جی سیون اجلاس میں ٹرمپ نے مودی کو ٹھینگا کیسے دکھایا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان فرانس میں ہونے والی حالیہ ملاقات نے سفارتی حلقوں، سیاسی مبصرین اور بھارتی میڈیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بظاہر یہ ایک معمول کی ملاقات تھی، لیکن ملاقات کے دوران جسمانی زبان، باہمی رویے اور عوامی اظہار نے ایسے سوالات کو جنم دیا جو دونوں رہنماؤں کے تعلقات کی نوعیت سے متعلق نئی قیاس آرائیوں کا باعث بن رہے ہیں۔

تقریباً سولہ ماہ یا 489 دن بعد ہونے والی اس ملاقات سے قبل یہ توقع کی جا رہی تھی کہ ماضی کی طرح دونوں رہنما ایک دوسرے کا گرمجوشی سے استقبال کریں گے۔ دنیا نے ماضی میں کئی مواقع پر ٹرمپ اور مودی کو ایک دوسرے کے ساتھ غیر معمولی قربت کا مظاہرہ کرتے دیکھا تھا۔ "ہاؤڈی مودی” اور "نمستے ٹرمپ” جیسے بڑے عوامی اجتماعات دونوں رہنماؤں کی سیاسی دوستی کی علامت سمجھے جاتے رہے ہیں۔

تاہم فرانس میں منعقدہ جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر منظر مختلف دکھائی دیا۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق جب دونوں رہنما میٹنگ ہال میں داخل ہوئے تو انہوں نے رسمی مصافحہ کیا اور مختصر گفتگو کی، لیکن اس بار نہ وہ روایتی گرم جوشی دکھائی دی اور نہ ہی گلے ملنے کا وہ انداز نظر آیا جو ماضی میں دونوں رہنماؤں کی ملاقاتوں کا نمایاں حصہ ہوا کرتا تھا۔

مزید دلچسپ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب عالمی رہنما گروپ فوٹو کے لیے جمع ہوئے۔ تصاویر اور ویڈیوز میں امریکی صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم مودی کے درمیان واضح فاصلہ محسوس کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان فرانسیسی صدر موجود تھے جبکہ ٹرمپ کی توجہ زیادہ تر دیگر عالمی رہنماؤں کی جانب مرکوز رہی۔ بھارتی میڈیا نے ان مناظر کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں کوئی خاموش تبدیلی رونما ہو رہی ہے؟

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سفارت کاری میں جسمانی زبان اور غیر لفظی اشارے اکثر اہم پیغامات دیتے ہیں۔ اگرچہ کسی ایک تصویر یا مختصر ملاقات کی بنیاد پر بڑے نتائج اخذ کرنا قبل از وقت ہو سکتا ہے، لیکن بین الاقوامی سیاست میں ایسی علامتیں اکثر تعلقات کی سمت کا اشارہ سمجھی جاتی ہیں۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ حالیہ مہینوں میں عالمی سیاسی منظرنامے میں آنے والی تبدیلیاں، جنوبی ایشیا کی صورتحال، تجارتی معاملات اور مختلف علاقائی تنازعات نے امریکا اور بھارت کے تعلقات کے انداز کو متاثر کیا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب کچھ ماہرین اس تاثر کو بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے کے مترادف قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عالمی سربراہی اجلاسوں میں مختصر ملاقاتوں کو تعلقات کی مکمل تصویر نہیں سمجھا جا سکتا۔ تاہم ایک حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ جی سیون اجلاس کی یہ ملاقات اس لیے غیر معمولی بن گئی کیونکہ دنیا ٹرمپ اور مودی کے درمیان ہمیشہ غیر معمولی گرم جوشی دیکھنے کی عادی رہی ہے۔ اس بار نہ گلے ملنے کا منظر دکھائی دیا، نہ غیر رسمی مسکراہٹوں کا تبادلہ نمایاں تھا اور نہ ہی وہ دوستانہ ماحول محسوس ہوا جو ماضی میں دونوں رہنماؤں کی ملاقاتوں کا خاصہ رہا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض ایک مصروف سفارتی اجلاس کا معمولی واقعہ تھا یا پھر امریکا اور بھارت کے تعلقات میں کسی نئی حقیقت کی جھلک؟ اس سوال کا جواب آنے والے مہینوں میں دونوں ممالک کے سفارتی اور سیاسی روابط سے ہی سامنے آئے گا۔

Back to top button