امریکہ اور ایران کا امن معاہدہ کتنا عرصہ برقرار رہ پائے گا؟

پاکستانی ثالثی کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر اتفاق رائے سامنے آ گیا ہے، لیکن اصل سوال اب بھی برقرار ہے کہ کیا 19 جون کو اس معاہدے پر واقعی دستخط ہو جائیں گے اور اگر ایسا ہو بھی گیا تو کیا یہ معاہدہ دیرپا ثابت ہو سکے گا؟
پاکستان کی سفارتی کاوشوں، خلیجی ممالک کی حمایت اور کئی ماہ پر محیط پس پردہ مذاکرات کے بعد سامنے آنے والی اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں اس معاہدے کی تصدیق کر چکے ہیں اور اطلاعات ہیں کہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں اس پر باضابطہ دستخط کیے جائیں گے۔ تاہم سفارتی اور تزویراتی حلقوں میں اس وقت سب سے زیادہ بحث اسی بات پر ہو رہی ہے کہ کیا یہ معاہدہ دستخطی مرحلے تک پہنچ پائے گا اور اس کے بعد اس پر عملدرآمد ممکن ہو سکے گا۔
اگرچہ اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، لیکن ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ ان کے مطابق دستخطوں سے پہلے اور بعد کے چند دن اس معاہدے کی قسمت کا فیصلہ کریں گے کیونکہ امریکا، ایران، اسرائیل اور خطے کی دیگر طاقتوں کے مفادات اب بھی مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہوئے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو اپنی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی جہاز رانی کے لیے کھلی رہے گی اور امریکا اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔ اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے "تیل کو بہنے دیں” کا نعرہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور معاشی بحالی کا باعث بنے گا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق امریکا اور ایران نے لبنان سمیت مختلف محاذوں پر فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کر لیا ہے اور اب توجہ سیاسی اور سفارتی حل پر مرکوز ہوگی۔ پاکستانی حکام اس پیش رفت کو اسلام آباد کی خاموش مگر مؤثر سفارت کاری کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے کئی ماہ تک واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سعودی عرب، قطر اور ترکیہ نے بھی مختلف مراحل میں معاونت فراہم کی، تاہم اسلام آباد کو ایک ایسے رابطہ کار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس نے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد سازی میں مدد دی۔
سابق وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کے مطابق یہ پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے کیونکہ اس سے عالمی سطح پر ملک کی ساکھ میں اضافہ ہوگا اور خلیجی ممالک، امریکا اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی و سیکیورٹی تعلقات مضبوط ہو سکتے ہیں۔
سابق سفارتکار مسعود خالد کا کہنا ہے کہ پاکستان واحد ثالث نہیں تھا، لیکن اس نے ایک ذمہ دار اور قابل اعتماد سہولت کار کے طور پر اپنا کردار ادا کیا، جس کی عالمی سطح پر پذیرائی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ معاہدے کا اعلان ہو چکا ہے، لیکن اس کی تفصیلات ابھی تک مکمل طور پر منظر عام پر نہیں آئیں۔ یہی وجہ ہے کہ مبصرین اسے "دستخط سے پہلے کا امن” قرار دے رہے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق ایران کا کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنا اس معاہدے کا بنیادی جزو ہے اور امریکا اس بات کی تصدیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ تہران اپنی ذمہ داریوں پر عمل کر رہا ہے۔ لیکن ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران جوہری پروگرام ہی وہ مسئلہ رہا ہے جس نے متعدد سفارتی کوششوں کو ناکام بنایا۔
اسی لیے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے بھی محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حتمی پیش رفت دوسرے فریق کی عملی پابندیوں سے مشروط ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں دونوں ممالک ابھی بھی ایک دوسرے پر مکمل اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔
بہت سے سیاسی اور عسکری تجزیہ کاروں کے نزدیک اس معاہدے کا مستقبل کسی حد تک اسرائیل کے رویے سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ بحران محض امریکا اور ایران کے درمیان نہیں تھا بلکہ اس میں اسرائیل ایک اہم فریق کے طور پر موجود رہا۔ صدر ٹرمپ خود اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ بعض اسرائیلی اقدامات پر ناراض تھے کیونکہ ان سے ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر لبنان یا شام کے محاذ پر دوبارہ کشیدگی پیدا ہوئی تو امن عمل شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اسرائیل اور ایران کے اتحادیوں کے درمیان دوبارہ تصادم شروع ہوتا ہے تو تہران آبنائے ہرمز کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کر سکتا ہے، جس سے نہ صرف معاہدہ متاثر ہوگا بلکہ عالمی معیشت کو بھی دھچکا لگ سکتا ہے۔ معاہدے کے اعلان کے بعد توانائی کی عالمی منڈیوں میں محتاط امید پیدا ہوئی ہے۔ سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر آبنائے ہرمز مکمل طور پر محفوظ اور فعال رہتی ہے تو تیل کی سپلائی معمول پر آ سکتی ہے اور قیمتوں میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم توانائی کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ جنگ کے دوران متاثر ہونے والے بحری راستوں، سیکیورٹی انتظامات اور بارودی سرنگوں کی صفائی جیسے معاملات فوری طور پر حل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق تجارت اور تیل کی ترسیل کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
امریکی سیاست میں بھی اس معاہدے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ حالیہ عوامی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام کی بڑی تعداد معاشی صورتحال سے مطمئن نہیں۔ مہنگائی، توانائی کی قیمتوں اور معاشی سست روی کے خدشات نے وائٹ ہاؤس پر دباؤ بڑھایا ہے۔ اسی تناظر میں سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر ایران کے ساتھ امن معاہدہ توانائی کی قیمتوں میں کمی اور معاشی استحکام کا باعث بنتا ہے تو اس کا سیاسی فائدہ صدر ٹرمپ اور ان کی جماعت کو حاصل ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر معاہدہ ناکام ہوا یا خطے میں دوبارہ کشیدگی بھڑک اٹھی تو یہی سفارتی کامیابی سیاسی بوجھ بھی بن سکتی ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے اہم مرحلہ 19 جون کو متوقع دستخطی تقریب ہے۔ اگر اس تقریب سے پہلے کوئی بڑا عسکری واقعہ پیش نہیں آتا اور دونوں فریق اپنی ابتدائی یقین دہانیوں پر قائم رہتے ہیں تو معاہدہ باضابطہ شکل اختیار کر سکتا ہے۔ تاہم ماہرین متفق ہیں کہ اصل سوال دستخط نہیں بلکہ عملدرآمد ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر نگرانی، امریکی پابندیوں میں نرمی، اسرائیل کا کردار، لبنان اور شام کی صورتحال، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور فریقین کے درمیان اعتماد کی کمی وہ عوامل ہیں جو آنے والے مہینوں میں اس معاہدے کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کریں گے۔فی الحال یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ایک امید ضرور پیدا کر چکا ہے اور پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی بھی تصور کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ امن ابھی نازک بنیادوں پر کھڑا ہے۔ 19 جون کو ہونے والے ممکنہ دستخط شاید ایک نئے باب کا آغاز ہوں، مگر یہ باب کتنا طویل اور کتنا پائیدار ہوگا، اس کا فیصلہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں ہونے والی پیش رفت کرے گی۔
