قیام امن کیلئے افغان طالبان کی دھلائی ضروری کیوں؟

پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز میں افغانستان سے جڑی دہشت گردی ایک مرتبہ پھر مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ قومی اسمبلی میں وزیر دفاع خواجہ آصف کی حالیہ تقریر نے نہ صرف پاک افغان تعلقات کی موجودہ نوعیت کو اجاگر کیا بلکہ یہ بھی واضح کر دیا کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان اعتماد کا بحران بدستور برقرار ہے۔
خواجہ آصف کے بیان کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ افغان طالبان دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے زبانی یقین دہانیاں تو دیتے ہیں، لیکن تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حوالے سے تحریری ضمانت دینے پر آمادہ نہیں۔ اس مؤقف نے ان شکوک و شبہات کو مزید تقویت دی ہے جو پاکستان طویل عرصے سے افغان سرزمین کے استعمال کے حوالے سے ظاہر کرتا رہا ہے۔ وزیر دفاع کا یہ انکشاف بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے عناصر کو افغانستان کے دور دراز علاقوں میں منتقل کرنے کے عوض دس ارب روپے کی رقم طلب کی تھی۔ اگرچہ پاکستان اس تجویز پر آمادگی ظاہر کرنے کو تیار تھا، لیکن بنیادی سوال یہی تھا کہ اس اقدام کے بعد کیا ضمانت موجود تھی کہ یہ عناصر دوبارہ پاکستان کی سرحدوں کے قریب آ کر سرگرم نہیں ہوں گے۔
مبصرین کے مطابق اصل مسئلہ یہی ہے کہ پاکستان کی تشویش صرف دہشت گردوں کی جغرافیائی منتقلی نہیں بلکہ ان کے مکمل خاتمے اور افغان سرزمین کے پاکستان مخالف سرگرمیوں کیلئے استعمال نہ ہونے کی ضمانت ہے۔ یہی نکتہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ بنتا جا رہا ہے۔ پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ دوحہ معاہدے کی روح کے مطابق افغانستان کی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم زمینی حقائق اس دعوے سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہونے والی متعدد دہشت گرد کارروائیوں کے تانے بانے افغان سرزمین سے جوڑے جاتے رہے ہیں اور پاکستان اس حوالے سے مختلف ممالک کو شواہد بھی فراہم کر چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے بقول گزشتہ چند برسوں میں چین نے بھی اپنے علاقائی مفادات کے پیش نظر پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمتی کوششوں کی حمایت کی۔ کئی سفارتی نشستوں میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش ہوئی، لیکن عملی پیش رفت محدود رہی۔ حتیٰ کہ وہ ممالک بھی جو افغان طالبان کے ساتھ نسبتاً بہتر تعلقات رکھتے ہیں، افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کے پالیسی ساز حلقوں میں یہ سوچ مضبوط ہو رہی ہے کہ محض روایتی سفارت کاری یا زبانی یقین دہانیوں پر انحصار کافی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان سفارتی سطح پر اپنے مؤقف کو مزید مؤثر انداز میں عالمی برادری کے سامنے پیش کرے، دوحہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرے اور علاقائی و عالمی طاقتوں کو اس مسئلے کے حل میں شریک کرے۔
تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ جارحانہ حکمت عملی کا مطلب صرف عسکری اقدامات نہیں ہونا چاہیے۔ ایک مؤثر حکمت عملی میں مضبوط سفارت کاری، بارڈر مینجمنٹ، انٹیلی جنس تعاون، علاقائی شراکت داری اور داخلی استحکام بنیادی ستونوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ جب تک پاکستان اندرونی سطح پر سیاسی اور معاشی استحکام حاصل نہیں کرتا، بیرونی چیلنجز سے نمٹنا مزید پیچیدہ ہوتا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خواجہ آصف نے اپنی تقریر میں ماضی کی پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایک اہم سوال بھی اٹھایا کہ کیا پاکستان نے ماضی میں بڑی طاقتوں کے مفادات کے تحت افغانستان میں جو کردار ادا کیا، وہ ملک کے طویل المدتی مفاد میں تھا؟ یہ سوال دراصل پاکستان کی خارجہ اور سلامتی پالیسی کے ایک بڑے تاریخی باب کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ریاستوں کو بالآخر اپنے قومی مفادات کو ہی ترجیح دینا پڑتی ہے۔ پاکستان کے لیے بھی اب سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خطرے کا مؤثر سدباب کرے، افغانستان کے ساتھ تعلقات کو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر استوار کرے اور ایسی پالیسی اختیار کرے جو قومی سلامتی، علاقائی استحکام اور طویل المدتی مفادات کو یکجا کر سکے۔ مبصرین کے بقول موجودہ حالات میں یہ واضح نظر آتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ایک نئے امتحان سے گزر رہے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں یہ طے ہوگا کہ دونوں ممالک باہمی اعتماد کی بحالی کی طرف بڑھتے ہیں یا خطے میں سیکیورٹی کے خدشات مزید گہرے ہوتے ہیں۔
