ایران پر ڈالرز کی بارش جاری، 300ارب ڈالر کا نجی سرمایہ کاری فنڈ قائم

امریکا اور ایران امن معاہدے کے تحت 300 ارب ڈالر کا نجی سرمایہ کاری فنڈ قائم کیا جائے گا تاکہ ایران میں توانائی، لاجسٹکس، مینوفیکچرنگ کےشعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت 300 ارب ڈالر کا ایک بڑا نجی سرمایہ کاری فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد ایران میں معاشی بحالی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ فنڈ براہِ راست مالی امداد نہیں ہوگا بلکہ سرمایہ کاری کی بنیاد پر کام کرے گا۔ معاہدے کی حتمی توثیق اور دستخط کے بعد یہ فنڈ باضابطہ طور پر فعال ہوگا۔ ذرائع کے مطابق فنڈ کے لیے درکار سرمایہ کا نصف سے زیادہ حصہ پہلے ہی مختلف سرمایہ کاروں اور اداروں کی جانب سے یقینی بنایا جا چکا ہے۔ اس منصوبے میں امریکا، خلیجی ممالک، ایشیا اور افریقہ کی متعدد نجی کمپنیاں اور سرمایہ کاری ادارے شریک ہوں گے۔
رائٹرز کے مطابق اس فنڈ میں کسی بھی ملک کی سرکاری رقم شامل نہیں ہوگی، بلکہ تمام سرمایہ نجی شعبے سے حاصل کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ایران کے لیے براہِ راست مالی پیکیج کے بجائے ایک بین الاقوامی سرمایہ کاری پلیٹ فارم قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ 300 ارب ڈالر کا فنڈ ایران کے بیرونِ ملک منجمد اثاثوں سے مکمل طور پر الگ ہوگا۔ معاہدے کے تحت ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی بحالی کا عمل بھی علیحدہ طور پر جاری رہے گا اور اسے اس سرمایہ کاری فنڈ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو ایران کی توانائی، ٹرانسپورٹ، صنعت، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور تعمیراتی شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، جبکہ خطے کی معیشت اور عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اس کے اہم اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
