3 برس سے قید عمران خان ماضی کا قصہ کیوں بن گئے؟

پچھلے تین برس سے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید عمران خان اب ماضی کا قصہ بنتے نظر آتے ہیں کیونکہ ان کی رہائی کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو مختلف کرپشن اور دیگر مقدمات میں جیل میں بند ہوئے تقریباً تین برس مکمل ہونے کو ہیں، لیکن اس طویل عرصے کے دوران ان کی جماعت تحریک انصاف نہ تو ان کی رہائی کے لیے کوئی مؤثر سیاسی دباؤ پیدا کر سکی اور نہ ہی حکومت یا ریاستی فیصلہ سازوں کو اپنی شرائط ماننے پر مجبور کر سکی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس ناکامی کی بڑی وجوہات میں تحریک انصاف کی کمزور ہوتی سٹریٹ پاور، اندرونی انتشار اور قیادت کا بحران شامل ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھا جب تحریک انصاف چند گھنٹوں کے نوٹس پر ملک بھر میں لاکھوں افراد کو سڑکوں پر لانے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ اسلام آباد دھرنے، جلسے اور احتجاجی تحریکیں اس جماعت کی سب سے بڑی سیاسی طاقت سمجھی جاتی تھیں، تاہم گزشتہ چند برسوں میں حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں اور پارٹی اپنی اس بنیادی طاقت سے تقریباً محروم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

سیاسی حلقوں کے مطابق عمران خان کی گرفتاری کے بعد پارٹی نے متعدد احتجاجی تحریکوں، جلسوں اور لانگ مارچز کا اعلان کیا، مگر ان میں سے کوئی بھی حکومت یا ریاستی اداروں پر وہ دباؤ پیدا نہیں کر سکا جس کی قیادت کو توقع تھی۔ نتیجتاً عمران خان کی قانونی یا سیاسی صورتحال میں کوئی بڑی تبدیلی سامنے نہیں آ سکی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف کی تنظیمی ساخت کو شدید دھچکا پہنچا۔ سینکڑوں کارکنان اور رہنما قانونی مقدمات کی زد میں آئے جبکہ متعدد اہم شخصیات نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس صورتحال نے نہ صرف تنظیمی ڈھانچے کو کمزور کیا بلکہ کارکنوں کے اعتماد کو بھی متاثر کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف اس وقت اندرونی اختلافات کا شکار ہے۔ پارٹی کے مختلف دھڑوں کے درمیان حکمت عملی کے حوالے سے واضح اختلافات موجود ہیں۔ بعض رہنما مزاحمتی سیاست کے حامی ہیں جبکہ بعض کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں مفاہمت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیے بغیر کوئی سیاسی پیش رفت ممکن نہیں۔ پارٹی معاملات میں عمران خان کی بہنوں کی بےجا مداخلت بھی تحریک انصاف کو کمزور کرتی جا رہی ہے۔ پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کے بحران کی ایک مثال حالیہ دنوں میں اس وقت سامنے آئی جب عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر دس ہزار کارکن جمع کرنے کی تجویز دی۔ اگرچہ بعض پارٹی رہنماؤں نے اس تجویز کی حمایت کی، لیکن اس پر فوری اور متفقہ فیصلہ سامنے نہ آ سکا جس سے قیادت کے اندر موجود اختلافات مزید نمایاں ہو گئے۔ اس تجویز کے مخالفین کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی مہینوں میں اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان کے حق میں 10 لوگ بھی جمع نہیں ہوئے جبکہ علیمہ خان 10 ہزار لوگ جمع کرنے کی ناقابل عمل تجویز دے رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف آج اس پوزیشن میں نہیں رہی کہ وہ ماضی کی طرح ملک گیر احتجاجی تحریک چلا سکے۔ کئی مرتبہ احتجاجی کالز دی گئیں لیکن ان میں عوامی شرکت توقعات سے کہیں کم رہی، جس نے پارٹی کی زمینی طاقت کے بارے میں سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمایاں اپوزیشن موجود ہونے کے باوجود تحریک انصاف حکومت کے خلاف مؤثر سیاسی دباؤ پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ پارلیمان کے اندر اور باہر دونوں محاذوں پر جماعت کو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حکومت رکھنے کے باوجود تحریک انصاف وفاقی حکومت کے خلاف وہ سیاسی مہم چلانے میں ناکام رہی جس کی توقع اس کے کارکن کرتے تھے۔ صوبائی حکومت بھی عمران خان کی رہائی کے معاملے پر کوئی غیرمعمولی سیاسی دباؤ پیدا نہیں کر سکی۔

موجودہ صورتحال کا سب سے نمایاں اثر عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں کے معاملے پر نظر آتا ہے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق چونکہ حکومت یا ریاستی اداروں پر کسی قسم کا مؤثر سیاسی دباؤ موجود نہیں، اس لیے گزشتہ کئی ماہ سے عمران خان کے اہل خانہ، قریبی ساتھیوں اور بعض وکلاء کی ملاقاتوں کے حوالے سے بھی مسلسل مشکلات سامنے آ رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر تحریک انصاف واقعی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتی تو ممکن ہے ملاقاتوں کے معاملات سمیت دیگر سیاسی رعایتوں کے حوالے سے صورتحال مختلف ہوتی، لیکن موجودہ حالات میں پارٹی خود دفاعی پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے۔
حکومتی حلقوں کا مؤقف مسلسل یہی رہا ہے کہ عمران خان کے خلاف مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور ان کا حل صرف قانونی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ حکومت یہ بھی کہتی ہے کہ کسی سیاسی دباؤ یا احتجاج کے نتیجے میں عدالتی معاملات پر اثرانداز نہیں ہوا جا سکتا۔

تاہم پاکستانی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بڑے سیاسی بحران اکثر صرف عدالتوں کے ذریعے حل نہیں ہوئے بلکہ پس پردہ مذاکرات، سیاسی مفاہمت اور طاقتور حلقوں کے ساتھ روابط نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب تحریک انصاف کے اندر بھی مفاہمت کی بحث دوبارہ زور پکڑ رہی ہے۔ پارٹی کے بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ مسلسل احتجاجی سیاست اور محاذ آرائی کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے، اس لیے اب کسی نہ کسی سطح پر مذاکرات اور سیاسی رابطوں کا راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سخت گیر حلقے اب بھی مزاحمتی سیاست کو ہی واحد راستہ قرار دیتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ منظرنامے میں عمران خان کی رہائی کا راستہ صرف سڑکوں پر احتجاج سے نکلتا دکھائی نہیں دیتا۔ ان کے۔مطابق جب تک تحریک انصاف اپنی اندرونی تقسیم پر قابو نہیں پاتی، قیادت کے بحران کو حل نہیں کرتی اور اپنی کھوئی ہوئی عوامی و تنظیمی طاقت بحال نہیں کرتی، تب تک حکومت یا فیصلہ ساز حلقوں پر کوئی مؤثر دباؤ پیدا ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً تین برس گزرنے کے باوجود عمران خان کی رہائی کا معاملہ جوں کا توں ہے اور مستقبل قریب میں بھی کسی بڑی پیش رفت کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

Back to top button