویمن یونیورسٹی کے قیام کے لیے 55 کروڑ روپے جبکہ شاہدرہ لاہور میں آٹومیٹڈ ٹیکنالوجیز سینٹر کے لیے 99 کروڑ روپے کا تخمینہ رکھا گیا ہے۔
یوتھ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کے لیے 39 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سکلز فار گلوبل نیڈز پروگرام کے تحت 2 لاکھ 40 ہزار افراد کو تربیت فراہم کی جائے گی جبکہ پرواز کارڈ کے ذریعے نوجوانوں کو عالمی معیار کی تربیت اور بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
تعمیرات، صحت، آٹو موٹیو سمیت 12 عالمی تربیتی پروگرام متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ اس پروگرام سے سالانہ ترسیلات زر میں 466 ملین ڈالر اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
فرنٹیئر ٹیک سکلز انویٹ پنجاب پروگرام کے لیے 12 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کے تحت 60 لاکھ افراد کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت اور 15 لاکھ فرنٹیئر ٹیک گریجویٹس تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
کسان کارڈ پروگرام کے لیے 10 ارب روپے جبکہ گرین ٹریکٹر پروگرام کے لیے 16 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سوشل سیکیورٹی راشن کارڈ کے لیے 40 ارب روپے، پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی تنظیم نو کے لیے 2 ارب روپے، وزیراعلیٰ دھی رانی پروگرام کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے اور عافیت اولڈ ایج ہوم کے قیام کے لیے 2 ارب 6 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
آئمہ مساجد کے لیے 18 ارب 50 کروڑ روپے جبکہ منیارٹی کارڈ پروگرام کے لیے 4 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
فیصل آباد اور گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ سسٹم کے لیے 26 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ تحصیل ہیڈکوارٹرز کے لیے 2 ہزار الیکٹرک بسوں کی فراہمی کا منصوبہ بھی بجٹ میں شامل ہے۔
ریلوے ٹریکس کی بحالی کے لیے 10 ارب روپے اور نہری نظام کی بہتری کے لیے 61 ارب 14 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس رعایت 95 فیصد سے بڑھا کر 99 فیصد کرنے کا اعلان کیا گیا جبکہ سموگ کے خاتمے کے لیے رواں مالی سال میں 123 ارب روپے خرچ کیے جانے کا انکشاف کیا گیا۔ حکومت نے پرانی اور آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کی واپسی کی سکیم متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا ہے۔
